افغانستان میں ہماری موجودگی کی حکمت عملی
وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 29 اپریل 2009 میں پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا تھا جس میں افغانستان اور پاکستان میں ہماری کارروائیوں کی حکمت عملی واضح کی گئی تھی۔وزیر اعظم نے کہا تھا
" افغانستان کے لئے ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اس ملک کو ایک جمہوریت کے طور پر اتنا مضبوط کردیا جائے کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے سامنےڈٹ سکے اور اس پر قابو پا سکے۔"
وزیر اعظم نے ان اہم میدانوں کا ذکر کیا تھاجن میں مزید کام کرکے افغان کنٹرول اور مزاحمت کو مستحکم تر کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ ہیں:
- افغان پولیس اور فوج کی تعمیر اور قانون کی حکمرانی کا قوی کیا جانا
- ہر سطح پر افغان جمہوریت کو مستحکم کرنا جس کو معتبر اور سب کو شامل کئے جانے والے انتخابات کے ذریعے یقینی بنایا جائےگا
- افغانستان میں لوکل گورنمنٹ کو مستحکم کرنا جس میں مقامی شوری جیسے روایتی افغان ادارے شامل ہیں
- افغان عوام کو معاشی ترقی کے ذریعے اپنے مستقبل میں زیادہ شراکت فراہم کرنا۔
یہ اس حکمت عملی کی بنیاد پر ہے جس کا اعلان انہوں نے 12 دسمبر 2007 کو پارلیمنٹ کے سامنے ایک بیان میں کیا تھا۔ اس میں سیکیورٹی سے متعلق، سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے ایک جامع فریم ورک دیا گیا تھا۔
اس کے اہم نکات یہ تھے:
- زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کے لئے افغانوں کی حوصلہ افزائی جس میں سیکیورٹی کا شعبہ شامل ہے
- مقامی سطح پر جمہوریت اور گورننس کی تشکیل کی کوششوں میں افغان حکومت سے تعاون
- سیاسی طریقہ کار کے ذریعے شورش کو منتشر کرنے کی حکومت افغانستان کی کوششوں کی حمایت
- اقتصادی بحالی اور سماجی/ معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے والے انی شئیٹو کی معاونت کے ذریعے حکومت کی مدد تاکہ وہ افغان عوام کے مطالبوں کو پورا کرسکے۔