بیرون ملک برطانوی شہریوں کے رویے سے متعلق وزارت خارجہ کی رپورٹ
پاکستان ان اولین بیس ملکوں میں شامل ہے جہاں برطانوی شہریوں کو یکم اپریل 2008سے 31مارچ 2009کے دوران سب سے زیادہ کونسلر معاونت کی ضرورت پڑی۔
براہ کرم نوٹ کیجئے۔ معلومات اکٹھا کرنے کے طریقے میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ ان اعداد و شمار کاپچھلے سال کے نتائج سے صحیح طور پر موازنہ کیا جا سکے۔ ان اعداد و شمارمیں ' کونسلر مشاورت اور اپنی مدد آپ ‘ سے متعلق کئے گئے سوالات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ کے نتائج اور ایف سی اوکی طرف سےسفری ہدایات
گرفتاریاں اور منشیات سے متعلق جرائم
حقائق
· گزشتہ سال اسپین میں 2290برطانوی شہری گرفتار ہوئے۔ یہ تعداد کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت زیادہ ہے۔ امریکہ میں 1534 اور متحدہ عرب امارات میں 294گرفتاریاں ہوئیں۔
· سیاحوں کی تعداد کے تناسب سے متحدہ عرب امارات ہی وہ ملک ہے جہاں برطانوی شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد گرفتار ہوئی۔ اس کے بعد تھائی لینڈ اور پھر امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ان گرفتاریوں میں منشیات سے متعلقہ جرائم کے لیے ہونے والی گرفتاریوں کا حصہ کافی زیادہ ہے۔ تھائی لینڈ میں یہ کل گرفتاریوں کا چوتھا حصہ تھیں۔ دنیا بھر میں منشیات سے متعلقہ جرائم کے لیے 991گرفتاریاں ہوئیں جو قابل گرفت جرائم کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ ویزے کی میعاد سے زیادہ عرصے تک قیام جیسے جرم کا بھی ان گرفتاریوں میں نمایاں حصہ ہے۔
· 180برطانوی شہریوں کو اسپین میں منشیات سے جڑے جرائم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، جب کہ امریکہ میں 148، فرانس میں 63 اور تھائی لینڈ میں 54گرفتاریاں ہوئیں۔
· سیاحوں کی تعداد کی مناسبت سے تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، قبرص اور پاکستان وہ ملک ہے جہاں منشیات سے متعلقہ جرائم کے سلسلے میں سب سے زیادہ برطانوی شہری گرفتار ہوئے۔ دنیا بھر میں اس وقت 22برطانوی شہری سنگین مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔
بیرون ملک قانونی مسائل میں بلا ارادہ الجھنے سے بچنے کے لیے وزارت خارجہ کا مشورہ
· سفر کرنے سے پہلے جہاں آپ کو پہنچنا ہے، وہاں کے قوانین اور رسوم و رواج کے بارے میں کچھ آگاہی حاصل کرلیں۔ اور یہ کہ کس قسم کا رویہ اور لباس وہاں موزوں رہے گا جو دوسرو ں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس ویب سائٹ کو ملاحظہ کیجئے www.fco.gov.uk/travel
· جہاں ہر ملک کے حوالے سے تازہ ترین معلومات موجود ہیں۔ ٹریول گائیڈ کتابیں اور سفری منتظمین بھی معلومات کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔
· بہت سی گرفتاریاں حد سے زیادہ شراب نوشی کے بعد غیر موزوں رویے کی وجہ سے ہوئیں۔ کس حد سے زیادہ شراب نوشی آپ کو بے حواس کرسکتی ہے، اس کا آپ کو علم ہونا چاہئے۔ یاد رکھئے کہ اگر آپ شراب نوشی یا منشیات کے استعمال کے بعد کسی حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے سفری انشورنس آپ کے کام نہیں آئے گی ۔
