Skip navigation

ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ

وزارت خارجہ حکومت کی عدم پھیلاؤ حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل در آمد میں مرکزی کر دار ادا کرتی ہے۔اس سے مختصر اور طویل مدت دونوں قسم کے چیلنجز سامنے آتے ہیں جن میں سے کچھ نیچے دئیے گئے ہیں۔

 

ایران اور شمالی کوریا

 

2007 اور 2008 کے دوران سب سے زیادہ دباؤ ڈالنے والا اور انتہائی توجہ کا حامل مسئلہ ایران کا جوہری توانائی پروگرام تھا جو اب بھی سنگین اہمیت رکھتا ہے۔اس میں ای 3+3 ممالک (بر طانیہ،فرانس، اور جرمنی اور امریکا ، روس اور چین)کے وزرا اور افسران کی گہری سفارتکاری شام رہی ہے۔ہم سفارتی حل کے لئے مسلسل کوشاں ہیں جس سے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی کمیونٹی کے خدشات کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔ہم نے ای3+3 ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ ایران پر پابندیوں کی تین قراردادوں پر اتفاق رائے کے لئے کام کیاہے۔حال ہی میں3 مارچ کو  قرارداد 1803 اختیار کی گئی ہے۔وزارت خارجہ نے چھ فریقی مذاکرات کے لئے بھی سیاسی حمایت کی پیش کش کی ہے جس کا مقصد شمالی کوریا سے جوہری ہتھیاروں کا صفایا ہے۔

 

بین الاقوامی کنونشن اور معاہدے

 

فوری نوعیت کے چیلنجز کے علاوہ ہم کثیر جہتی کنونشن اور معاہدوں کو مستحکم کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں جو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف عالمی کوششوں کا مرکزی نکتہ ہیں۔2010 کا عدم پھیلاؤ کا معاہدہ(این پی ٹی)پر ریویو کانفرنس ان کوششوں کو تقویت دینے کے لئے ایک سنہری موقع فراہم کرے گی۔مئی 2007 میں این پی ٹی پریپیریٹری کمیٹی اس سمت میں ایک اہم پہلا قدم تھی۔

 

2007 میں پورے سال ہیگ میں ہماری سفیر لن پارکرنے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی اگلی ریویو کانفرنس کی صدارت کی۔ وزارت خارجہ نے حیاتیاتی ہتھیاروں پر پابندی کو مستحکم کر نے کی کوششوں میں قیادت کی اور یورپی یونین کے ساتھ کام کیا تاکہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور حیاتیاتی اور زہر آلود ہتھیاروں کے کنونشن سے اب تک باہر رہنے والے ملکوں کو ان میں شامل ہونے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

 

ہم نے اہم بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ بر آمدات کو کنٹرول کرنے کے لئے تین مرکزی نظاموں پر کام کیا ہے:

 

نیوکلئیر سپلائیرز گروپ( جو سویلین جوہری توانائی پروگراموں کے لئے تمام جوہری مواد کی فراہمی کو کنٹرول کرتا ہے)

 

آسٹریلیا گروپ( جو کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا پھیلاؤ کی روک تھام کرتا ہے) اور

 

میزائل ٹیکنا لوجی کنٹرول کا نظام

 

بر آمدات کے لائسنسوں کا اجرا

 

وزارت خارجہ ،بی ای آر آر(ڈپارٹمنٹ برائے بزنس، اینٹرپرائزاینڈ ریگولیٹری ریفارم)،وزارت دفاع اور ڈیفڈ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ یہ یقین دہانی رہے کہ بر طانیہ کا برآمداتی کنٹرول ہماری بین الاقوامی ذمے داریوں کے عین مطابق ہے ۔08/2007 میں ہماری لائسنسنگ ٹیم نےلائسنس کی 10،000 سے زائد سفارشات کو نمٹایا جو ان  سفارشات کو کام کےدس روز کے اندر کمیشننگ ڈپارٹمنٹ کو واپس بھیجنے کے ہدف سے 80 فی صد زیادہ تھا۔ ستمبر 2007 میں ایک نیا آئی ٹی سسٹم سپائر متعارف کیا گیا جس سے پروسیسنگ کی رفتار تیز ہوگئی کیونکہ اب بر آمداتی لائسنس کی معلومات اور درخواست دونوں کام آن لائن کئے جانے لگے ۔ 

