افغانستان پر مذاکرہ
سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے 16جولائی کو افغانستان میں ’ہاؤس آف کامنز‘ میں ایک مذاکرے میں حصہ لیا۔ انھوں نے فوجی آپریشن میں شامل فوجیوں کی تعریف کی اور ہمارے مشن کے مقصد کی ازسر نو وضاحت کی۔
{BSNVideoLink:1} پورا بیان
افغانستان میں فوجی آپریشن کو اب آٹھ سال ہوچلے ہیں اور اس جنگ میں عراق کی جنگ سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم وہاں موجود صورت حال پر باقاعدگی سے تبصرہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آج اس مذاکرے کا اہتمام کیا ہے۔
مذاکرے میں شرکاء جس انداز سے بھی تقسیم ہوں، میں جانتا ہوں کہ یہ مجلس ایک حوالے سے اس انداز میں متحد ہے جیسے ووٹن بیسیٹ کے لوگ منگل کے دن تھے۔ ہم اس عقیدے کی وجہ سے متحد ہیں کہ ہمارا ہر فوجی ملک کے لیے ایک اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ کہ پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بڑھ کر ہر فوجی کے ساتھ بہادری اور دلیری کی ایک انفرادی کہانی بھی جڑی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم نے منگل کے روز دیکھا کہ ہر فوجی کی شہادت ہمارے لیے گہرے دکھ کا باعث ہے جسے ہم کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔
آج لیفٹیننٹ کرنل روپرٹ تھارنیلو کی تدفین ہے جو بہت معروف تھے۔ ’ہاؤس‘ کے اراکین میں اپنے تمام فوجیوں، سفارت کاروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے کارکنوں ، ان مشکل اور خطرناک حالات میں مصروف عمل رہنے والے ہمارے حلیفوں اور پارٹنروں، اور بہت سے افغانی اور پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کو سلام پیش کرنا چاہوں گا جنھوں نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
افغانستان میں اس مخصوص مشن کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنانا کہ، القاعدہ کو افغانستان کی حدود سے باہر نکال کر، پھر سے قائم ہونے والی طالبان کی حکومت کے محفوظ سایے میں واپسی نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم نے دسمبر 2007اور اپریل 2009میں اسی ہاؤس میں یہ مشن واضح کیا تھا ۔ اس مشن پر نیٹو کے سبھی ملکوں نے اتفاق رائے کیا تھا جس کے نتیجے میں گزشتہ سال بخارسٹ سمٹ میں یہ عہد کیا گیاکہ،’’نہ ہم اور نہ ہمارے افغان پارٹنرز ہی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو اجازت دیں گے کہ وہ افغانستان پر پھر سے قبضہ کریں یا اسے اپنی دہشت گردی کے مقصد کے لیے استعمال کریں۔‘‘
یہ مشن فروری میں شائع ہونے والی امریکی حکمت عملی کے بھی عین موافق ہے۔ صدر اوبامہ کے الفاظ میں:
’’اگر افغان حکومت طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے یا القاعدہ کو بلا روک ٹوک کام کرنے دیتی ہے، تو یہ ملک پھر سے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا جو ہمارے لوگوں کو ممکنہ حد تک تعداد میں مارنا چاہتے ہیں۔‘‘
مشن کے اتحاد پر پھر سے بات کرنے کا مقصد دوہرا ہے۔ ایک تو ہمارے مقاصد کی ذاتی وجوہ اور ان کے حقیقی پن کو اجاگر کرنا، اور دوسرے اس بات پر اصرار کرنا کہ یہ ایک مشترکہ آپریشن ہے۔ حکمت عملی مشترکہ ہے اور اسی طرح وسائل بھی۔ میں اس بات پر کسی اور موقع پر بات کروںگا۔
{BSNVideoLink:1}افغانستان پر فارن سیکریٹری کا بیان
برطانوی فارن سیکریٹری نے برطانوی پارلیمنٹ میں افغانستان کے فوجی آپریشن پر بات کی ہے جو پچھلے آٹھ سال سے جاری ہے اور جس کے نتیجے میں عراق کے تنازعے کی نسبت کہیں زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس بات پر اصرار کیا کہ افغانستان میں موجودہ صورت حال پر پارلیمنٹ میں باقاعدگی سے تجزیہ ہونا چاہئے۔ انھوں نے یہاں تک کہاکہ اگرچہ اس تنازعے کے بارے میں مختلف معاملات پر اختلاف رائے موجود ہے لیکن پھر بھی برطانیہ مجموعی طور پر اپنی حلیف فوجوں کی مدد کے لیے متحد ہے۔
برطانوی فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ،" افغانستان کے حوالے سے سب سے اہم بات یوں بیان کی جا سکتی ہے کہ اس بات کو یقینی بناناہے کہ القاعدہ کو افغانستان کی حدود سے باہر نکال کر، اس ملک کو پھر سے قائم ہونے والی طالبان حکومت کے سائے تلے نہیں آنے دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے دسمبر 2007اور اپریل 2009میں یہ مشن اسی ایوان میں بیان کیا تھا۔ یہ وہ مشن ہے جس پر نیٹو کے تمام ممالک نے اتفاق رائے ظاہر کیا اور یہ گزشتہ سال بخارسٹ سمٹ میں اس عہد کی صورت میں ظاہر ہوا کہ نہ ہم اور نہ ہمارے افغانی پارٹنرز انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو اجازت دیں گے کہ وہ افغانستان پر پھر سے قبضہ کریں یا اسے دہشت گردی کے لیے مرکز کے طور پر استعمال کریں۔ یہ مشن امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جو فروری میں شائع ہوئی تھی۔ جیسا کہ صدر اوباما نے کہا کہ اگر افغان حکومت طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتی ہے یا وہ القاعدہ کو بلا روک ٹوک کام کرنے دیتی ہے، تو یہ ملک پھر سے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جائے گا جو ہمارے لوگوں کو ممکنہ حد تک زیادہ تعداد میں مارنا چاہتے ہیں"۔
