Skip navigation

دہشت گردی کی روک تھام

 حکومت کا مقصد ہے کہ:

 

بین الاقوامی دہشت گردی سے لاحق خطرہ کم کیا جائے تاکہ عوام اپنی روز مرہ زندگی آزادی اور کلی اعتماد کے ساتھ بسر کر سکیں۔

 

2003 کے اوائل سے حکومت نے بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئےایک طویل المدت حکمت عملی کا آغاز کر دیا ہے ۔ اسے کانٹیسٹ کا نام دیا گیا ہے۔

 

اس حکمت عملی کے چار پہلو ہیں:

 

 ۰  روک تھام کرنا۔ یعنی لوگوں کو دہشت گرد یا پر تشدد انتہا پسند بننے یا ان کے ساتھ تعاون کرنے سےروکنا

 ۰  پیچھا کرنا۔ دہشت گردوں اورانکے سرپرستوں کا پیچھا کرنا

 ۰   تحفظ دینا ۔ عوام، کلیدی قومی سروسز اور غیر ملکوں میں بر طانیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا    

 ۰   تیاری کرنا۔ نتائج کے لئے تیار رہنا    

 

ان مقاصد کے حصول کے لئے ملک میں اور بیرون ملک ہمارے مختصر مدت اور طویل مدت کے اہداف متعین  ہیں۔بیرونی ممالک میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے ہم حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر عمل در آمد میں بر طانیہ میں حکومت اور سول سو سائٹی میں اپنے پارٹنروں کے تعاون سے کام کرتے ہیں۔

 

روک تھام کرنا

ہم بر طانیہ اور دوسرے ممالک میں لوگوں کو دہشت گرد یا پر تشدد انتہا پسند بننے یا ان کی مدد کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

 

اس کے لئے ہم:

 

ہم ملک میں اور بیرون ملک ایسی اصلاحات میں تعاون کررہے ہیں جن سے سماجی محرومی، عدم مساوات اور تعصب سے نمٹا جا سکے کیونکہ یہ بنیاد پرستی کو جنم دیتے ہیں۔

 

ان لوگوں کی حوصلہ شکنی جو دہشت گردی میں مدد یابڑھاوا دیتے ہیں اور اس ماحول میں تبدیلی پیدا کرنا جس میں دہشت گردوں کے لئے کارروائی کر نا ممکن ہو ۔

 

ان نظریات کو چیلنج کرنا جنہیں انتہا پسند تشدد کے لئے جواز بناتے ہیں۔ اس کے لئے ہم ان لوگوں سے تعاون کرتے ہیں جو ان نظریات سے اختلاف کرتے ہیں۔

 

پیچھا کرنا

 ہم بر طانیہ میں اور بیرونی ممالک میں بر طانیہ کے مفادات کو دہشت گردی سے لاحق خطرات کو کم کرنے کے لئے دہشت گردوں اور ان کی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

 

اس کے لئے ہم:

 

دہشت گردی کےخطرے کی شناخت اور اس کو سمجھنے کی اپنی اہلیت کو بہتر بنا رہے ہیں۔

 

دہشت گردوں کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال کر اور ان کے خلاف کارروائی کرکے ان کے حملوں کو ناکام بنا رہے ہیں

 

مقدمات کے ذریعے دہشت گردوں کو انصاف کی عدالت میں پہنچا رہے ہیں ، اس میں دہشت گردی کے خلاف قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا شامل ہے

 

اپنے پارٹنروں اور اتحادیوں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون تشکیل دے رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے ہمارے اشتراک کار میں بہتری پیدا ہو سکے۔

 

تحفظ دینا

ہم بیرونی ملکوں میں بر طانیہ کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں جنہیں اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 

ان خطرات کو کم کرنے کے لئے ہم:

 

 دہشت گردی کے داخلی اور بیرون ملک خطرات کے بارے میں درست سفری مشورہ فراہم کرتے ہیں جو بیرون ملک بر طانوی کمپنیوں کے مشورے سے تشکیل دیا جاتا ہے

 

بر طانوی سفارتخانوں اور عملے کو جسمانی تحفظ فراہم کرتے ہیں

اہم غیر ملکی حکومتوں کو ایوی ایشن، اور میری ٹائم سیکیورٹی، توانائی کے انفرا اسٹرکچر، پر ہجوم مقامات اور 'نرم' نشانوں کے تحفظ کی اہلیت میں اضافے کے لئے تعاون فراہم کرتے ہیں۔

 

تیاری

بر طانیہ کو دہشت گردی کے حملے کی صورت میں نتائج کے لئے تیار رہنا ضروری ہے۔

 

اس کے لئے ہم:

 

ان ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتےجو بر طانیہ کو دہشت گردی سے لاحق ہیںاور اس کے اثرات کا اندازہ

لگاتے ہیں

 

حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی اہلیت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں

 

اپنی تیاری کا مسلسل جائزہ اور ٹیسٹ کرتے رہتے ہیں ، ان مشقوں اور حقیقی واقعات سے ہمیں سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

ان مقاصد کے حصول کے لئے اندرون اور بیرون ملک ہمارے مختصر اور طویل مدت کے اہداف ہیں۔ کانٹیسٹ کے اردو ترجمے میں آپ کو اس کی تمام تفصیل مل جائے گی۔

 

دہشت گردی اورانتہا پسندی کی روک تھام

ہمارا مطمع نظر ہے لوگوں کو دہشت گرد یا پر تشدد انتہا پسند بننے یا ان کی مدد کرنے سے روکنا۔ہمارا دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی روک تھام پروگرام ، حکومت بر طانیہ کی متحدہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی کی براہ راست مدد کرتا ہے۔

دہشت گردانہ سر گر میوں کو نشانہ بنانا

دہشت گردی کی سرگرمیوں کو پیسے سے تقویت ملتی ہے۔ اس کے بغیر نہ حملے کئے جا سکتے ہیں نہ تربیت ، بھرتی یا مدد یا دہشت گرد گروپوں کی بہبود کا کام ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی کی روک تھام، ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤاور ان کے اسباب

اس پالیسی ہدف کی کارکردگی کو پی ایس اے1 (وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار) اورپی ایس اے2 (بین الاقوامی دہشت گردی )کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔

ہتھیاروں کی تجارت کا معاہدہ

ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کا مقصد روایتی ہتھیاروں اور گولہ بارود اور ان کی تیاری سے متعلق ٹیکنالوجی کی غیر ذمے دارانہ تجارت اور منتقلی کو روکنا ۔بر طانیہ اس مقصد کی حمایت کرتا ہے