Skip navigation

دولت مشترکہ

دولت مشترکہ 53ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کا ایک منفرد کنبہ ہے۔ یہ خود مختار آزاد ریاستوں کی ایک رضاکارانہ تنظیم ہے۔ دولت مشترکہ میں شامل دو ارب لوگ دنیا کی کل آبادی کے تیس فیصد کے برابر ہیں اور یہ متنوع عقیدوں، نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب کہ اس کے اراکین ایک مشترکہ عملی زبان اور قانون، عوامی انتظامیہ اور تعلیم کے ایک مشترکہ نظام کے حامل ہیں۔

           

اس سے رکن ملکوں اور ان کے علاوہ دوسرے خطوں میں بھی جمہوریت، انسانی حقوق اور پائیدار معاشی اور سماجی ترقی کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

 

ڈیکلریشنز

 

دولت مشترکہ کا ڈھانچہ بنیادی طور پر غیر تحریری اور روایتی طریقہ ہائے کار پر مبنی ہے اور اس حوالے سے کوئی باضابطہ چارٹر یا آئین موجود نہیں ہے۔ مختلف قوانین اور مقاصد کے حوالے سے یہ مختلف معاہدوں کی سیریز سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ یہ وہ ڈیکلریشنز اور بیانات ہیں جو مختلف اجلاسوں میں دولت مشترکہ کے حکومتی سربراہان نے جاری کیے۔ یہ سب مل کر دولت مشترکہ کی اقدار کے لیے ایک بنیاد قائم کرتے ہیں اور عالمی معاملات میں اس کی دلچسپی اور شمولیت کی تاریخ بھی مرتب کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سنگاپور ڈیکلریشن آف کامن ویلتھ پرنسپلز (971) اور ہرارے کامن ویلتھ ڈیکلریشن (991) ہیں جو واضح طور پر جمہوریت، قانون کے نفاذ اور اچھے اسلوب حکمرانی کے فروغ سے متعلق دولت مشترکہ کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ دولت مشترکہ کے حکومتی سربراہان کی اگلی میٹنگ 27سے 29نومبر2009کے دوران پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو میں منعقد ہوگی۔

 

دولت مشترکہ کا سیکریٹریٹ

 

دولت مشترکہ کا سیکریٹریٹ دولت مشترکہ کا اہم ترین ادارہ ہے جو ان فیصلوں کو لاگو کرنے کے لیے کارروائی کرتا ہے جو  53 رکن ممالک کی حکومتیں کرتی ہیں۔ 1965میں حکومتی سربراہان نے اسے قائم کیا تھا اور یہ لندن میں مارلبرا ہاؤس میں واقع ہے۔

 

اس کے ساتھ کی حکومتی تنظیموں میں کامن ویلتھ فاؤنڈیشن (یہ ادارہ بھی مارلبراہاؤس میں واقع ہے)اور کامن ویلتھ آف لرننگ (جو وینکوور، کینیڈا میں واقع ہے) شامل ہیں۔ کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کی قیادت دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل کملیش شرما (بھارت) کرتے ہیں جنھوں نے اس عہدے کی ذمہ داری یکم اپریل 2008کو سنبھالی تھی۔

 

حکومتی سربراہان سیکرٹری جنرل کا انتخاب زیادہ سے زیادہ چار برسوں کے لیے کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کی معاونت کے لیے دو ڈپٹی بھی کام کرتے ہیں۔ سیکریٹریٹ کے 252افراد پر مشتمل اسٹاف میں 53رکن ممالک کے تین تہائی حصے کی نمائندگی موجود ہے۔

 

سرگرمیاں

 

سیکریٹریٹ دولت مشترکہ کی کانفرنسوں، وزراء کے اجلاسوں، مشاورتی اجلاسوں اور ٹیکنیکل مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے۔ یہ پالیسی سازی کے عمل میں معاونت کرتا ہے اور پالیسی سازی کے لیے مشاورت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ رکن ملکوں کے درمیان کئی سطحی خبر رسانی میں بھی مدد کرتا ہے۔ مختلف حکومتوں کو یہ ملکی سماجی اور معاشی ترقی اور دولت مشترکہ کی بنیادی سیاسی اقدار کی حمایت کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے ۔ اس کی سرگرمیوں کے لیے طے شدہ بجٹ اور پروگرام فنڈز سے مدد کی جاتی ہے۔ تمام رکن حکومتیں اپنی ملکی آبادی اور آمدنی کی بنیاد پر قائم کیے گئے متفقہ اسکیل کے مطابق اس بجٹ میں اپناحصہ فراہم کرتی ہیں۔

 