· ایسے علاقوں سے احتراز کریں جہاں خوامخواہ کسی مصیبت میں گرفتار ہونے کا اندیشہ ہو جیسے جلوس، پیدل مارچ یا احتجاجی مظاہرے کے مقامات ۔
ہسپتال میں داخلہ
حقائق
· ہسپتال میں داخل کروائے جانے کے واقعات سب سے زیادہ اسپین میں ہوئے یعنی 741، اس کے علاوہ یونان میں 433، فرانس میں 203اور تھائی لینڈ میں 198 واقعات ہوئے۔
سیاحوں کی تعداد کے تناسب سے برطانوی شہریوں کی سب سے زیادہ تعداد تھائی لینڈ میں ہسپتال میں داخل ہوئی جب کہ یونان، مصر اور انڈیا میں بھی بڑی تعداد ہسپتال میں داخل ہوئی۔
· دنیا بھر سے وزارت خارجہ کے عملے کی طرف سے آنے والی معلومات کے مطابق ہسپتال میں داخل ہونے کے واقعات میں بالکنی سے گرنے اور پیڈل والی موٹر سائیکل کے حادثوں کی تعداد زیادہ ہے۔
چھٹیوں کے دوران کسی چوٹ یا بیماری سے بچاؤ کے لیے وزارت خارجہ کا مشورہ
· سفر سے پہلے ضروری ویکسینیشن یا دوسری دواؤں کے حصول کے لیے پہلی فرصت میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
· اگر آپ سفر کے دوران ڈرائیونگ بھی کریں گے تو دوسرے ملک کے ٹریفک کے قوانین سے آگاہی حاصل کرلیں، وہاں سڑکوں کی حالت کے بارے میں بھی معلوم کریں اور یہ بھی پتا لگائیں کہ وہاں کی ڈرائیونگ میں برطانیہ میں ڈرائیونگ کی نسبت کیا شے مختلف ہے۔ اور اگر آپ کوئی گاڑی کرایے پر لے رہے ہیں تو کسی قابل اعتبار ادارے سے گاڑی لیں۔
· اگر آپ کوئی موٹر بائیک وغیرہ کرایے پر لینا چاہتے ہیں توپہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ کی سفری انشورنس اس کا احاطہ کرتی ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران ہیلمٹ ضرور پہنیں۔
· دوسرے ملک میں ڈرائیونگ سے متعلق ایف سی او کا مشورہ حاصل کرنے کے لیے یہ ویب سائٹ ملاحظہ کریں
www.fco.gov.uk/drivingabroad
· اپنی متعلقہ ائرلائن سے معلوم کریں کہ کیا آپ دستی سامان میں دوائیں لے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ ان دواؤں کی کافی مقدار اپنے ساتھ رکھیں تاکہ سفر کے دوران کام آئےں اور اگر سفر طویل ہوجائے تو دواؤں کے حصول کے لیے آپ کو دشواری نہ ہو۔ دواؤں کو ان کی اصل پیکنگ میں ہی رکھیں اور تحریری نسخے بھی اپنے ساتھ رکھیں۔ جس ملک میں آپ جا رہے ہیں، اس کے سفارت خانے سے معلوم کریں کہ کیا وہاں آپ کی دوائیں قانونی مانی جائیں گی اور اگر کوئی پیچیدگی ہو تو اپنے ڈاکٹر کا ایک خط بھی لے لیں۔
· کوئی جامع سفری انشورنس حاصل کریں۔ یورپین اکنامک ایریا یا سوئٹزرلینڈ میں سفر کرنے والوں کو یورپین ہیلتھ کارڈ (ای ایچ آئی سی۔ یہ کارڈ E111کی جگہ جاری کیا جاتا ہے) بھی حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے آپ کو سستی یا مفت ہنگامی طبی امداد حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی آپ کو سفری انشورنس کی ضرورت ہوگی۔ آپ یورپین ہیلتھ انشورنس کارڈ کے حصول کے لیے شعبہ صحت کو آن لائن درخواست دے سکتے ہیں www.dh.gov.uk/travellers
