آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ) کا دوبارہ افتتاح
فارن سکریٹری نے 9 ستمبر کو لندن میں آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ) کے دوبارہ افتتاح کے موقع پر ماہرین کے پینل کی ایک نشست کی صدارت کی۔بر طانیہ نے 2006 میں چھ دوسرے ملکوں کے ساتھ اقوام متحدہ میں عالمی آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے لئے ایک قرارداد پیش کی تھی۔
آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ) کا پس منظر
دسمبر 2006 میں بر طانیہ اور چھ دوسرے ملکوں ( آسٹریلیا، ارجنٹائن، کوسٹاریکا، فن لینڈ، کینیا اور جاپان ) نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس میں ایک عالمی آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ATT)کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مقصد یہ تھا کہ:روایتی ہتھیاروں اور گولہ بارود اور ان کی تیاری سے متعلق ٹیکنالوجی کی غیر ذمے دارانہ تجارت اور منتقلی کو روکا جائے۔بر طانیہ اس مقصد کی حمایت کرتا ہے۔
۰ 153 ملکوں نے اس تجویز کی حمایت کی
۰ 24 ملکوں نے ووٹ نہیں دیا
۰ 1 ووٹ مخالفت میں آیا
یہ آرمز ٹریڈ ٹریٹی ریاستوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہوگی تاکہ وہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کو ضابطے کے تحت چلانے میں مدد کرنے کے لئے ایک جیسا معیار اپنا سکیں۔اس سے ہتھیاروں کے دہشت گردوں، شورش پسندوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے گا جو انہیں:
۰ استحکام اور جمہوریت کو کمزور کرنے
۰ ترقی کے عمل کو نقصان پہنچانے
۰ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے
۰ سیکیورٹی کو کمزور کرنے
کے لئے استعمال کرتے ہیں۔