بچوں کا اغوا۔ ایک کیس اسٹڈی
بچوں کا اغواء- کیس اسٹڈی
ایف سی او کے چائلڈ ایبڈ کشن سیکشن[ سی اے ایس] کو ایک ما ں نے فون کیا جس کے دو بچے غا ئب ہو گئے تھے۔ اس کی اپنے شوہر سے علیحد گی ہو گئی تھی اور بچے ما ں کے سا تھہ رہ رہے تھے۔ بچوں کو ایک د و گھنٹے کے لئے ان کے باپ سے ملوانے لے جا یا گیا تھا۔ جب شام تک بچے واپس نہیں لوٹے تو ان کی ماں نے پولیس اور وکیل سے رابطہ کیا لیکن جب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور با پ بچوں کو لے کر ملک سے با ہر جا چکا تھا۔
ایک ماہ تک پتا نہیں چل سکا کہ بچے کہاں ہیں۔ خیا ل تھا کہ وہ پہلے مشرق وسطی گئے تھے۔ لیکن آخر کار تص دیق ہو گئی کہ وہ پاکستا ن گئے تھے۔
جیسے ہی ماں کو اندازہ ہوا کہ بچے غائب ہوۓ ہیں اس نے برطا نوی عدالت سے فیصلہ حاصل کر لیا کہ بچے اسے واپس کئے جا ئیں۔ یو کے کے ایک جج نے فیصلہ د یا کہ یہ کیس یو کے پاکستا ن جوڈ یشیل پروٹوکول کے تحت اٹھا یا جا سکتا ہے۔
یو کے عدالت کے احکامات یو کے کے رابطہ جج تک پہنچائے گۓ جس نے انہیں آگے پاکستا ن میں جج کو پہنچایا۔ اس دوران بچوں کے دادا پاکستان چلےگۓ ۔ بچوں کی واپسی کے لئے پاکستا نی عدالتوں میں مقدمہ قا ئم کیا گیا اور دونوں ملکوں کے بیچ طے شدہ پروٹوکول کے تقاضوں کے مطابق جلد ہی حکم جاری کر د یا گیا۔ بچوں کے دادا نے برٹش ہائی کمیشن کے قونصلر اسٹا ف سے رابطہ کیا اور مقامی پاکستا نی پولیس کے ساتھہ کام کرنے کے لئے مدد چا ہی تاکہ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کریا جاسکے۔
ادھر یو کے میں چائلڈ ایبڈکشن سیکشن نے یو کے پولیس اور انٹرپول سے رابطہ کیا تاکہ انٹرنیشنل سرچ وارنٹ جاری ہو سکنے کے امکانات کا جا ئزہ لیا جا سکے۔ سی اے ایس ما ں سے رابطے میں رہا اور اسلام آباد میں ہا ئی کمیشن سے ملنے والی اطلاعا ت اسے پہنچا تا رہا۔
مفرور با پ پر پاکستا ن اور یو کے حکام کے زبردست دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بچوں کو سا تھہ لے کر واپس یو کے آنے پر آما دہ ہو گیا۔ طیارے سے اترتے ہی باپ اور بچوں کی ملاقا ت برطانوی پولیس سے ہوئی اور باپ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس پر بچوں کے اغواء کا مقد مہ قا ئم کیا گیا۔
ماں کی خوشی کا کوئی ،ٹھکانہ نہ تھا جب سات ماہ کی جدائی کے بعد اسے بچے واپس ملے اورانہیں اس کی
نگہداشت میں دے د یا گیا۔