Skip navigation

افغانستان 2009 میں خوراک کی قلت کا شکار نہیں ہوگا

 اس سال افغان حکومت اور بین الاقوامی کمیونٹی کی، جس میں بر طانیہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈیفڈ) اور ورلڈ فوڈ پروگرام شامل ہے، کوششوں کی بدولت افغانستان میں خوراک کے تحفظ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اچھی بارشوں، بہترفصلوں اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی اپیلوں کے مثبت ردعمل نے بھی اس میں ایک کردار ادا کیا ہے۔

ڈیفڈ نےخوراک کے عدم تحفظ کے حل کے لئے دو طریقے  اختیار کئے ہیں۔ انسانی فلاحی اعتبار سے اس نے ورلڈ فوڈ پروگرام کی اپیل پر 17 ملین پاؤنڈ فراہم کئے ہیں تاکہ ضرورتمندوں کو ہنگامی بنیادوں پر خوراک مہیا کی جا سکے۔ اور کسانوں کو ان کی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دینے کے لئے افغانستان بھر میں 09/2008 کے لئے 28 ملین پاؤنڈ دئیے ہیں۔ اس سے کسانوں کے لئے اچھے معیاری اور زیادہ تعداد میں بیج اور کھاد حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے، کاشتکاری اور آب پاشی بہتر طریقے سے ہو رہی ہے، افیون کے بجائے افغانستان کی سخت آب و ہوا کے لحاظ سے موزوں دوسری فصلوں کی کاشت پر تحقیق ہو رہی ہے۔

 ایک ایسی ہی اسکیم زراعت میں مزید پیداوار کے لئے افغانستان واؤچرز [ اے وی آئی پی اے] ہیں جن کے ذریعے 14 صوبوں میں کسانوں کو گندم کے بیج اور کھاد فرام کی جاتی ہے۔ اس کے لئےضلعی ٹیمیں ضرورت کے لحاظ سے کسانوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ ترجیح مندرجہ ذیل کو دی جاتی ہے:

. کنبوں کے بے روزگار سربراہ

. بیوائیں اور خواتین والے کنبے

. بڑے کنبوں والے کسان

. ایسے کسان جنہیں بڑے کنبے سے کوئی مدد نہ مل سکتی ہو

. کسان جن کی خوراک اور زرعی اجناس تک محدود رسائی ہو

. وہ کسان جنہوں نے افیون کی کاشت بند کر دی ہو

واؤچرز مقامی فارم سپلائی دکانوں پر لئے جاتے ہیں، کسانوں کو اشیا کی قیمت کا 15 فی صد ادا کرنا پڑتا ہے اور ایک کمپیوٹرائزڈ پروگرام کے ذریعے اس طریقہ کار کو شفاف اور قابل احتساب بنایا جاتا ہے۔

یہ واؤچر پروگرام یو ایس ایڈ نے تیار کیا تھا اور اسے انٹرنیشنل ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کا ادارہ، افغان وزارت برائے دیہی بحالی و ترقی اور وزارت برائےزراعت، آب پاشی اور مویشی کے تعاون سے چلا رہا ہےڈیفڈ اس میں 2ملین پاونڈ کا عطیہ دیتا ہے جبکہ پروگرام پر کل لاگت تقریبا 39 ملین پاؤنڈ ہے۔

تاہم افغانستان کےان دور دراز علاقوں کے بارے میں اب بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے، جہاں تحفظ کا انتظام ناقص اور انفرااسٹرکچر کا فقدان ہو اور اس وجہ سے خوراک ضرورتمند ترین افراد تک ہمیشہ نہ پہنچ پائے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام مسلسل یہ تجزیہ کرنے میں مصروف ہے کہ افغانستان میں خوراک کی کہاں ضرورت ہے اور اس کا پروگرام اس طرح ترتیب دیا جائے گا کہ وہ ان لوگوں تک خوراک پہنچا سکے جنہیں اب تک کافی مقدار میں اشیائے ضرورت نہ مل سکی ہوں۔

 چند لوگوں کی ذاتی روداد

 کابل میں ضلع کہلبار کے 72 سالہ کسان میر ضامن کا کہنا ہے

"اس واؤچر اسکیم کے ذریعے مجھے جو کھاد ملی اس سے مجھے بہت فرق پڑا ہے ۔میں نے اب گندم، مکئی، مونگ اور انگور بوئے ہیں جن سے 15 افراد پر مشتمل میرے کنبے کی گزر اوقات ہو سکتی ہے۔ میرے گھر میں چار بڑے اور گیارہ بچے ہیں۔گزشتہ برس خشک سالی کی وجہ سےمجھے اپنے خاندان کو پالنے میں بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔لیکن اس سال کھاد کی بدولت اور گندم کی کاشت کے سبب میری پیداوار بہتر ہوگی"۔

40 سالہ غلام دستگیر قلعہ خان ضلع کی کسان کو آپریٹو کا صدر ہے

" میرے کو آپریٹو میں تین دیہاتوں کے 90 زرعی اور مویشیوں کے فارم کے کسان شامل ہیں۔ہمیں سال کے شروع میں وزارت برائے دیہی بحالی و ترقی کی طرف سے بیج دئیے گئے تھے لیکن ہمارے پاس کھاد نہیں تھی اور اس کے بغیر فصل اچھی نہیں ہوتی۔ واؤچر اسکیم کی جانب سےکھاد کی تقسیم سے ہماری فصلوں کے معیار اور پیداوار پر بہت فرق پڑے گا"۔

41 سالہ شیر محمد کابل کے ضلع سوسنگ کا رہائشی ہے 

" میں اپنے 14 افراد پر مشتمل کنبے کی کفالت کے لئے گندم، انگور اور سبزیوں کی کاشت کرتا ہوں۔کنبے کی ضرورت سے زائد ہر چیز کابل اور پاکستان میں پشاور کی مارکیٹوں میں فروخت کردی جاتی ہے۔اور اس طرح ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔گزشتہ برس پانی کی کمی تھی اور پالے کی وجہ سے انگور کی فصل بھی متاثر ہوئی۔ فصلوں کی خرابی سے میں بہت فکر مند تھا۔اس سال بارش بھی زیادہ ہوئی ہے اور کھاد بھی مل گئی ہے جس سے اب مجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں"۔

افغانستان پر ہمارے دیگر صفحات