Skip navigation

بر طانیہ اور آرمز ٹریڈ ٹریٹی

بر طانیہ نے اقوام متحدہ کو آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے بارے میں اپنی رائے 12 مارچ 2007 کو پیش کر دی تھی۔ہم ایک ایسی مضبوط ٹریٹی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں جو اسلحے کی جائز تجارت کو تقویت دے سکے۔

 

ہم دیگر حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور بر طانیہ کی دفاعی صنعت سے قریبی رابظہ رکھتے ہیں تاکہ ان کی رائے سے واقف رہیں۔اس میں:

 

آرمز ٹریڈ ٹریٹی کے دوبارہ افتتاح کی تقریب قابل ذکر ہے۔

 

فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ اس میں لندن میں ستمبر 2008 میں ماہرین کے پینل کی ایک نشست کی صدارت کررہے ہیں۔ اس میں بر طانیہ کی اسلحہ صنعت، غیر سر کاری تنظیموں اور دوسرے ملکوں کے 50 نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

 

اس کے علاوہ حال میں ہونے والی دوسری سرگرمیاں یہ ہیں:

 

 آرمز ٹریڈ ٹریٹی کانفرنس

 

ہم نے دسمبر 2007 میں ولٹن پارک میں40 ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل اس کانفرنس کی میزبانی کی۔

 

بر طانیہ کی اسلحے کی صنعت

 

ہم نے لندن میں ستمبر 2007 میں ڈیفنس مینوفیکچررز ایسو سی ایشن کے ساتھ ایک مشترکہ آرمز ٹریڈ ٹریٹی سیمینار کروایا۔

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی

 

ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے درمیان ٹریٹی کی حمایت میں آکسفیم کی سرگر میوں میں انہیں تعاون فراہم کیا ۔

 

اقوام متحدہ اور آرمز ٹریڈ ٹریٹی

 

موثر طو ر پر کام کرنے کے لئے ٹریٹی پر زیادہ سے زیادہ ملکوں کا اتفاق کر نا ضروری ہے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں اقوام متحدہ کے تمام 192 اراکیں شامل ہونگے اور اس کے لئے وقت درکار ہوگا۔

 

لیکن عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کی زبر دست حمایت ہو رہی ہے۔ آرمز ٹریڈ ٹریٹی پر اظہار رائے کے جواب میں غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا اور اب تک 100 سے زائد ملکوں اور تنظیموں کی طرف سے رائے آچکی ہے۔

 

اقوام متحدہ کے منتخب کردہ ممالک سے جن میں بر طانیہ شامل ہے، سرکاری ماہرین کی تین میٹنگز ہو چکی ہیں جس میں اس ٹریٹی کے قابل عمل ہونے ، اس کے احاطہ کار اور اس کی حدود پر غور کیا گیا ہے۔