Skip navigation

دولت مشترکہ کے مستقبل کے بارے میں آپ بھی کچھ کہئے

 فارن سیکرٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے دولت مشترکہ کے مستقبل پر ایک عالمی مذاکرے کا آغاز کیا۔

 

'کامن ویلتھ کانورسیشن‘ سے دنیا بھر میں حکومتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور عوام کو ایک پلیٹ فارم ملے گا جہاں وہ دولت مشترکہ کے مستقبل پر بات کرسکیں گے۔

 

2009میں دولت مشترکہ کو قائم ہوئے ساٹھ سال ہوجائیں گے۔ یہ تاریخ ساز سال ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ماضی کے بارے میں غور کریں اور یہ سوچیں کہ مستقبل میں اس تنظیم کے لیے کیاکچھ ہے۔

 

رائل کامن ویلتھ سوسائٹی (آر سی ایس) 53اراکین پر مشتمل اس تنظیم کے مستقبل کے بارے میں عوامی مشاورت کا پرجوش منصوبہ شروع کررہی ہے۔آن لائن مذاکرے کے فورمز، مخصوص گروپس، عوامی رائے شماری، اور دنیا بھر میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے مشاورت حاصل کی جائے گی جس سے اس بارے میں آئیڈیاز حاصل کیے جائیں گے کہ اکیسویں صدی میں دولت مشترکہ کو کیسے پہلے سے زیادہ فعال بنایا جائے۔

 

مذاکرے کے آغاز پر بات کرتے ہوئے ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ،’’جدید دولت مشترکہ کو بکھری ہوئی آوازوں کو یکجا کرنا ہوگا، جب کہ ایسا کرنے کے لیے صرف مضبوط قیادت کی نہیں بلکہ بھرپور سرگرمی کی ضرورت ہے"۔

 

اس مذاکرے کے لیے فارن آفس نے سپانسر شپ مہیا کی لیکن اس کا انتظام دولت مشترکہ کے لیے مختص سب سے پرانی اور سب سے بڑی تنظیم ’رائل کامن ویلتھ سوسائٹی‘ نے اپنے طور پر کیا ہے۔

 

اس سرگرمی کے نتائج کو نومبر میں ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو میں دولت مشترکہ کے حکومتی سربراہان کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

 

شامل ہونے کے لیے میں Commonwealth Conversation

مکمل تقریر

{BSNVideoLink:1}