اس وقت دہشت گردی کے خلاف محاذ آرائی میں سب سے بڑی عالمی ترجیح افغانستان اور پاکستان کی درمیانی سرحد ہے۔ہم افغانستان میں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ، عالمی استحکام اور سلامتی کے لئے موجود ہیں تاکہ یہ ملک ایک بار پھر دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ نہ بن جائے جہاں سے وہ ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ہم آج تک قائم ہونے والے وسیع ترین عالمی اتحادوں میں سے ایک کا حصہ ہیں جس میں 40 سے زیادہ ممالک شامل ہیں۔
برطانیہ کی حکمت عملی کیا ہے؟
ہم اور عالمی کمیونٹی افغانستان میں اس لئے ہیں کہ اسے دہشتگردوں کے لئے پناہ گاہ بننے سے محفوظ رکھ سکیں۔ہم نے پہلے ہی القاعدہ کو افغانستان سے نکال دیا ہے۔ اگلا مرحلہ افغانوں کو ایک ایسے مضبوط معاشرے کی تعمیر میں مدد دینا ہے جو ملک کے استحکام کو پائیداری عطا کر سکے۔وزیر اعظم نے ہماری حکمت عملی کو پارلیمنٹ میں 29 اپریل 2009 کو پیش کیا تھا۔
برطانیہ کیا کررہا ہے؟
ہم افغان سیکیورٹی فورسز کی تعداد اور استعداد میں اضافے کے لئے معاونت کر رہے ہیں۔بین الاقوامی فوجیں وہاں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک افغان آرمی اور پولیس افغان عوام کی حفاظت کے قابل نہ ہوجائے۔ہم ایسی حکومت بنانے میں افغان عوام کی معاونت کر رہے ہیں جو لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے اور افغانستان کو ترقی کا موقع فراہم کر سکے۔
ہماری فوری ترجیح افغان حکام کو اگست میں ایک معتبر، سب کو لے کر چلنے والے اور محفوظ صدارتی اور صوبائی کونسل انتخابات منعقد کرانے میں مدد دینا ہے۔یہ اس عمل کا ایک حصہ ہے جس کے ذریعے افغان اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں لے سکیں گے۔ہماری فورسز، ہمارے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کرافغان سیکیورٹی فورسز کو انتخابات کو ممکن بنانے میں مدد دے رہی ہیں اور ہم نے انتخابی عمل کے لئے 5۔16 ملین پاؤنڈ فراہم کئے ہیں۔
برطانیہ یہ کام کس طرح انجام دے رہا ہے؟
افغانستان بھر میں 9000 برطانوی فوجی کام کر رہے ہیں جن میں سے 6000 ہلمند میں ہیں۔وہ بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں جس کا مقصد اس وقت تک افغان عوام کا تحفظ اورشورش کا مقابلہ کرنا ہے جب تک افغان سیکیورٹی سروسز خود یہ کام کرنے کے قابل نہیں ہو جاتیں۔
ہم عالمی اتحاد میں دوسرے سب سے بڑے حصےدار ہیں۔ برطانوی فوجی اور سویلین عملہ افغان حکام اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اور ہلمند میں برطانیہ کے زیر قیادت سول ملٹری مشن میں افغان حکام کی معاونت کر رہا ہے تاکہ وہ استعداد میں اضافہ کریں اور کام کے قابل ہوسکیں۔کابل میں برطانوی سفارتخانہ ہمارے سب سے بڑے مشنوں میں سے ایک ہے۔
ہم بین الاقوامی کمیونٹی کے اداروں، اقوام متحدہ اور عالمی بنک اورافغان حکام کے ساتھ مل کر افغان عوام کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی حکومت اور اپنے معاشرے کی تعمیر کر سکیں۔ہم افغانستان کے لئے تیسرے بڑے عطیات دہندہ ہیں اور ہم نے اگلے چار سال کے لئے 500 ملین پاؤنڈ سے زائدکی امداد کا وعدہ کر رکھا ہے۔
حکومت کس طرح برطانوی فوج کی معاونت کر رہی ہے؟
ہم اپنی فورسز کی معاونت کے لئےہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ہم نے افغانستان میں کارروائی کے لئے 2006 سےہر سال فنڈ میں اضافہ کیا ہے جو 7-2006 میں 700 ملین پاؤنڈ سے بڑھ کر اس سال 3 بلین پاؤنڈ سے زیادہ ہو چکا ہے۔یہ دفاعی بجٹ کے علاوہ ہے۔ہم نے نئی گاڑیوں پر 1 بلین پاؤنڈ سے زیادہ صرف کیا ہے اور گزشتہ دو سال میں ہم نے کل 1200 نئی گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے۔افغانستان میں امریکی فوج کے بعد ہمارا ائرکرافٹ فلیٹ سب سے بڑا ہے اور ہم اپنے ہیلی کاپٹر فلیٹ کو ترقی دے رہے ہیں تاکہ وہ افغانستان کے مشکل حالات میں بخوبی کام کر سکیں۔ہم آرمی کے لنکس ہیلی کاپٹرز کو آلات سے لیس کرنے کے لئے تقریبا 70 ملین پاؤنڈ خرچ کر رہے ہیں جو معاہدے پر دستخط ہونے کے ایک سال کے اندراگلے موسم بہار میں کام کرنے لگیں گے