Skip navigation

والدین کے ہاتھوں بچوں کا اغوا

والدین کے ہاتھوں بچوں کا اغوا عالمی سطح پر انسانی حقوق کے امور کے تحت آتا ہے۔ہمارے لئے یہ ایک سنگین مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں بخوبی احساس ہے کہ بچے کے اغوا اور پھر اس تک رسائی میں مشکلات سے خودبچے اور اس سے بچھڑ جانے والے ماں/باپ پرکیاگزرتی ہے۔

 

 

ہمارا بچوں کے اغوا سے متعلق سیکشن ان برطانوی والدین کی مدد کے لئے ہے جو اس مسئلے کا شکارہو جاتے ہیں۔ آپ ہم سے    0878 ۔7008 020  پر کام کے اوقات میں اور 1500 7008 020 پر کام کے اوقات کے بعد رابطہ کرسکتے ہیں۔

 

اگر آپ کے بچے کو آپ کی مرضی کے بغیر بیرون ملک لے جایا گیا ہے تو آپ کو پولیس سے رابطہ کرنا چاہیئے۔

 

ہم بچوں کے اغوا کے تین قسم کے کیسز میں مدد کرتے ہیں:

 

1 ۔ اغوا ۔جہاں کسی بچے کو اس کے ماں یا باپ سے پوچھے بغیر بیرون ملک لے جایا جائے، یہ برطانوی قوانین کےتحت(ماسوائے اسکاٹ لینڈ کے) ایک جرم ہے۔

 

۔ناجائز طور سے روکے رکھنا۔جہاں بچے کو بیرون ملک لے جاکر اسے وہیں روکے رکھا جائے۔2

 

۔ اغوا کی دھمکی۔ جہاں بچے کو بیرون ملک لے جائے جانے کا خطرہ ہو۔3

 

ہماری مدد کس نوعیت کی ہوتی ہے ؟

 

ہم آپ کو انگریزی داں وکیل اور ترجمانوں کی فہرست دیتےہیں اور سفر اور رہائش کے بارے میں معلومات فراہم کر تے ہیں۔

 

اگر آپ کو بچے کا پتا نہ چل سکے تو بیرون ملک متعلقہ حکام سے اس بچے کا اتاپتا معلوم کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔

 

جب بچے کااتا پتا معلوم ہو جائے تو دونوں والدین کی اجازت سے اس کی صحت وغیرہ کاچیک اپ کراتے ہیں۔

 

بیرون ملک متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔

 

جہاں مناسب ہو وہاں بیرون ملک عدالتوں سے اس کیس میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اور کیس میں پیش رفت بتائے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔

 

آپ کے بچے کے اغوا کے اندیشے کی صورت میں آپ کو مشورہ فراہم کرتے ہیں۔

 

ہماری مدد میں کیا شامل نہیں ہے۔

 

بچے کو''برآمد'' نہیں کرسکتے نہ ہی بچے کو واپس بر طانیہ لانے کی کسی غیر قانونی کوشش میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 

اگر آپ کو بچے کا اتا پتا معلوم نہ ہو تو ہم خود اسےتلاش نہیں کر سکتے۔

 

قانونی مشورہ نہیں دے سکتے نہ ہی کسی دوسرے ملک کے قانونی نظام میں دخل دے سکتے ہیں۔

 

آپ کے سفر،رہائش او قانونی مشورے کے اخراجات کی ادائیگی نہیں کرتے۔

 

دہری شہریت

 

اگرآپ کا بچہ کسی ایسے ملک لے جایا گیا ہے جہاں اسے دہری شہریت حاصل ہے تو مقامی حکام اس بچے کو اس ملک کاشہری تصور کر سکتے ہیں۔ اس سے ہماری مدد کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔

 

بچے کے بین الاقوامی اغواکے شہری پہلوؤں کے بارے میں ہیگ کنونشن کیا کہتا ہے

 

یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسکے تحت اغوا کئے گئے بچوں کو ان ملکوں میں واپس لانے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں وہ عام طور سے رہتے ہیں تاکہ اس ملک کی عدالت بچے کی کسٹڈی اور اس  تک دسترس کے بارے میں فیصلہ دے سکے۔

 

اس کنونشن کے تحت آنے والے تمام کیسوں کی ذمے داری برطانیہ کے مرکزی حکام کی ہے۔اگر آپ کے بچے کو اغواکرکے کسی ایسے ملک لے جایا گیا ہے جس نے کنونشن پر دستخط کئے ہوئے ہیں تو آپ کو متعلقہ 'مرکزی حکام' سے رابطہ کرنا چاہئیے۔ ان ملکوں کی فہرست کے لئے ری یونائیٹ ویب سائٹ دیکھیئے۔

 

وزارت انصاف ہیگ کنونشن کے تحت کیسوں کی ذمے دار ہےاور ہم عام طور پر اس میں اس وقت تک  دخل نہیں دیتے جب تک کہ مرکزی حکام ہم سے درخواست نہ کریں۔

 

 

 

وہ ملک جو ہیگ کنونشن  کے تحت نہیں ہیں

 

اگر آپ کے بچے کو کسی ایسے ملک لے جایا گیا ہے جس نے ہیگ کنونشن پردستخط نہیں کئے ہیں تو اس مسئلے کے حل میں دشواری پیش آتی ہے ۔البتہ ہمارا عملی مشورے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

 

یوکے۔ پاکستان جوڈیشل پروٹو کول

 

اگر آپ کے بچے کو اغواکرکے پاکستان لے جایا گیا ہے تو اس صورت میں یوکے۔ پاکستان جوڈیشل پروٹو کول کا اطلاق ہوگا۔

 

جنوری 2003میں  بر طانیہ اور پاکستان کےسینئرججوں نے بچوں سے متعلق امور میں یوکے۔ پاکستان جوڈیشل پروٹو کول پردستخط کئے تھے۔

 

دونوں ملکوں کے ججوں کے درمیان یہ مفاہمت موجودہے کہ بچے کے وطن کی عدالتیں ہی اس کی بہتری کا فیصلہ کرنے کی بہترمجاز ہیں۔ جب کسی بچے کو بر طانیہ یاپاکستان سے ناجائز طور سے لے جایا جائے یا زبردستی وہاں رکھا جائے تواصول یہ ہے کہ بچے کو اس کے وطن لے جایا جائے گا تاکہ عدالت میں اس کیس کی سماعت ہو سکے۔

 

بر طانیہ اورپاکستان میں لئیژاں ججوں کا ایک نظام اس پروٹوکول پر عملدرآمد میں سہولت پیداکرتا ہے۔یہ لئیژاں جج اسکی جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی عدالتوں کو کسی بھی ایسے عدالتی احکامات کاعلم ہو جو اس بچے کے وطن کی عدالت نے پہلے سے جاری کئے ہوئے ہیں۔

 

اگر آپ اس پروٹو کول کے تحت اپنے بچے کی بر طانیہ واپسی کے لئے کو شاں ہیں تو آپ کو پہلے عدالتی کارروائی کا آغازبر طانیہ سے اور بعدمیں پاکستان میں کر نا ہوگا۔آپ کاپہلا قدم برطانیہ کے کسی وکیل سے مشورہ کر نا ہے۔