· اس بارے میں اطمینان کرلیں کہ آپ کی سفری انشورنس کی مدت آپ کے سفر کے دورانیہ کا احاطہ کرتی ہے اور ہر اس شخص کے لیے سود مند ہے جو سفر کر رہا ہے۔ یہ بھی دیکھئے کہ انشورنس پالیسی کس کس بات کا احاطہ کرتی ہے، اور کیا وہ آپ کی تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے جیسے کوئی خطرناک کھیل، آپ کا سارا سامان اور آلات ، ذاتیچوٹ اور قانونی اخراجات۔
· یہ اطمینان بھی کرلیجئے کہ آپ نے اپنے پاسپورٹ میں ہنگامی نوعیت کے رابطے کے لیے نام لکھ دیے ہیں۔ اس سے وزارت خارجہ کے عملے کے لیے آسان ہوگا کہ ضرورت کے وقت کسی سے رابطہ کرسکیں۔
· اگر نشے کی حالت میں آپ کسی حادثے سے دوچار ہوتے ہیں تو غالباً سفری انشورنس اس نقصان کا ازالہ نہیں کرتی۔ آپ انشورنس کا چھوٹا پرنٹ ملاحظہ کریں۔
اموات
حقائق
· دوسرے ملکوں میں 5,629برطانوی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کی وجوہات میں قدرتی اور حادثاتی وجوہات کے علاوہ قتل بھی شامل ہیں۔
· سپین میں 1825، فرانس میں 611، جرمنی میں 438 اور تھائی لینڈ میں 288برطانوی شہری ہلاک ہوئے۔
· سیاحوں کی تعداد کے تناسب سے برطانوی شہریوں کی سب سے زیادہ اموات تھائی لینڈ، جرمنی، انڈیا اور سپرس میں ہوئیں۔
· دنیا بھر میں آٹھ برطانوی شہریوں کو موت کی سزاسنائی گئی ہے۔
دوسرے ملکوں میں اموات کے حوالے سے وزارت خارجہ کا مشورہ
اطمینان کرلیں کہ آپ کی پارٹی کے سبھی اراکین کی انشورنس ہوچکی ہے اور تمام موجودہ طبی حالات بیان کیے ہیں۔ اگر کوئی ایسا فرد دوران سفر ہلاک ہوجاتا ہے جس کی سفری انشورنس نہیں ہوئی، تو اس کے علاج یا اس کی برطانیہ واپسی کے اخراجات انشورنس پورا نہیں کرے گی۔
· جس ملک میں موت واقع ہوئی ہو، وہاں اس واقعہ کی رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔ اگر آپ کی پارٹی میں کوئی فرد مرجاتا ہے، تو چاہے جیسے بھی حالات ہوں، مقامی انتظامیہ کو اس واقعہ کے بارے میں ضرور مطلع کیجئے۔
· یہ کوئی بندش نہیں ہے کہ برٹش کونسل یا برطانوی سفارت خانے سے رابطہ کیا جائے لیکن کسی مشکل وقت میں وہ آپ کی مدد کرسکتے اور آپ کو عملی مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔
رپورٹ کیے گئے زنابالجبر کے واقعات
حقائق
· زنا بالجبر کے 116اور جنسی حملوں کے 154 واقعات رپورٹ کیے گئے اور سفارت خانے کے عملے سے مدد طلب کی گئی۔
· وزارت خارجہ کے عملے نے زنا بالجبر کے 28کیسز یونان میں، 22 اسپین میں، 10قبرص میں اور 8ترکی میں بھگتائے۔
· وزارت خارجہ کے عملے نے جنسی حملے کے 35کیسز سپین میں، 28ترکی میں اور 28کیسز مصر میں بھگتائے۔
· زیادہ تر ملکوں میں برطانوی شہریوں کے حوالے سے زنا یا جنسی حملے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
بیرون ملک زنابالجبر یا جنسی حملے کا شکار ہونے سے بچاؤ کے لیے وزارت خارجہ کا مشورہ
· خاص طور پر رات کو اکیلے گھومنے سے احتراز کریں۔ محفوظ علاقے میں روشن جگہوں پر رہیں۔
· کسی کو ضرور بتاکر جائیں کہ آپ کہاں گھومنے جا رہے ہیں اور کب تک واپس آئیں گے۔
· اطمینان کرلیں کہ آپ کے پاس اس جگہ کا پتہ اور فون نمبر موجود ہے جہاں آپ رہ رہے ہیں اور یہ بھی کہ آپ وہاں کس طرح پہنچ سکتے ہیں۔
