Skip navigation

دہشت گردانہ سر گر میوں کو نشانہ بنانا

دہشت گردی کی سرگرمیوں کو پیسے سے تقویت ملتی ہے۔ اس کے بغیر نہ حملے کئے جا سکتے ہیں نہ تربیت ، بھرتی یا مدد یا دہشت گرد گروپوں کی بہبود کا کام ہو سکتا ہے۔

 

ان کے لئے رقم کے ذرائع اور اس کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال کے ہم ان کی حملے کی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔یہ ہماری مجموعی حکمت عملی کا ایک کلیدی پہلو ہے۔

 

حکومت کی حکمت عملی کے خاص ہدف یہ ہیں:

 

دہشت گردی کے مقاصد کے لئے بر طانیہ میں اکھٹا کی جانے والی رقوم میں کمی

 

دہشت گردوں کے مددگاروں کی شناخت اور ان کو منتشر کرنا اور غیر ملکوں میں ان رقوم کی ترسیل میں رکاوٹ جو بر طانیہ کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال ہونے والے ہوں

 

دہشت گردوں کے فنڈ کو منتشر کرنے میں دوسرے ملکوں کی مدد اور حوصلہ افزائی

 

بر طانیہ کی مکمل حکمت عملی کے لئے کانٹیسٹ کا مطالعہ کیجیئے

 

ہم دہشت گردوں کے فنڈ کیسے روکتے ہیں؟

 

دہشت گردوں کے لئے اکھٹا کی جانے والی رقم کو روکنے کے لئے ہم کئی طریقے استعمال کرتے ہیں۔

ہم افراد ، دہشت گرد گروپس اور ان سے متعلقہ گروپوں کے اثاثے منجمد کر سکتے ہیں ۔ اس سے وہ رقوم اکھٹا یا منتقل نہیں کر پاتے۔

 

کسی ایک ملک میں رقوم کی ترسیل کا پتا چلانا نسبتا آسان ہے۔لیکن بیرون ملک ان رقوم کی اصل منزل یا ذرائع معلوم کرنے کے لئے ہمیں دوسرے ملکوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔

 

کیلئےمالیاتی تفتیش کنندگان ، تعاون اور معلومات کے تبادلے پر انحصار کرتے ہیں۔ کامیاب تفتیش

 

 

دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے لئے ملکوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا کام ان ملکوں کی نگرانی کرنا ہے کہ وہ اس قرارداد کے تحت اپنی ذمے داریاں بخوبی پوری کرتی ہیں یا نہیں۔

 

ہم کس کے ساتھ کام کرتے ہیں؟

 

ہم بر طانوی حکومت کے دوسرے محکموں ، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور مالیاتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرتے ہیں۔

 

اس شعبے میں بین الاقوامی سر گر میوں کے سلسلے میں بر طانیہ صف اول میں موجود ہے اور ہم دوسری حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہیں۔

 

لوگوں کی ملک بدری پوری یقین دہانیوں کے ساتھ

 

ہوم سکریٹری ایسے غیر ملکیوں کو ملک بدر کر سکتے ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہوں اور یہ قدم سفارتی یقین دہانیوں کے بعد اٹھایا جا تا ہے۔

 

بر طانیہ کسی شخص کو ایسے ملک نہیں بھیجے گا جہاں یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات ہوں کہ اس پر تشدد یا انسانیت سوز اور ذلت آمیز سلوک کیا جائیگا یا اسے سزائے موت دی جائیگی

۔

کسی شخص کی ملک بدری کے فیصلے کے خلاف بر طانوی عدالتوں میں اپیل کی جا سکتی ہے اور عدالتیں یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ مجوزہ ملک بدری انسانی حقوق کے معاملے میں ہماری ذمے داریوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

 

بر طانیہ نے اردن، لبنان اور لیبیا کے ساتھ ملک بدری پر یقین دہا نیوں کے لئےمیمورنڈا آف انڈر اسٹینڈنگ پر دستخط کر رکھے ہیں۔ہر میمورنڈم میں ملک بدر کئے جانے والے اس مخصوص شخص کا نام درج کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ بد سلوکی نہ کی جا سکے۔

 

الجزائر کے ساتھ خطوط کے تبادلے کا انتظام ہے۔چند اور ممالک کے ساتھ اس طر ح کے انتظامات پر بات چیت ہو رہی ہے۔