افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کی تمام تر تعمیر نو اور ترقی اور سیکیورٹی کی فراہمی کی ذمےداری بر طانیہ نے لے رکھی ہے۔بر طانیہ وہاں آئیساف( انٹر نیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس) کے ایک حصے کے طور پر کام کر رہا ہے۔
بر طانیہ ان ذمے داریوں کو پورا کرنے اورصوبے میں ترقی، سیکیورٹی اور قانون کی حکمرانی کے لئے افغان حکومت کی مدد کرنے کا پابند ہے۔اسی لئے بر طانیہ نے ہلمند میں حکومت کے مختلف شعبوں کے افرادی اور فوجی وسائل خاصی تعداد میں وہاں لگا رکھے ہیں تاکہ یہ مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔
بر طانیہ کی صوبائی تعمیر نو ٹیم ۔ لشکر گاہ
ہلمند میں بر طانیہ کی پی آر ٹی ایک ترقی یافتہ، محفوظ اور مستحکم افغانستان کے فروغ میں افغان حکومت کی مدد کرتی ہے۔
ہلمند میں بر طانیہ کی ٹاسک فورس
ہلمند میں بر طانیہ کی ٹاسک فورس آئیساف مشن کا ایک حصہ ہے اور ہلمند صوبے میں تعمیر نو اور ترقی کے لئے فضا ہموار کرنے میں اہم کردار اد اکر رہی ہے۔
موسی قلعہ میں نئی زندگی کا آغاز
جنوبی افغانستان میں بہت اندر جاکر موسی قلعہ کے ضلعی دار الحکومت میں برطانوی حکومت کی قیادت میں ایک منصوبہ کام کر رہا ہے جو ہزاروں افراد کی زندگی میں بہتری لا رہا ہے۔
گزشتہ برس ہلمند صوبے کے شمال میں ضلعی مرکز طالبان کی سر گر میوں کاگڑھ اور منشیات کی نقل و حمل کی مرکزی گزرگاہ بنا ہوا تھا ۔منشیات کی آمدنی طالبان کی بقا کا ذریعہ تھی اس لئے اس گروپ کو اکھاڑنا اور ان کا ذریعہ آمدنی ختم کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
تعمیر نو کا منصوبہ
برطانیہ کی وزارت خارجہ کی قیادت میں کام کرنے والی صوبائی تعمیر نو ٹیم میں طالبان کو وہاں سے اکھاڑنے کے لئے افغان حکومت کی مدد کا منصوبہ بنایا جارہا تھا۔
صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں پی آر ٹی کے افسروں، ڈیفڈ اور اسٹیبلائزیشن یونٹ نے افغان فوج اور افغان حکومت کو آپریشن مار کرادادمنصوبے میں مدد دی جو موسی قلعہ میں افغان حکومت کو دوبارہ کنٹرول دینے کے لئے تھا۔
یہ فوجی کارروائی افغان نیشنل آرمی کی قیادت میں کی گئی اور اسےآئیساف میں نیٹو کے فوجیوں کی مدد حٓاصل تھی ۔
شہریوں کی مدد کے لئے لیف لیٹس گرائے گئے
وزارت خارجہ، ڈیفڈ اور ایس یو کے عملے نے منصوبے کے شہری حصے سے تعاون کیا تاکہ موسی قلعہ کے شہریوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ لیفلیٹس گرائے گئے اور ریڈیو کی نشریات میں شہریوں کو فوجی کارروائی کے بارے میں خبردار کیا گیا تاکہ وہ اس کی زد میں نہ آئیں۔
دسمبر 2007 میں فوجی کارروائی کے مر حلے کے بعد ہمارا عملہ چند روز کے اندر وہاں پہنچ چکا تھا۔سیکیورٹی کی نازک صورتحال کے باوجودٹیم نے مقامی رہنماؤں کی ایک میٹنگ کا انعقاد کیا تاکہ یہ فیصلے کئے جاسکیں کہ طالبان کی حکمرانی سے پہنچنے والے نقصان اور کئی عشروں کی ناکافی سرمایہ کاری سے ہونے والی تباہی کو کس طرح درست کیا جاسکے گا۔
پی آر ٹی کے اراکین عبوری ضلعی گورنرکی مدد کو جلد ہی آپہنچے تاکہ موثر بزرگ شخصیات کا اجتماع( شوری) منعقد ہو اور نئے ضلعی گورنر کی حیثیت سے ملا سلام کی تو ثیق کی جا سکے۔
بہتر مستقبل کی تعمیر
لڑائی کے بعد پہلے چند ہفتوں میں نئے حکام سے بات چیت کرکے پی آرٹی کے فنڈ سے منصوبوں کا آغاز ہو گیا۔نالے اورگندگی کے ڈھیر صاف کئے گئے، موسی قلعہ کا مرکزی اسکول دوبارہ تیار کیا گیا اور 'نقدی برائے کام اسکیم' کے ذریعے 300 مقامی افراد کو روزگا ر ملا ۔ یہ تعمیر نو کی چند مثالیں ہیں۔
ایک مختصر سے عرصے میں بہت کچھ حاصل کر لیا گیاہے ۔ اسکول تیار ہے، طبی کلینک دوبارہ کام کر رہا ہے اور مقامی حکومت کے دفاتر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے آراستہ کئے جاچکے ہیں۔
ایک اہم کام کمیونٹی شوری کے لئے جگہ کی فراہمی ہے جو کر دی گئی ہے ۔ اس سے عام افغانوں کو اپنی آواز پہنچانے کے لئے فورم مل گیا ہے اور وہ مقامی تنازعات کو نمٹانے اور علاقے میں استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بنیادی خدمات
موسی قلعہ میں سیکیورٹی بہتر ہو چکی ہے لیکن شہریوں کو اب بھی کئی بنیادی خدمات میسر نہیں ہیں۔فوری تعمیر نو اور ترقی اب بھی ایک چیلنج ہے لیکن پی آر ٹی کا عملہ مقامی حکام ، افغان فوج اور آئیساف کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ موسی قلعہ میں مزید بہتری لائی جا سکے جس میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکزی مسجد کی تعمیر نو شامل ہے۔
اس تعمیر نو کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہمارا عملہ اور فوجی اپنا کافی وقت افغان حکام، مقامی بزرگوں اور سول سوسائٹی سے تبادلہ خیال میں صرف کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بر طانیہ کس طرح موثر ترین طریقے سے افغان عوام کی مدد کر سکتا ہے کہ ان کے نئے ادارے دیر پا ثابت ہوسکیں۔
نیا گھر ، نئی زندگی
نیا گھر ، نئی زندگی نہ صرف ایک مقبول تفریحی پروگرام ہے بلکہ افغان معاشرے کی تعمیر نو اور نئی ساخت کے لئے بھی اہم ہے۔