· یاد رکھئے کہ زنا کے واقعات میں بعض اوقات منشیات بھی استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بے رنگ اور بے ذائقہ ہوتی ہیں اور آپ کو بے ہوش یا بے بس کرسکتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ ایسی منشیات الکوحل کے بغیر مشروبات میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔
· اگر آپ الکوحل پینے لگے ہیں تو دھیان رکھیں کہ آپ کو کتنی پینی چاہئے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ برطانیہ کی نسبت دوسرے ملکوں میں شراب کے پیمانے بڑے ہوتے ہیں۔ منشیات کی مدد سے ہونے والے زنا کے کیسز میں الکوحل کو سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
پاسپورٹ کی گم شدگی /چوری
حقائق
· پاسپورٹ کی چوری یا گم شدگی کے واقعات برطانوی سیاحوں کو سب سے زیادہ پیش آنے والی دشواریوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے 29774واقعات ہوئے۔
· پاسپورٹ کے گم یا چوری ہونے کے اسپین میں548، امریکہ میں 3228، آسٹریلیا میں 2446، فرانس میں 1932 ، جرمنی میں 990 اور جنوبی افریقہ میں 871واقعات ہوئے۔
پاسپورٹ کے حوالے سے وزارت خارجہ کا مشورہ
· سفر کا آغاز کرنے سے پہلے پاسپورٹ کے اس صفحے کی کاپی کروالیں جس پر تفصیلات درج ہیں۔ ایک کاپی اپنے پاس رکھیں۔ اصلی پاسپورٹ سے ہٹ کر کسی دوسری جگہ حفاظت سے رکھ لیں۔ ایک کاپی اپنے کسی دوست یا گھر میں خاندان کو دیں یا اسے کسی محفوظ آن لائن ڈیٹا ویب سائٹ پر محفوظ کردیں۔ اگر آپ کا پاسپورٹ گم یا چوری ہوجائے تو آپ آسانی سے اس کی کاپی حاصل کرسکتے ہیں۔
· اپنے قریب ترین موجود برطانوی سفارت خانے یا برطانوی کونسلیٹ کا رابطہ نمبر حاصل کریں ۔ اس مقصد کے لیے اس ویب سائٹ کو ملاحظہ کریں: www.fco.gov.uk/travelیا اس نمبر پر رابطہ کریں: 2829 650 0845
· بیرون ملک پہنچ کر اپنی قیمتی اشیا اور پاسپورٹ (ہوٹل وغیرہ میں)کسی جگہ رکھ دیں۔
· اگر آپ کا پاسپورٹ گم یا چوری ہوتا ہے تو اس کی اطلاع اپنے قریبی پولیس اسٹیشن میں فوری طور پردیں اور برطانوی سفارت خانے یا کونسلیٹ سے رابطہ کرنے سے پہلے واقعہ سے متعلق پولیس رپورٹ ضرور حاصل کریں۔ اس کی کاپی بھی اپنے پاس رکھیں۔
مدیروں کے لیے نوٹس:
رپورٹ کے بارے میں:
· رپورٹ میں ان کیسز کی تعداد لکھی گئی ہے جن کے حوالے سے دنیا بھر میں وزارت خارجہ کے عملے نے معاونت فراہم کی۔ رپورٹ میں اپریل 08سے مارچ 09کے دوران 141ملکوں (بشمول اوورسیز ٹیریٹریز)میں ہونے والے کیسز کو شامل کیا گیا ہے۔ ضمیموں میں وہ معاونت بھی شامل ہے جو ہمارے کونسلر عملے نے یورپین یونین اور دولت مشترکہ کے غیر نمائندہ شہریوں کو فراہم کی۔ اس کے علاوہ ان میں ان ملکوں کے حوالے سے بھی اعداد و شمار شامل ہیں جہاں کوئی سرکاری نمائندگی موجود نہیں ہے۔ عام طور پریہ کیسز معاونت کے کل کیسز کے 2فیصد سے بھی کم ہیں۔ صرف اسی ملک سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں جہاں ایک یا زائد کیسز میں معاونت فراہم کی گئی۔ دنیا بھر میں کونسلر معاونت سے متعلق اعداد و شمار درخواست جمع کرانے پر دستیاب ہوسکتے ہیں۔
مزید معلومات:
مزید معلومات کے لیے ویبر شینڈوک میں ایما بریک سپیئر، کیٹی بال یا کیٹی سوگوسکی سے اس نمبر0065 067 0207 یا اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: knowbeforeyougopress@ebershandwick.com
