Skip navigation

افغانستان کے انتخابات برائے-10 2009: بنیادی معلومات

 

  •           پچھلے تیس سالوں میں افغان حکومت کے تحت ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں۔ اس سے پہلے 2004اور 2005میں اقوام متحدہ کے تحت صدارتی، پارلیمانی اور صوبائی کونسل کے انتخابات ہوئے۔
  •           یہ انتخابات اس عمل کا حصہ ہیں کہ افغان حکومت گورننس، تحفظ اور ترقی کی ذمہ داریاں زیادہ سے زیادہ قبول کرنے کے قابل ہو۔
  •           انتخابات نامساعد حالات میں منعقد ہوں گے خاص طور پر سیکورٹی کے مسائل کا سامنا ہوگا۔
  •           برطانیہ اور بین الاقوامی برادری چاہتی ہے کہ افغان حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات کو معتبر، محفوظ اور جامع بنائے۔
  •           انتخابات میں معاونت کے لیے برطانیہ نے 16.5ملین پاؤنڈ کی امداد فراہم کی ہے۔
  •           افغانیوں کی خواہش ہے اور ان کا یہ حق بھی ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کریں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم یہ مقصدحاصل کرنے میں ان کی مدد کریں گے۔
  •           افغان انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن ملک بھر میں انتخابات کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔ نیٹو کے تحت فراہم کی گئی انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (آئی ایس اے ایف)جس میں برطانوی فوجی بھی شامل ہیں،ضرورت کے وقت ٹرانسپورٹ کی سہولت اور ہنگامی حفاظتی امداد فراہم کرے گی۔
  •           وہ اختیار اور جواز، جو انتخابات افغان حکومت کو عطا کرتے ہیں، دہشت گردوں کی ان کوششوں سے قطعی مختلف ہے جو طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
  •           دوسرے بین الاقوامی پارٹنرز کی طرح ہم کسی خاص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے۔ ہم جمہوری انتخابی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

 

پس منظر

 

  •           افغانستان کو ایک مستحکم اور محفوظ ریاست بنانے کے لیے قابل اعتبار انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ ایسی ریاست جس میں لوگوں کی رائے تشدد کی بجائے سیاست کے ذریعے اپنا اظہار پائے۔
  •            2009-10میں ہونے والے انتخابات کی تیاری کے لیے برطانیہ گزشتہ دو سالوں سے افغانستان کے انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن، یونائیٹڈ نیشنز اسسٹنس مشن ٹو افغانستان، یُو این ڈویلپمنٹ پروگرام اور وسیع ڈونر برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
  •           اقوام متحدہ، افغان حکومت اور بین الاقوامی ڈونرز سے باہمی دلچسپی کے معاملات کو زیر بحث لانے اور دیگر متعلقہ مسائل کو حل کرنے میں کابل میں ہمارے سفارت خانے اور ڈی ایف آئی ڈی کے گورننس کے مشیروں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
  •           یونائیٹڈ نیشنز اسسٹنس مشن ٹو افغانستان یو این ڈی پی کے ذریعے ELECTپراجیکٹ کے تحت بین الاقوامی امداد فراہم کر رہا ہے۔اس مد میں برطانیہ نے بھی 16.5ملین پاؤنڈ کی امداد فراہم کی ہے۔ مجموعی طور پر افغانستان کے 10-2009کے صدارتی، پارلیمانی، صوبائی اور ضلعی کونسل کے انتخابات پر 300ملین ڈالر کے لگ بھگ لاگت آئے گی۔ ELECTکے تحت افغانستان کے انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن کی انتخابات کی نگرانی سے متعلق اہلیت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اسے تربیت دی گئی ہے کہ وہ ایسا مربوط اور باخبر جمہوری عمل تشکیل دے جو انتخابات میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنائے۔
  •           اس حوالے سے ELECTاور دوسرے پراجیکٹس کی صورت میں بین الاقوامی امداد موجود ہے تاکہ امیدواروں کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کی جائے، ووٹروں کی سماجی تربیت کی جائے، ان ووٹروں کو انتخابی عمل سے آگاہ کیا جائے اور انھیں ترغیب دی جائے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔
  •           افغانستان کے 20اگست 2009کو ہونے والے صدارتی اور صوبائی کونسل کے انتخابات کے لیے نامزدگی کے کاغذات جمع کرانے کی آخری تاریخ 8مئی ہے۔ الیکشن کمپلینٹس کمیشن نے 14جون کو اہلیت کے معیار پر پرکھنے کے بعد اہل امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی تھی۔ دو صدارتی امیدواروں، نائب صدر کے عہدے کے لیے ایک امیدوار اور صوبائی کونسل کے لیے 54امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا۔ زیادہ تر کا تعلق غیر قانونی مسلح گروپوں سے تھا۔ افغانستان کے انتخابات کی مہم مقررہ شیڈول کے مطابق6جون کو شروع ہوئی۔
  •           41صدارتی امیدوار الیکشن لڑرہے ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ صوبائی کونسل کے انتخابات کے لیے 3,196امیدواروں نے اب تک رجسٹریشن کروائی ہے جن میں 342خواتین ہیں جب کہ 2005میں رجسٹریشن کروانے والی کل خواتین سے یہ 40زیادہ ہیں۔

