Skip navigation

دہشت گردی اورانتہا پسندی کی روک تھام

 ہمارا مطمع نظر ہے لوگوں کو دہشت گرد یا پر تشدد انتہا پسند بننے یا ان کی مدد کرنے سےروکنا۔  ہمارا دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی روک تھام پروگرام ، حکومت بر طانیہ کی متحدہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی کی براہ راست مدد کرتا ہے۔

 

دہشت گرد سرگرمیوں کو نشانہ بنانا

 

ان کے لئے رقم کی ترسیل اور اس کے ذرائع کو نشانہ بنا کے ہم ان کے حملے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری مجموعی حکمت عملی کا یہ ایک کلیدی پہلو ہے۔

 

پروگرام

 

پروگرام ،کانٹیسٹ کے چاروں پہلوؤں کے کام میں مدد کرتا ہے ۔روک تھام کے پہلو کے لئے پروگرام کا مقصد  ان ملکوں میں ذیل میں دئیے گئے شعبوںکی تعمیر ہے جہاں ان امور میں خامیاں شکایات کو جنم دیتی ہیں جو بنیاد پرستی کا سبب بنتی ہیں:

 

سول سوسائٹی

اچھی گورننس

تعلیم

انسانی حقوق

قانون کی حکمرانی

انتہا پسندوں کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے پلیٹ فارم

 

ہمارے منصوبوں کی قیادت عام طور پر ہمارے مقامی پارٹنرز کرتے ہیں جنہیں ہمارے سفارتخانوں اور ہائی کمیشنوں کا تعاون حاصل ہوتا ہے۔

 

ہم منصوبوں کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟

 

جن منصوبوں کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی روک تھام پروگرام کے تحت فنڈز دئیے جانے ہوں ان کے لئے مندرجہ ذیل مقاصد میں سے ایک یا زیادہ کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے:

 

انتہاپسندانہ نظریے کو چیلنج کرنا اور عوامی سوچ سے تعاون کرنا

ان نظریاتی افراد کو منتشرکرنا اور کمزور اداروں کو مستحکم کرنا

ان افراد کی مدد کرنا جنہیں نشانہ بنایا جارہا ہو

پر تشدد انتہا پسندوں کے خلاف کمیونٹیز کی مزاحمتی قوت میں اضافہ کرنا

ان شکایات پر توجہ دینا جن کا یہ نظریہ پرست استحصال کرتے ہیں مثلا انسانی حقوق یا قانون کی حکمرانی سے محرومی۔

بنیادپرستی کے اسباب کے بارے میں ہماری افہام و تفہیم میں اضافہ کرنا

ہمارے کام اور مقاصد کو فروغ دینا

 

موبائل فون، ای میل اور انٹرنیٹ رابطوں تک رسائی کے لئے نئے قانون کی تجویز

برطانوی ہوم سکریٹری جیکی سمتھ، بین الاقوامی دہشت گردی سےنمٹنے کے لئےپولیس اور سیکیورٹی سروس کو مزید اختیارات دینے پر غور کر رہی ہیں