· ایف سی او کے ترجمان بھی درخواست کیے جانے پر مہیا ہوسکتے ہیں۔
· وزارت خارجہ ٹی وی کا اشتہار ’B Logo‘ بھی درخواست پر فراہم ہوجاتا ہے۔ جی بی لوگو میں ان دشوار صورت احوال کو ڈرامائی اندازمیں پیش کیا جاتا ہے جو برطانوی شہریوں کو بیرون ملک درپیش ہوسکتی ہیں۔
'جانے سے پہلے، جانو' کے بارے میں
وزارت خارجہ کی'جانے سے پہلے، جانو‘ مہم سے برطانوی شہریوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ ایسی دشواریوں سے بچاؤ کے لیے خود کو تیار کرسکیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ اس مہم کا ہدف سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہے جس میں تعلیمی سال کے وقفے میں سیر کے لیے جانے والے طلبا سے لے کر پیکیج کے ساتھ چھٹیاں منانے والے، کھیلوں کے شیدائیوں سے لے کر بوڑھے سیاح اور دوسرے ملکوں میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانے والے سبھی شامل ہیں۔ یہ مہم اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لیے ٹریول انڈسٹری کے تقریباً 300پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے اس ویب سائٹ سے رجوع کریں۔ www.fco.gov.uk/travel
· جنوری تا دسمبر 2008کے دوران دو لاکھ پچاسی ہزار سات سو بیس برطانوی شہریوں نے پاکستان کی سیاحت کی۔حوالہ: وزارت سیاحت
حوالہ جات:
1 حوالہ: آئی پی پی آر، 2005 (انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ) یہ اعداد و شمار ان برطانوی شہریوں کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں جو ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے وہاں رہ رہے ہیں۔
2 منشیات سے متعلقہ جرائم کی وجہ سے ہونے والی گرفتاریوں کی تعداد اگلے کالم ’مجموعی گرفتاریاں قید‘ میں بھی شامل ہے۔
3 ’دیگر معاونت‘ میں یہ بھی شامل ہے: اغوا ، عمومی حملہ، بچوں تک رسائی، بچوں کا اغوا، بچوں کو حراست میں رکھنا، جبری شادی، گم شدہ افراد، ذہنی مریض، وطن واپسی، بہبود، گم شدہ افراد کی رپورٹیں۔ ’دیگر معاونت‘ میں کوئی مشاورت یا اپنی مددآپ سے متعلق سوالات شامل نہیں ہیں۔
4 ’گم شدہ،چوری شدہ پاسپورٹ‘ کونسلر معاونت کیسز میں شامل نہیں جاتے کیوں کہ زیادہ تر کیسز میں کونسلر کا عملہ زیادہ سے زیادہ یہی کرپاتا ہے کہ ڈیٹا انٹری کرلے جب کہ مزید کوئی اضافی معاونت درکار نہیں ہوتی۔
5 ان اعداد و شمار میں تائیوان اور ہانگ کانگ کے شہری اور سیاح بھی شامل ہیں۔
6 حوالہ: ایف سی او کی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2008۔ ’کیپیٹل چارجز‘ سے مراد ایسے جرائم ہیں جن کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ بارہ برطانوی شہری پاکستان میں، چار تھائی لینڈ میں، تین امریکہ میں، دو بنگلہ دیش میں اور ایک متحدہ عرب امارات میں اس قسم کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔
7 حوالہ: ایف سی او کی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2008۔ گھانا، چین، افغانستان اور پاکستان میں ایک ایک اور امریکہ میں چار برطانوی شہریوں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