مزید برآں دولت مشترکہ کی مخصوص سرگرمیوں کی معاونت کے لیے مخصوص فنڈز ہوتے ہیں۔

سب سے بڑا فنڈ ’کامن ویلتھ فنڈ فار ٹیکنیکل کوآپریشن (سی ایف ٹی سی)ہے جس کی 9-2008میں مالیت 28ملین پاؤنڈ ہے۔ یہ فنڈ 1971میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد ترقی پذیر ملکوں کے درمیان تکنیکی معاونت ، فنڈز سے متعلق تربیتی پروگرام، فیلڈ میں ماہرین کی تعداد، اورصنعت، معاشیات، قانون، برآمدات اور مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں مہارتوں کے خلاکو پرکرنے کے لیے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

 

دولت مشترکہ درج ذیل پروگراموں کے ذریعے جمہوریت اور ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے:

 

          -     جمہوری عمل اور اداروں کو مضبوط بنانے کی صورت میں امن کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا۔

 

          -  جمہوریت اور رائے عامہ کی تشکیل: کامن ویلتھ الیکشن آبزرور گروپس انتخابی عمل کی شفافیت کے بارے میں رپورٹ دیتے ہیں کہ کیا ووٹ ڈالنے والوں کو اپنی رائے کے اظہار کے مواقع میسر ہیں او رکیا انتخابات کے نتائج واقعی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں؟ کامن ویلتھ منسٹریل ایکشن گروپ (سی ایم اے جی) نو وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک گروپ ہے، جس کے پاس ان ملکوں کے خلاف اقدام کرنے کا اختیار موجود ہے جو جمہوری قواعد کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو اقدامات یہ کرسکتے ہیں، ان میں سب سے نرم صورت یہ ہے کہ صورت حال پر نظر رکھی جائے اور ان ملکوں کو کونسلوں سے عارضی طور پر خارج کردیا جائے۔ اگر سنگین صورت حال درپیش ہو تو ان ملکوں کو دولت مشترکہ سے مستقل خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت برطانیہ اسی گروپ کا رکن ہے لیکن سی ایچ او جی ایم 2009کے بعد اس میں تبدیلی ہوگی ۔

 

-  قانون کی حکمرانی:    قانون کی حکمرانی اس کا اہم ترین مقصد شمار کیا جاتا ہے جو تمام رکن ملکوں میں جمہوریت، اچھے اسلوب حکمرانی اور ترقی کے عمل کو فروغ دے کرحاصل کیا جاسکتا ہے۔

 

-  انسانی حقوق:           اس کا مقصد انسانی حقوق سے متعلق بنیادی عالمی   معاہدوں کو اختیار اور نافذ کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

 

-   عوامی شعبے کی ترقی:        اس کا مقصد اچھے اسلوب حکمرانی اور ترقی کے درمیان موافق روابط پیدا کرنا ہے۔

 

-   معاشی ترقی:           یہ ترقی پذیر ملکوں کی معاونت کرتی ہے تاکہ وہاں بین الاقوامی تجارتی قوانین اور ضوابط کے بارے میں آگاہی پیدا ہو اور عالمی ادارہ تجارت کے مذاکروں میں ان کی اثرانگیزی اور شمولیت میں اضافہ کرنے میں اس کی مدد کرتی ہے۔

 

-   ماحولیاتی حوالے سے پائیدار ترقی:     دولت مشترکہ صنعتی ملکوں کے اہم ترین شعبوں، گرین ہاؤس سے خارج ہونے والی گیسوں کے معاملے، ابھرتی ہوئی بڑی معاشی قوتوں، توانائی پیدا کرنے والے بڑے ملکوں اور چند غریب اور پسماندہ ترین ملکوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کا کام کرتی ہے۔

 

-   انسانی ترقی:            دولت مشترکہ ملینئم ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے کام کرتی ہے اور خاص طور پر تعلیم، صنفی امور اور صحت کے شعبوں میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔

 

دولت مشترکہ کی ساٹھویں سال گرہ

 

26اپریل 2009کو لندن ڈیکلریشن کی ساٹھویں سال گرہ منائی گئ ہے جس کی بناپر جدید دولت مشترکہ قائم ہوئی تھی۔

 

دولت مشترکہ کے آغاز کی کہانی ساٹھ سال سے بھی پیچھے تک پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم 1949اس حوالے سے ایک اہم سال ہے۔ اسی سال دولت مشترکہ کی مقبوضاتی میراث، مساوات، انتخاب اور اتفاق رائے پر قائم پارٹنرشپ میں تبدیل ہوگئی۔

 