فارن سیکرٹری پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ وضاحت کریں کہ کیوں وہ اس آپریشن کو مشترکہ آپریشن قرار دیتے ہیں۔ ان پر اعتراض کرنے والوں کی دلیل تھی کہ اس آپریشن کا بوجھ بنیادی طور پر چند ملکوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ برطانوی فارن سیکرٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے اس موقع پر مزید کہا کہ ’’ہم نے اسی ایوان میں ایک سے زیادہ موقعوں پر اس بوجھ کو برداشت کرنے کےحوالے سے شراکت داری پر بات کی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ اس حوالے سے دوباتیں اہم ہیں یا اصل میں تین: ایک تو ان لوگوں کی تعداد جنھیں افغانستان میں بھیجا گیا ہے، دوسرے یہ کہ انھیں کہاں بھیجا گیا ہے، اور تیسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے کتنے شہری وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس بوجھ کو مل بانٹ کر برداشت کرنے کامطالبہ جائز ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات اہم ہے اور اسے ریکارڈ کا حصہ بننا چاہئے کہ ، اس کے بعد سے کہ جب پچھلی بار ہم نے اسی ایوان میں اس موضوع پر بات کی تھی، پولینڈ، جرمنی ، فرانس اور آسٹریلیا کی فوجوں میں اضافے ہوئے ہیں۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بوجھ کو بانٹنے کی بات ختم ہوگئی اور بے شک اس وقت سے اب تک جب ہم نے اسی فورم پر اس ایشو پر بات کی تھی، امریکہ نے اپنے حصے کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا ہے"۔
لبرل ڈیموکریٹ منیزی کیمپ بیل نے کہا کہ اگر اس بوجھ کو مناسب انداز میں بانٹنے کی کوشش نہیں کی گئی تو انھیں ڈر ہے کہ نیٹو میں دو درجے پیدا ہوجائیں گے۔
اس پر ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ’’نیٹو اپنی جسامت میں بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اثاثوں ہی میں نہیں بلکہ اس کردار میں بھی تنوع پایا جاتا ہے جو مختلف نیٹو ملک ادا کررہے ہیں۔ میں نیٹو کے پھیلاؤ کے عمل کا دفاع کروں گا لیکن ظاہر ہے کہ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرنی ہوگی کہ نیٹو کی رکنیت کی ذمہ داریوں کو بھی درست تناظر میں سمجھا جائے"۔
ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ اس آپریشن کے مقاصد بہت واضح ہیں۔’’مقصد بہت واضح ہے۔ کہ افغانیوں کو اس قابل بنانا کہ وہ خود اپنا دفاع کرسکیں۔ لیکن جب تک وہ یہ نہیں کرپاتے، ہمیں ان کی مدد کرنی ہوگی، اکثر پیدل چل کر اور ہمیشہ خطرے میں گھرے ہوئے رہ کر۔ اس قسم کی جارحانہ فوجی کارروائی جس کی وضاحت میں ’آپریشن پینتھر کلا‘ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کروں گا، اس لیے ضروری ہے کیوں کہ دہشت گردوں کو جڑ سے ختم کرنا ضروری ہے جو قانونی افغان حکومت کے لیے مسلسل ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس دوران میں افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت، سرپرستی اور افغان نیشنل آرمی میں ہر مہینے دو ہزار افراد کی شمولیت جیسی پیش رفت، پائیدار افغان حکومت کے لیے ایک بنیادی تعمیری جزو کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوسرے یہ کہ گورننس، مؤثر، جائز افغانی گورننس، مقامی لوگوں کو اعتماد میں لے کر کام کرتے ہوئے، استقلال کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود بنانے میں ان کی مدد کرتے ہوئے جب کہ اس کاوش کا محور بدعنوانی نہ ہو، یہ سب کچھ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کارگر نسخہ ہے۔ کیوں کہ اب اس بارے میں واضح ہونا نہایت ضروری ہے کہ مؤثر گورننس تمام افغانیوں کو، پشتونوں کے بشمول، سیاسی حق دینے کی متقاضی ہوتی ہے ۔ جب کہ یہ پشتون تحفظ یا سیاسی طاقت کے حصول کے لیے اس وقت طالبان کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں لیکن اصل میں وہ سیاسی نظام سے وابستہ ہیں۔
فارن سیکرٹری نے اس نقطے پر اپنی بات ختم کی کہ اتحادی فوجوں کے ایک محفوظ اور مستحکم افغانستان کے قیام کے مقاصد کے ساتھ برطانیہ پوری طرح متفق اور ان کا حامی ہے.