ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
یہ آرمز ٹریڈ ٹریٹی ریاستوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہوگی تاکہ وہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کو ضابطے کے تحت چلانے میں مدد کرنے کے لئے ایک جیسا معیار اپنا سکیں۔اس سے ہتھیاروں کے دہشت گردوں، شورش پسندوں اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے گا
ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کا پس منظر
آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ) کا پس منظر
دسمبر 2006 میں بر طانیہ اور چھ دوسرے ملکوں ( آسٹریلیا، ارجنٹائن، کوسٹاریکا، فن لینڈ، کینیا اور جاپان ) نے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس میں ایک عالمی آرمز ٹریڈ ٹریٹی (ATT)کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مقصد یہ تھا کہ:روایتی ہتھیاروں اور گولہ بارود اور ان کی تیاری سے متعلق ٹیکنالوجی کی غیر ذمے دارانہ تجارت اور منتقلی کو روکا جائے۔بر طانیہ اس مقصد کی حمایت کرتا ہے۔
۰ 153 ملکوں نے اس تجویز کی حمایت کی
۰ 24 ملکوں نے ووٹ نہیں دیا
۰ 1 ووٹ مخالفت میں آیا
ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
- ہمیں آرمز ٹریڈ ٹریٹی کی ضرورت کیوں ہے؟
- آرمز ٹریڈ ٹریٹی کیا ہے؟
- آرمز ٹریڈ ٹریٹی پر عملدرآمد کا طریقہ کیا ہوگا؟
- بر طانیہ اور آرمز ٹریڈ ٹریٹی
- ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ
Recent news and events
2009کی پہلی چوتھائی میں 29 فی صد درخواست گزاروں کو پناہ کا حق دیا گیا
21/11/2009
برطانیہ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ حقیقی پناہ گزینوں کو ایک محفوظ مقام فراہم کرتا آیا ہے
ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد
20/11/2009
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے
'میں یہاں گواہ کی حیثیت سے آیا ہوں'
19/11/2009
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے افغانستان کے صدر حامد کرزائی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی