افغان مذہبی رہنماؤں کا برطانیہ کا دورہ
20سے 24جولائی کے دوران تین افغان مذہبی رہنماؤں نے برطانیہ کا دورہ کیاجس کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی مسلم کمیونٹی کے کردار کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں۔ فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس نے اس دورے کا اہتمام کیا تھا۔
افغان مہمان جہاں جہاں گئے، ان میں لیمبتھ پیلس، مسلم کلچرل ہیریٹیج سنٹر اور آکسفرڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز شامل ہیں۔
مذہبی رہنما افغان معاشرے کے نہایت محترم اور بااثر ترین افراد میں شمارہوتے ہیں۔ عوامی رائے پر اپنے اثرات کے حوالے سے یہ مذہبی رہنما دہشت گردوں اور فسادیوں کے پروپیگنڈہ کے خلاف جنگ میں طاقت ور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ زیادہ ترا سکالرز کو مغربی ملکوں میں جدید اسلامی معاشروں کے بارے میں بہت کم یا سرے سے کچھ علم نہیں ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے مذہبی رہنماؤں کو یہ دکھایا جائے کہ اسلام جمہوریت کے موافق ہے، تا کہ وہ اسلام سے متعلق برطانیہ کے رویے کے بارے میں مختلف منفی تاثرات کو ختم کرسکیں۔
اپنے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ’’ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں برطانیہ میں آکر کچھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ برطانوی مسلمان کیسے زندگی گزار رہے ہیں اور کیسے وہ مختلف عقیدوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اس اشتراک سے ان پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟ ہم نے لیمبتھ پیلس ، ٹونی بلیئر فیتھ فاؤنڈیشن، آکسفرڈ سنٹر آف اسلامک اسٹڈیز اور لندن سنٹرل ماسک کے بارے میں سنا تھا کہ وہ مختلف عقیدوں کے آپسی مکالمے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ اسلام کے بارے میں مغرب کی تفہیم کو بہتر بنانے میں افغانستان اپنا کردار ادا کرسکے اور جہاں ممکن ہو وہاں رابطہ سازی کے ذریعے عام افغانیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا کام کیا جا سکے"۔
اس دورے پر رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایف سی او کے افغان گروپ کے سربراہ میتھو لوج نے کہا ’’ہم افغانستان کے مذہبی رہنماؤں کی میزبانی کرکے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ اس طرح کے دورے ان دونوں ملکوں کے درمیان افہام و تفہیم کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ ایف سی او کے کام کا ایک اہم حصہ اس بات کو یقینی بنانے سے متعلق ہے کہ افغانستان کے لیے برطانیہ کی معاونت ممکنہ حد تک مؤثر ہو۔ رہنماؤں سے ایسے روابط ہمارے کام میں مدد کرتے ہیں اور اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں ہمارے مفادات مشترک ہوں، وہاں مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ جیسے افغانستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں مل کر کام کیا جا سکتا اور افغانیوں کی مدد کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسی حکومت کی تشکیل کریں جو ان کی بنیادی ضروریات کے مطابق ہو"۔
اس دورے کو افغانی مہمانوں اور ان کے برطانوی میزبانوں دونوں ہی نے خوش آئند قرار دیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مختلف شعبوں میں افغان رہنماؤں کے ساتھ ہمارے رابطے گہرے ہورہے ہیں۔
{BSNVideoLink:1}