جبری شادی کی روک تھام: شادی ویزا کے لئے عمر کی حد میں اضافہ
شادی ویزا کے لئے عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 21 کر دی جائے گی تاکہ جبری شادیوں کی روک تھام کی جا سکے۔
اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کے جبری شادی یونٹ کے ہاتھوں نمٹائے جانے والے 30 فی صد کیسوں میں متاثرین کی عمر 18 اور 21 سال کے درمیان ہوتی ہے۔
یہ نئے اقدامات جبری شادیوں کے خلاف اقدامات کو نمایاں طور پر مستحکم کریں گے۔جن پانچ تجاویز کا اعلان کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
شادی ویزا کے لئے اسپانسر شپ کی عمر 18 سے بڑھاکر 21 سال کی جائے
غیر ملکی شریک حیات کے لئے بر طانیہ آنے سے پہلے انگریزی سیکھنے کے لئے معاہدہ کیا جائے
بر طانیہ میں قیام کی اجازت کی ان صورتوں میں منسوخی کے لئے اختیارات متعارف کرائے جائیں جہاں اس کی شہادت موجود ہو کہ شادی کے ویزا کا غلط استعمال کیا گیا ہے
تمام اسپانسرز کو بر طانیہ سے روانگی سے پہلے بیرون ملک شادی کے مقصد کو رجسٹر کرانا ضروری قرار دیا جائے
عملی ضابطوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے کہ ماہرین کی ٹیمیں جبری شادی کے ممکنہ متاثرین کی نشاندہی کر سکیں۔
ہوم سکریٹری جیکی اسمتھ نے اس موقع پر کہا ہے کہ
"جبری شادی کے نتیجے میں متاثرین کو برسوں جسمانی اور ذہنی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انتہائی صورتوں میں بات ناجائز حراست اور عصمت دری تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا ہمارے معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔اس لئے حکومت نے جبری شادی کے خاتمے اور اس کے متاثرین کی مدد اور تعاون کے لئے ہر ممکن اقدام کا تہیہ کر رکھا ہے۔
"اسی لئے ہم ویزا کے لئے عمر کی حد میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ جو شخص بھی شادی کرےاس میں اس کی پوری رضامندی شامل ہو اور بر طانیہ آنے والے انگریزی زبان سیکھ کر آئیں"۔
اپنے شریک حیات کے لئے برطانوی ویزا کی درخواست دینے والے بر طانوی شہری کو شادی کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے اپنی نیت کا اظہار کر نا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نوجوان کو پہلے سے یہ علم ہوگا کہ اس کی شادی بیرون ملک ہو رہی ہے اور کس سے ہو رہی ہے۔
ایک عملی گائیڈنس بھی متعارف کرائی جارہی ہے تاکہ یوکے بارڈر ایجنسی کا عملہ جبری شادی کے ممکنہ متاثرین کی اور ویزا کے غلط استعمال کی نشاندہی کر سکے تاکہ اسے روکا جا سکے۔ان صورتوں میں ہم یہ واضح کر سکیں گے کہ متاثرین کے حقوق کیا ہیں اور شادی ویزا کے کیس سے کیسے نمٹا جائے گا۔۔
نئے سخت ضابطوں کا مطلب ہوگا کہ شادی ویزا کے غلط استعمال کے مرتکب افراد کو ،لوگوں کے
بر طانیہ میں قیام کے حق کی منسوخی کے نئے اختیارات کے تحت یوکے بارڈر ایجنسی کے ذریعے ملک بدر کیا جا سکے گا۔
حکومت یہ یقین رکھتی ہے کہ بر طانیہ میں قیام کر نے والے افراد کو انگریزی پر بخوبی عبور ہونا چاہئیے تاکہ وہ بر طانوی طرز زندگی میں ضم ہو سکیں۔ بر طانیہ آنے سے پہلے ان کے شریک حیات کو انگریزی سیکھنے کے معاہدے پر دستخط کرنا ہونگے ۔ ان کی بر طانیہ آمد کے فورا بعد یوکے بارڈر ایجنسی یہ دیکھے گی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں یا نہیں ۔ نہیں کر رہے تو ان کے قیام کی اجازت کو منسوخ کیا جاسکے گا۔
بارڈر اور امیگریشن کے وزیر لئیم برن نے کہا ہے کہ
"بر طانوی شہریوں کو یہ حق ہے کہ وہ جس سے چاہیں شادی کریں ۔لیکن ہم چاہتے ہیں کہ نئے آنے والے ہمارے معاشرے میں کامیاب رہیں اور ہمارے مشترکہ معیار پر پورے اتریں۔اس کا مطلب ہے کہ شادی کے لئے وہ آزاد ہوں نہ کہ ان پر جبر کیا جائے اور اس کا مطلب ہے کہ نئے آنے والوں کو جلد انگریزی پر گرفت ہو سکے جبکہ قانون شکنی کرنے والوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے"۔
نئی گائیڈ لائنز سے پولیس، ٹیچروں اور ہیلتھ ورکروں کو جبری شادی کی علامات کو پہچاننے ، عملی کارروائی کرنے اور متاثرین کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