Skip navigation

بیرونی ممالک میں دہشت گردی کے واقعات کا شکار ہونے والے بر طانوی شہریوں کے لئے غیرمعمولی امدادی اقدامات

 

 خارجہ اور دولت مشترکہ امور کی پارلیمانی انڈر سکریٹری میگ من نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ:

 2004کے بعد سے وزارت خارجہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے بر طانوی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے خصوصی کونسلرمدد فراہم کرتی آرہی ہے۔ اس مددکے دوران جسے آفٹر کئیر پلان یعنی بعد کی دیکھ بھال کا نام دیا گیا ہے، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ زیادہ تر صورتوں میں ٹریول انشورنس سے دہشت گردی کے حملے خاص طو ر پر باہر رکھے جاتے ہیں۔آفٹر کئیر پلان نے بیرون ملک دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کو ان استثنائی صورتوں میں تعاون فراہم کیا ہے جہاں مدد اور ان کی وطن واپسی کے اخراجات ٹریول انشورنس کے احاطے سے باہر تھے۔

 

بیرون ملک دہشت گردی کے واقعات میں، دوسرے جرائم کے بر عکس اس سطح پر تعاون کا جواز ہے، کیونکہ ہم دہشت گردی کو پورے معاشرے کے خلاف اقدام گردانتے ہیں جس کے دوران افراد لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔یوں تو یہ بات دوسرے سنگین اور پر تشدد واقعات کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے لیکن یہ اقدامات واضح طور پر ان واقعات کے ضمن میں کئے جاتے ہیں جنہیں ہم دہشت گردی سمجھتے ہیں۔

 

آفٹر کئیر پلان پر جو اب تین سال سے زائد عرصے سے نافذ العمل ہے، دہشت گردی کا شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ وزارت خارجہ کے تجربات کی روشنی میں نظر ثانی کی گئی ہےاور یہ بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ اب ٹریول انشورنس میں دہشت گردی کو شامل کئے جانے کا کافی امکان ہے۔ہماری نئی پالیسی کا نام اب " بیرون ملک دہشت گردی کے واقعات کے لئے خصوصی اقدامات" رکھ دیا گیا ہے تاکہ اس مالی امداد کے مقصد کی اور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی مدد میں ہمارے کردار کی درست عکاسی ہو سکے۔

 

جیسا کہ آفٹر کئیر پلان میں تھا یہ مدد کوئی معاوضہ نہیں ہے ۔ اس کے ذریعے وزارت خارجہ بیرون ملک دہشت گردی کے واقعات کے بعد ان صورتوں میں اصل خراجات ادا کر سکتی ہے جہاں مالی امداد کی کوئی دوسری صورت موجودنہ ہو۔یہ اقدامات متاثرہ افراد کی فوری ضروریات کی تکمیل کے لئے کئے گئے ہیں۔

 

اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:

 

1۔ یہ اقدام آخری چارے کے طور پر کیا جائیگاجہاں دوسرے ذرائع مثلا اس ملک کی حکومت کی طرف سےجہاں یہ واقعہ ہوا ہے، ٹریول انشورنس کمپنی یا دوسری کسی ایجنسی یا تنظیم سے مالی تعاون ممکن نہ ہو۔

 

2۔یہ مدد ان لوگوں کو فراہم نہیں کی جائیگی جو ٹریول انشورنس کے بغیر سفر کریں گےیا ان ممالک یا ان خطوں میں جائیں گے جن کے لئے وزارت خارجہ نے ہر قسم کے سفرکی ممانعت کی ہو۔

 

3۔ ان اقدامات میں دہشت گردی کے واقعے سے پیدا ہونے والے اثرات کے سلسلے میں بر طانیہ میں طبی دیکھ بھال یا طویل المدت دیکھ بھال شامل نہیں ہے۔

 

4۔ وزرا کو یہ صوابدید حاصل ہے کہ وہ ان تمام برطانوی شہریوں پر ان اقدامات کا اطلاق کرسکیں جو ان خصوصی صورتوں میں دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کا شکار ہوئے ہوں۔