افغانستان میں برطانیہ کی کاوشیں
افغانستان میں ہماری موجودگی کی حکمت عملی
وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 29 اپریل 2009 میں پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا تھا جس میں افغانستان اور پاکستان میں ہماری کارروائیوں کی حکمت عملی واضح کی گئی تھی۔وزیر اعظم نے کہا تھا
" افغانستان کے لئے ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اس ملک کو ایک جمہوریت کے طور پر اتنا مضبوط کردیا جائے کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے سامنےڈٹ سکے اور اس پر قابو پا سکے۔"
افغانستان میں برطانیہ کی کاوشیں
افغانستان میں ہمارا کردار برطانیہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے بہت بڑے چیلنج کا آئینہ دار ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’یہ وہ مقاصد ہیں جو واضح اور باجواز ہیں۔ اور حقیقی اور قابل حصول بھی۔ یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ ایک محفوظ برطانیہ کے لیے ایک محفوظ افغانستان کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں گذشتہ ہفتے میں اس بات کا مزید قائل ہوا کہ ہمیں درپیش چیلنجز کے باوجود تین دہائیوں سے ہونے والے تشدد سے بچ کر نکلنے والی قوم کے زخم مندمل ہوسکتے ہیں اور اسے مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور یہ کہ ہمارا ملک اور ساری دنیا بھی محفوظ بنائی جا سکتی ہے کیوں کہ اپنے بنیادی کام کو مکمل کرنے کے لیے ہمارے پاس اقدار، حکمت عملی اور حل موجود ہے۔ ‘‘ وزیر اعظم نے 14اکتوبر 2009کو افغانستان میں برطانیہ کی سرگرمیوں کے بارے میں تازہ جائزہ پیش کیا۔ پارلیمنٹ سے ان کے خطاب کی تفصیلات پڑھنے کے لیے10ڈاوننگ اسٹریٹ ویب سائٹ کا لنک ملاحظہ کیجئے۔
افغانستان میں برطانیہ کی کاوشیں
- افغانستان کے انتخابات برائے-10 2009: بنیادی معلومات
- افغانستان کے بارے میں اکثر کئے جانے والے سوالات
- افغانستان میں ہماری موجودگی کی حکمت عملی
- افغانستان پر مذاکرہ
- افغانستان کے بارے میں
Recent news and events
ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد
20/11/2009
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے
'میں یہاں گواہ کی حیثیت سے آیا ہوں'
19/11/2009
فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے افغانستان کے صدر حامد کرزائی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی
افغانستان میں جنگ ختم کی جا سکتی ہے
18/11/2009
ایڈنبرا میں نیٹو پارلیمانی اجلاس میں فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ کی تقریر