اس سے پہلے 1926میں بالفور ڈیکلریشن کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ سب ہی رکن ممالک '’حیثیت میں ایک دوسرے کے برابر ہوں گے اور ان میں کوئی کسی دوسرے کے ماتحت نہیں ہوگا۔‘‘یہی ڈیکلریشن (3) اسٹیٹیوٹ آف ویسٹ منسٹر کے ساتھ قانون کے طور پر اختیار کرلیا گیا۔ تاہم یہ بھارت کی خواہش تھی کہ وہ آئین کی ایک عوامی حیثیت قائم کرنا چاہتا تھا جب کہ ساتھ ہی ساتھ وہ دولت مشترکہ سے اپنا تعلق بھی باقی رکھنا چاہتا تھا۔اس کے جواب میں دولت مشترکہ نے فوری طور پر اپنے قواعد و ضوابط پر نظرثانی کی۔

 

اپریل 1949میں آسٹریلیا، برطانیہ، سیلون، بھارت، نیو زی لینڈ، پاکستان، جنوبی افریقہ کے حکومتی سربراہان اور کینیڈا کے امور خارجہ کے سیکرٹری آف ا سٹیٹ نے لندن میں ملاقات کی تاکہ دولت مشترکہ کے مستقبل کے بارے میں بات کی جا سکے۔ اس کا نتیجہ ڈیکلریشن آف لند ن کی صورت میں سامنے آیا۔

 

ان کا آخری بیان کئی حوالوں سے جدت پسندانہ بھی تھا اور نہایت مؤثر بھی ۔ اس میں کہا گیا تھا کہ صاحب عظمی شاہ جارج ششم دولت مشترکہ کی تنظیم کے لیے ایک ’علامت‘ کی حیثیت رکھیں گے۔ انڈیا چاہے تو کنگ جارج ششم کو حکومت کے سربراہ کی حیثیت نہ دے لیکن انھیں دولت مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے تسلیم کرے۔ اس ڈیکلریشن میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ

خود مختار ملکوں کی ایک آزاد تنظیم  کی حیثیت سے رکن ملکوں کا دولت مشترکہ کے سربراہ سے ہی نہیں بلکہ امن، آزادی اور ترقی کی جدوجہد میں بھی آپس کا تعلق آزادی اور مساوات کی بنا پر قائم ہوگا۔ یہ بھی اسی موقع پر ہوا کہ اس کے نام میں سے برطانیہ کا لفظ نکال دیا گیا۔ شاہ جارج ششم فوت ہوئے، تو ان کی جگہ ملکہ الزبتھ دوم نے دولت مشترکہ کے سربراہ کی حیثیت سے باگ ڈور سنبھالی۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد مقبوضاتی نظام ختم ہوا تو بہت سے نئے ظاہر ہونے والے ملکوں کے لیے دولت مشترکہ کی رکنیت حاصل کرنا ایک قدرتی انتخاب بن گیا۔ 1957میں گھانا سے شروع کرتے ہوئے دولت مشترکہ نے افریقہ، کیریبئن، بحیرہ روم  اور بحر الکاہل کے خطوں سے بہت تیزی سے کئی نئے ملکوں کو رکنیت دی۔

 

دولت مشترکہ اب 53ملکوں کی ایک منفرد تنظیم بن چکی ہے اور اپنے لوگوں کے مشترکہ مفادات اور بین الاقوامی مفاہمت کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس میں دنیا کے سبھی بڑے براعظموں کے اہم ترین ممالک شامل ہیں۔ ڈیکلریشن کے منظور ہونے سے اب تک ساٹھ سالوں میں اس تعلق کی مناسبت اور افادیت پر بار بار بات ہوئی ہے اور اسے مضبوط بنایا گیا ہے۔

 

دولت مشترکہ کے ممالک(ملکوں کی ترتیب انگریزی حروف تہجی کے اعتبار سے)

 

 

اینٹی گوا اور باربودا

آسٹریلیا

بہاماز

بنگلا دیش

باربادوس

بیلیزے

بوٹسوانا

برونائی دارالسلام

کیمرون

کینیڈا

قبرص

ڈومینکا

جزائر فیجی

گیمبیا

گھانا

گریناڈا

گیانا

بھارت

جمائیکا

کینیا

کری باتی

لیسوتھو

ملاوی

ملائیشیا

مالدیپ

مالٹا

ماریشس

موزمبیق

نمیبیا

          نورو

نیو زی لینڈ

نائیجیریا

پاکستان

پاپوا نیو گنی

          ساموا

سیرا لیون

سنگاپور

سولومون آئی لینڈز

جنوبی افریقہ

سری لنکا

سینٹ کٹس اینڈ نیوس

سینٹ لوسیا

سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈینز

سوازی لینڈ

ٹونگا

ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو

ٹووالو

یوگنڈا

برطانیہ

متحدہ جمہوریہ تنزانیہ

وانوتو

زمبیا

دولت مشترکہ کے مستقبل کے بارے میں آپ بھی کچھ کہئے

کامن ویلتھ کانورسیشن‘ سے دنیا بھر میں حکومتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور عوام کو ایک پلیٹ فارم ملے گا جہاں وہ دولت مشترکہ کے مستقبل پر بات کرسکیں گے