بر طانوی وزارت خارجہ ممتاز بر طانوی مسلمانوں کے وفوداسلامی دنیا کےدوروں پر باقاعدگی سے بھیجتی رہتی ہے۔
بر طانوی اسلام کی عکاسی کا مقصد بر طانوی مسلمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں سے وہ بر طانیہ میں آباد مسلمانوں کے بارے میں غیر ممالک میں پھیلے ہوئے غلط تصورات سے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ کام وہ بر طانوی معاشرے میں مسلمانوں کے کردار کی عکاسی کے ذریعے بخوبی ادا کرتے ہیں۔
اس کے ذریعے غیر ممالک میں اس انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کو کمزور کرنے میں مدد ملتی ہے کہ بر طانیہ اور مغرب اسلام کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔
یہ پروگرام بر طانوی مسلمانوں اور بیرونی ممالک کی کمیونٹیوں کے درمیان پارٹنر شپس کو مضبوط کرتا ہے جس سے عوامی سطح کےانی شئیٹو جنم لیتے ہیں۔
بر طانوی اسلام کی عکاسی پروگرام کا مکمل پس منظر
بر طانوی مسلمانوں کا ایک وفد 6 سے 11 جولائی تک مصر کا دورہ کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد ممتاز بر طانوی مسلمانوںاور ان سے ملتی جلتی سوچ رکھنے والے مصریوں کے درمیان پارٹنر شپ تعمیر کرنا ہے تاکہ جدید اسلام کے بارے میں مثبت پیغامات کو واضح کیا جا سکے اور انتہا پسند نظریات اور پروپیگنڈے کا سامنا کیا جاسکے۔
ہم نے 2005 سے اب تک 25 وفود روانہ کئے ہیں جن میں 70 سے زیادہ اراکین شامل رہے ہیں۔
دوروں سے کئی نتائج حاصل ہوئے ہیں۔جن میں بر طانوی معاشرے میں مسلمانوں کے مثبت کردار کی میڈیا میں وسیع تشہیر اور انتہا پسندی کے توڑ کے لئے بیرونی ممالک کی کمیونٹیز اور بر طانوی مسلمانوں کے درمیان مستحکم نیٹ ورک کی تعمیر شامل ہیں۔
ہم اگلے تین سال میں برطانیہ میں ان وفود کے اراکین کے ذریعے اور بیرونی ممالک میں ان جیسی سوچ کے حامل رائے سازوں کے کام میں تعاون کرکے اس پروگرام کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتےہیں.
پس منظر
بر طانوی اسلام کی عکاسی پروگرام کے تحت کئے جانے والے دورے بیرونی ممالک کے عوام پر یہ واضح کرنے کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہیں کہ بر طانوی مسلمان بر طانیہ کے معاشرے کا ایک ناگزیر حصہ ہیں۔ان وفود نے دہشت گردوں کے اس پروپیگنڈے کو واضح طور سے کمزور کر دیا ہے کہ بر طانیہ اور مغرب اسلام کے خلاف "جنگ " میں مصروف ہیں۔
وفود دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بر طانیہ میں مسلمانوں کے موزوں مقام کو بھی واضح کرتے ہیں۔ خاص طور پرایک غیر اسلامی ملک میں انہیں اپنے مذہب پر چلنے کی جو آزادی میسر ہے وہ عیاں ہو جاتی ہے۔پروگرام کا ایک اہم حاصل بر طانوی مسلمانوں اور بیرونی ممالک کی کمیونٹیز کے درمیان نیٹ ورک اور پارٹنر شپس کا قیام ہے۔
ہر دورے کے مخصوص مقاصد ہوتے یں جو اس ملک کے حقائق اور وہاں ہماری ترجیحات کے مطابق ہوتے ہیں۔کمکیونٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ ان وفود کے اراکین کے مشاہدات اور تجربات کو بر طانیہ میں مسلم کمیونٹیز سے رابظے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
میڈیا میں اثر
غیر ممالک میں ان دوروں کا میڈیا کے ذریعے زبردست اثر ہو تا ہے اور بر طانیہ کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اور اہم رائے سازوں تک پہنچنے کا ایک بہترین ذریعہ مل جاتا ہے۔میڈیا کے ذریعے دوروں کی تشہیر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اراکیں دورے کے دوران تقاریر، انٹرویوز، بلاگز اور مضامین اور وڈیو ڈائریوں کے ذریعے اور واپسی پر بر طانیہ میں مقامی میڈیا میں پریس کانفرنس کر کے اپنے مشاہدات ریکارڈ کرا تے ہیں۔