ووٹر رجسٹریشن (یہ اکتوبر 2008سے فروری 2009کے دوران ہوئی)۔

  •           ووٹر رجسٹریشن اور انتخابات کی دیگر تیاریوں کی نگرانی انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن کررہاہے۔
  •           افغان حکومت کے تحت جاری رجسٹریشن کا عمل پیشہ وارانہ اور پرامن انداز میں مکمل ہوگیاہے۔ افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی فورسز (افغان نیشنل پولیس اور فوج) نے بخوبی تمام تر حفاظتی انتظامات کیے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حقیقی ترقی شروع ہوچکی ہے۔
  •           انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن نے 5/2004سے اب تک ووٹروں کی رجسٹریشن کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ جنھوں نے اپنی رجسٹریشن پہلے سے کروا لی ہوئی ہے، انھیں دوبارہ اس عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے نئے رجسٹر ہونے ولے ووٹروں (جن کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے)کی تعداد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انتخابات میں یہ سبھی شرکت کریں گے۔ لیکن یہ تعداد ایک اچھا شگون ہے جو عوام کی جمہوریت میں دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

صدارتی انتخابات ۔ 20اگست 2009(ممکنہ طور پر اس کا دوسرا راؤنڈ ستمبر کے آخر میں ہوگا)

  •           پچھلے تیس سالوں میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ انتخابات کا انعقاد افغان حکومت کے تحت ہورہا ہے جب کہ اسے بین الاقوامی معاونت بھی حاصل ہے۔
  •           صدر کے عہدے سے متعلق تمام قواعد افغانستان کے 2004کے آئین میں شامل ہیں۔ آئین کے مطابق صدر کرزئی کے عہدے کی آئینی مدت 22مئی 2009کو ختم ہوجائے گی۔ انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن نے مالی، تحفظ اور ٹرانسپورٹ وغیرہ سے متعلق مسائل کے پیش نظر اعلان کیا  کہ صدارتی انتخابات قانونی طور پر مؤخر بھی کیے جا سکتے ہیں اور یہ 20اگست 2009 کو منعقد ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی تائید کی اور صدر کرزئی کے عہدے کی مدت میں توسیع کردی۔
  •           افغانستان کے پہلے صدارتی انتخابات 2004میں منعقد ہوئے۔ افغانیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان انتخابات میں حصہ لیا۔ صدر کرزئی نے نمایاں اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی(انھیںپچاس فیصد سے زیادہ ووٹ ملے جب کہ ان کے مخالف امیدوار کو  17فیصد کے قریب ووٹ ملے۔)ان انتخابات کا انعقاد اقوام متحدہ کے ادارے ’جوائنٹ الیکٹورل منیجمنٹ بورڈ‘ نے’ آئی ایس اے ایف‘ کی معاونت سے کیا۔
  •           ہم توقع کرتے ہیں کہ ابتدائی نتائج 3ستمبر تک  منظر عام پر آئیں گے۔ انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن حتمی نتائج کا اعلان 17ستمبر کو کرے گا۔ جو امیدوار پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرلے گا، کامیاب ٹھہرے گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو دوسری مرتبہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان پھر سے مقابلہ کروایا جائے گا۔ دوسری بار انتخابات ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں ہوں گے۔ اوقات کار کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے: www.iec.org.af/assets/PDF/PressRelease/IECPress/ReleaseElectionTimeline 19 03 %2009%.pdf
  •           تقریباً 400بین الاقوامی انتخابی مبصر اور انتخابات سے متعلق تیکنیکی ماہرین، جن میں 100یورپی یونین سے ہیں، متعین کیے جا رہے ہیں۔ سات ہزار سے زائد مقامی مبصرین بھی ملک بھر میں پولنگ سٹیشنوں پر موجود ہوں گے جب کہ اس کام کے لیے یواین ڈی پی کے پراجیکٹ ’ایلیکٹ ‘ سے تعاون حاصل ہوگا۔ یہ مبصرین ووٹوں کی گنتی کے درست ہونے کو یقینی بنائیں گے۔