 

اسلحے کی تجارت کا معاہدہ

 

2006 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد اختیارکی جس میں آرمز ٹریڈ ٹریٹی(اے ٹی ٹی)کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ اس کا مقصد روایتی ہتھیاروں کی غیر ذمے دارانہ تجارت کو روکنا تھا۔اس قرارداد کے ساتھ ہماری شدیدلابنگ کے بعداتنی تعداد میں ملکوں کی ،جس کی مثال نہیں ملتی اےٹی ٹی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ فروری 2008 میں'حکومتی ماہروں' کی تین میٹنگوں میں سے پہلی

 نیو یارک میں منعقد ہوئی تاکہ اس کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔   

 

 

وزارت خارجہ غیر سر کاری تنظیموں(این جی اوز)اور بر طانیہ کی دفاعی صنعت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتی ہے تاکہ اے ٹی ٹی پر بر طانیہ ک مجموعی پالیسی کی عکاسی ہو سکے۔این جی اوز اور دفاعی صنعت اے ٹی ٹی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔وزارت خارجہ نے دفاعی صنعت کے ساتھ مل کر اے ٹی ٹی سیمینار کرایا جو لندن میں اسلحے کی ایک بڑی بر آمداتی نمائش میں منعقد ہوااور ہم نے اقوام متحدہ کی میٹنگوں کے ساتھ ساتھ ہونے والی آکسفام کی تقاریب میں اے ٹی ٹی کے فروغ کے لئے کام کیا۔

 

اسلحے پر کنٹرول اور تخفیف اسلحہ

 

جوہری اسلحے میں کمی

 

بر طانیہ نے اپنی جوہری مزاحمت کو بر قرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ دنیا کو سب کے لئے محفوظ تر بنانے کے لئے کثیر جہتی نیو کلیائی تخفیف اسلحہ کی کوشش کا بھی پابند ہے۔اسی سبب سے ہم نے دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عالمی کمٹ منٹ کو دوبارہ حرکت میں لانے کے لئے بڑی محنت کی ۔اس میں اس وقت کی فارن سکریٹری مارگریٹ بیکٹ کی جون 2007 کی اہم پالیسی تقریر شامل تھی۔جینیوا میں تخفیف اسلحہ کانفرنس میں ہم نے فزائل مٹیرئیل کٹ آف ٹریٹی پر مذاکرات شروع کرنے کے لئے دباؤ جاری رکھا جس سے دنیا میں فزائل مواد(انتہائی افزودہ یورینیم یا پلوٹونیم) کی مزید پیداوار پر پابندی لگائی جا سکے گی ، جوکہ نیوکلیائی ہتھیاروں یا دوسرے نیوکلیائی دھماکہ خیز آلات میں استعمال ہو تا ہے۔

 

میزائل دفاع

 

ہم نے یورپ میں میزائل دفاع کے امریکی منصوبوں کا خیر مقدم کیا اور نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کو یہ یقین دہانی کر انے کے لئے کام کیاکہ یورپ کے لئے میزائل دفاعی منصوبے صرف مشرق وسطی کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے ہیں۔

 

چھوٹے اور ہلکے ہتھیار اور اسلحہ

 

وزارت خارجہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں اور اسلحے میں اضافہ اور غیر قانونی پھیلاؤکو روکنے کے لئے کثیر جہتی کوششوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔2007 میں بر طانیہ نے 25۔3 ملین پاؤنڈ بیس سے زائد منصوبوں کو فراہم کئے جس میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کو جمع کرنا اور ضائع کرنا اور علاقائی کنٹرول معا ہدوں پر عمل در آمد شامل ہے۔