اراکین
اراکین حکومتی ترجمان نہیں بلکہ بر طانیہ اور اپنی کمیونٹیز کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ اپنے خیالات کے اظہار میں آزاد ہیں۔اپنے دورے کے دوران ان کا برطانوی حکومت کی پالیسی سے اتفاق کر نا ضروری نہیں ان کی حیثیت ایک بر طانوی، مسلمان اور یوکے کے شہری کی ہوتی ہے۔
ہم ایسے پروگرام ترتیب دیتے ہیں جن کی مدد سے انہیں اس ملک کےنوجوانوں اور اثر انگیز شخصیات سے رابطے میں مدد ملتی ہے۔ہر دورے کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے مخصوص پروگرام بنائے جاتے ہیں ان میں اکثر یونیورسٹی اور مدرسوں کے طلبہ ، کمیونٹی اور خواتین سرگرم کارکنوں ، سول سوسائٹی گروپوں ، سرکاری اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں شامل ہوتی ہیں۔
ان دوروں کاکوئی طے شدہ معیار نہیں کہ کس کو اس منصوبے میں مدعو کیا جائےگا، اس کا انحصار اس ملک کے لئے مخصوص مقاصد پر منحصر ہے۔ ہم افراد کے پس منظر، ان کے اس ملک سے روابط اور بر طانیہ میں متعلقہ تجربے کو نظر میں رکھتے ہیں۔افراد کا کٹر مسلمان ہونا ضروری نہیں البتہ وہ ایک بر طانوی مسلمان کی نمائندگی کرتے ہوں۔
ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ شرکا بر طانیہ بھر سے مسلمان کمیونٹیز کی نمائندگی کرتے ہوں اور فکرکے اس تنوع کو بھی ظاہر کرتے ہوں جو بر طانوی مسلمان کمیونٹیز میں پایا جاتا ہے۔ان میں نوجوان اور خواتین بھی شامل ہیں اس کا فیصلہ سفارتخانے اور وزارت خارجہ مل جل کر کرتے ہیں اور اس میں کمیونٹیز اینڈ لوکل ڈپارٹمنٹ کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔
چندگزشتہ دورے
افغانستان
بر طانوی مسلمانوں کا ایک وفد اپریل 2008 میں افغانستان کے دورے پر گیا تھا۔ اس کا مقصد وہاں بر طانیہ کی طرف سے کئے جانے والے اہم کاموں کے بارے میں جاننا تھا۔اراکین نے سول سوسائٹی ، مذہبی اور تعلیمی شعبوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے بر طانیہ کے عطیات سے چلنے والے منصوبوں کا دورہ کیا اور کابل میں بر طانوی فوجیوں سے ملاقات کی ۔ ایک رکن صادق خان ایم پی نے کہا:
"وہاں بر طانیہ کی جانب سے جوکام ہورہا ہے، خواہ وہ تعمیراتی کام ہو، بچوں کے لئے اسکولوں میں تعلیم کا انتظام ہو ، اسپتالوں کی تعمیر ہو یا ٹیچروں کی تربیت، افغانی عوام کی سیکیورٹی کا بندوبست ہو، یہ سب دیکھ کر ہمیں فخر کا احساس ہورہا تھا"۔
بنگلہ دیش
مارچ 2008 میں ممتاز بر طانوی بنگلہ دیشی مسلمانوں کے ایک گروپ نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تاکہ وہاں کے عوام کو یہ دکھا سکیں کہ جدید بر طانوی معاشرے میں بر طانوی بنگلہ دیشی مسلمان کتنا اعلی سطحی کردار انجام دے رہے ہیں۔اراکین نے ڈھاکا میں ایک ووٹر رجسٹریشن سینٹر کادورہ کیا اور یونی ورسٹی کے طلبہ اور تعلیمی رہنماؤں سے شناخت، اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی کے مو ضو عات پر بات چیت کی۔ ایک رکن روپا حق نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ
"دورے کے دوران ہم نے تمام وقت بر طانیہ اور بنگلہ دیش کی خوبیوں کے بارے میں بات کی،بر طانیہ جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور جہاں ہم آباد ہیں اور بنگلہ دیش جسے ہم چھوڑ آئے لیکن وہ اب بھی ہمارے دل میں موجود ہے"۔