 

صوبائی کونسل انتخابات ۔ 20اگست 2009

 

  •           صوبائی کونسل کے انتخابات (کسی حد تک انہیں برطانیہ کے کاؤنٹی کونسل انتخابات کے مساوی قرار دیا جا سکتا ہے۔)بھی اسی وقت ہوں گے جب صدارتی انتخابات ہورہے ہوں گے۔
  •           صوبائی کونسلیں صوبائی کونسلروں پر مشتمل ہوں گی جن میں سے ہر ایک چار سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ صوبائی کونسل صوبائی اور مقامی معاملات کو طے کرے گی لیکن اصل میں اس کا کام ایک مشاورتی ادارے کا ہوگا۔
  •           صوبائی کونسلوں کے اختیارات مقامی سطح پر صوبائی گورنر کے اختیارات ہی کا حصہ ہوتے ہیں۔صوبائی گورنر کا انتخاب صدر کرتا ہے۔ صوبائی گورنرکے پاس مخصوص بجٹ ہوتا ہے جسے وہ خرچ کرسکتا ہے اور وہ اپنے صوبے میں ضلعی ضلع گورنر بھی مقرر کرسکتا ہے۔

پارلیمانی انتخابات ۔ 2010(تاریخ مقرر کرنا ابھی باقی ہے

  •           پارلیمانی انتخابات 2010میں منعقد ہوں گے۔ قومی سطح پر افغان عوام 249اراکین صوبائی اسمبلی منتخب کرتے ہیں۔ ہلمند صوبے سے آٹھ اراکین صوبائی اسمبلی ویلسی جرگہ میں اور تین سینیٹرز میشرانو جرگہ میں جاتے ہیں۔ آخری پارلیمانی انتخابات 2005میں منعقد ہوئے۔ اس میں 51.5فیصد ووٹروں نے حصہ لیا۔ یہ شرح گزشتہ سال صدارتی انتخابات میں ووٹروں کی شرکت کی شرح سے کم تھی، لیکن پھر بھی پارلیمانی انتخابات افغانستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئے۔
  •           وولسی جرگہ میں ایک چوتھائی نشستیں آئینی کوٹہ کے تحت عورتوں کے لیے مخصوص ہیں۔

ضلعی کونسل انتخابات ۔ 2010(تاریخ مقرر کرنا ابھی باقی ہے)۔

  •           اولین ضلعی کونسل کے انتخابات 2010میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ منعقد ہوں گے۔ ضلعی کونسلیں مقامی کمیونٹیز سے رابطہ رکھیں گی اور مقامی نوعیت کے تنازعات کا تصفیہ کریں گے۔  ضلعی کونسل کے انتخابات منعقد ہونے تک گورننس کے اس خلا کو بعض اوقات مقامی ’شوری‘ (مقامی بااثر افراد کی مجلس)کے ذریعے پُر کیا جاتا ہے۔

 

مزید معلومات

 

انتخابی عمل ، بشمول اہم تاریخوں، امید واروں کی فہرستوں اور اہم حقائق کے بارے میں جاننے کے لیے انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ دیکھئے:

www.iec.org.af/content.asp?id=pressr

 

www.iec.org.af/content.asp?id+brochures

 

یواین ڈی پی کے پراجیکٹ ’ELECT‘ ،جو افغانستان کے انتخابات کے لیے بین الاقوامی معاونت کے بنیادی وسیلے کی حیثیت رکھتا ہے، کے بارے میں تفصیلات اس ویب ایڈریس سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

www.undp.org.af/WhoWeAre/UNDPinAfghanistan/Projects/dcse/prielect.him

 

2001کے بعد سے اب تک افغانستان میں جمہوری ترقی کی تاریخ پڑھنے اور اس حوالے سے برطانیہ نے جو معاونت فراہم کی، اس کے بارے میں جاننے کے لیے ’oreign Affairs Committee Global Security Inquiry on Afghanistanکا صفحہ 215پڑھئے: (v83-85-FCO Memorandum of Evidence - 'Politics and Reconciliation section)

www.publications.parliamen

www.publications.parliament.uk/pa/cm200809/cmselect/cmfaff/302/302.pdf