کانفلکٹ پریونشن پولز (سی پی پی )یکم اپریل 2008 کو قائم کیا گیا۔اس نے سابقہ گلوبل کانفلکٹ پریوینشن پول اور افریقہ کانفلکٹ پریوینشن پول کی جگہ لی ہے۔سی پی پی مشترکہ طور پر وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور ڈیفڈ کے زیر انتظام ہے۔
سی پی پی کے قیام کامقصدتنازعات کی روک تھام میں بر طانیہ کے اثر میں اضافہ ہے۔یہ ایک مالی ذریعہ ہے جو تنازعات کی روک تھام کے لئے دیر پا سرگرمیوںکے لئے ہے جو علاقائی پرو گراموں کے ذریعے ان مقامات پر توجہ دے گا جہاں بر طانیہ سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ 09/2008 کے لئے اس کا بجٹ 112 ملین پاؤنڈ ہے۔
سی پی پی کے مقاصد
سی پی پی سفارتکاری، دفاعی اور ترقیاتی کاموں کو ایک متفقہ حکمت عملی کے تحت مر بو ط کرتا ہے۔یہ حکمت عملی تنازعات کے اس تجزیے کی بنیاد پر بنائی گئی ہے جو وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور ڈیفڈ نے مشترکہ طور پر تیار کئے ہیں۔ سی پی پی کے تحت تمام سر گر میاں بر طانیہ کے مجموعی مطلوبہ نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام دی جاتی ہیں۔ یہ مطلوبہ نتائج :
'تنازع کی روک تھام، اس سے نمٹاؤ اور اس کے حل کے لئے بر طانیہ کی اور عالمی کوششوں میں بہتری کے ذریعے تنازعات اور ان کے اثرات میں عالمی اور علاقائی سطح پر کمی اور موثر قومی تعمیر اور معاشی ترقی کے لئے درکار فضا کا ہموار کیا جانا'۔
سی پی پی کی ترجیحات
پول علاقائی اور مو ضوعاتی پروگراموں کے ذریعے کام کر تا ہے جن کی ترجیحات کا تعین وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور ڈیفڈ کرتے ہیں۔
علاقائی پروگرام:
افریقہ
امریکاز
بلقان
مشرق وسطی اور شمالی افریقہ
روس اور آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ
موضوعاتی پروگرام
سیکیورٹی اورچھوٹےہتھیاروں پرکنٹرول
عالمی استعداد کی تعمیر
سی پی پی کاانتظام
سی پی پی کاانتظام مشترکہ طور پر وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور ڈیفڈ کے تحت ہے ۔ وزرا اس پول کی تزویری سمت کا تعین کرتے ہیں اور پروگراموں کے درمیان مالی تقسیم کو متفقہ طور پر طے کرتے ہیں۔ تینوں محکموں میں سے ایک کا سینئیر ڈائریکٹر ہر پروگرام کا ذمے دار ہوتا ہے۔
سی پی پی کے مالی انتظام کی ذمے داری ایک مر کزی اسٹئیرنگ ٹیم کرتی ہے۔