ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
یہ آرمز ٹریڈ ٹریٹی ریاستوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہوگی تاکہ وہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کو ضابطے کے تحت چلانے میں مدد کرنے کے لئے ایک جیسا معیار اپنا سکیں۔اس سے ہتھیاروں کے دہشت گردوں، شورش پسندوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے گا
ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کا پس منظر
آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ) کا پس منظر
دسمبر 2006 میں بر طانیہ اور چھ دوسرے ملکوں ( آسٹریلیا، ارجنٹائن، کوسٹاریکا، فن لینڈ، کینیا اور جاپان ) نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس میں ایک عالمی آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ATT)کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مقصد یہ تھا کہ:روایتی ہتھیاروں اور گولہ بارود اور ان کی تیاری سے متعلق ٹیکنالوجی کی غیر ذمے دارانہ تجارت اور منتقلی کو روکا جائے۔بر طانیہ اس مقصد کی حمایت کرتا ہے۔
۰ 153 ملکوں نے اس تجویز کی حمایت کی
۰ 24 ملکوں نے ووٹ نہیں دیا
۰ 1 ووٹ مخالفت میں آیا
ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
- ہمیں آرمز ٹریڈ ٹریٹی کی ضرورت کیوں ہے؟
- آرمز ٹریڈ ٹریٹی کیا ہے؟
- آرمز ٹریڈ ٹریٹی پر عملدرآمد کا طریقہ کیا ہوگا؟
- بر طانیہ اور آرمز ٹریڈ ٹریٹی
- ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
Recent news and events
ترکی برطانیہ کا اہم پارٹنر ہے
04/11/2009
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے استنبول پہنچنے پر کہا ہے
فارن سکریٹری مشرق وسطی امن عمل کے سلسلے میں اردن پہنچ گئے
04/11/2009
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈنے اردن میں شاہ عبداللہ سے منگل کو ملاقات کی جس میں مشرق وسطی امن عمل میں پیش رفت موضوع گفتگو تھا
حامدکرزائی کے دوبارا انتخاب پر گورڈن براؤن کی مبارکباد
02/11/2009
وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے