افغانستان کے بارے میں
کئی عشروں کے مصائب،جنگ اور خانہ جنگیوں کے سبب افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔وہاں سنگین چیلنجز ہیں لیکن زبردست پیشرفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
کئی عشروں کی جنگوں اور تنازعات نے افغانستان کو دنیا کے غریب ترین ملکوں شامل کئے رکھا ہے۔
ہر پانچ میں سے ایک بچہ اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے مر جاتا ہے۔
افغانوں کی ایک تہائ آبادی روزانہ درکار کم ازکم کیلوریز سےبھی کم حاصل کر پاتی ہے۔
15تا 24 سال عمر کے ایک تہائی افراد خواندہ ہیں۔
کیا وہاں کوئی ترقی ہورہی ہے؟
افغانستان میں سنگین چیلنجز ابھی باقی ہیں۔لیکن 2001 کے بعد سے ہم نے وہاں حقیقی ترقی دیکھی ہے:
تقریبا 4۔5 ملین بچے اب اسکول جاتے ہیں۔2001 میں یہ تعداد ایک ملین تھی۔ان میں تہائی سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے جن پر طالبا ن نے اسکول کے دروازے سر کاری طور پر بند کر دئیے تھے۔
نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 2001 کے مقابلے میں (ہر 1000 میں سے 185 ) 2005 تک(ہر 1000 میں سے 129) کمی واقع ہوگئی ہے۔
افغان عوام کی دو تہائی تعداد کو طبی دیکھ بھال میسر ہے جو پانچ سال پہلے ہر دس میں سے صرف ایک کو مل پاتی تھی۔
آئی ایم ایف نے اس مالی سال معاشی نمو میں 12 فی صد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
افغانستان کے لئے بر طانیہ کا تعاون
12 دسمبر کو ایوان میں اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ بر طانیہ 2009 اور 2012 کے درمیان افغانستان میں ترقی اور استحکام کے لئے 450 ملین پاؤنڈ دے گاجس سے مختصر اور طویل مدت کی ترجیحات دونوںپر کام کیا جا سکے گا۔
بر طانیہ نے 2001 کے بعد سے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے ایک بلین پاؤنڈ سے زیادہ کا کمٹ منٹ کیا ہے۔اس میں جنوری 2006 میں لندن میں ہونے والی کانفرنس میں کیا جانے والا 500ملین پاؤنڈ کا وعدہ شامل ہے۔یہ کانفرنس بر طانیہ، اقوام متحدہ اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوئی تھی۔
29،000 سے زیادی کمیونٹی منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی گئی
9،300 کلومیٹر صرکیں تعمیر کی گئیں
17،80 کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسلوں میں مقامی ترقی کے لئے 179 ملین پاؤنڈ سے زائد کی گرانٹ تقسیم کی گئی
375،000 افغانوں میں مائیکرو فائانس کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کے چھوٹے قرضے فراہم کئے گئے
ہلمند صوبے میں ہماری امداد کی نوعیت کیا ہے؟
2006 سے بر طانیہ لشکر گاہ میں پی آر ٹی( پراونشل ری کنسٹرکشن اتھارٹی)کے ذریعے 200 فوری نتائج کے منصوبوں کو رقم فراہم کی ہے۔ان میں سے 81 منصوبے تعمیر نو سے متعلق تھے اور ان میں سے 52 مکمل ہو چکے ہیں۔
لشکر گاہ میں ڈیفڈ کی مدد سے 50 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