Skip navigation

برطانوی حاجیوں کے لیے انتظامات: 2009حج

 ہر سال برٹش حج ڈیلی گیشن تقریباً 25ہزار برطانوی مسلمانوں کو حج کے لیے مکہ، سعودی عرب لے جاتا ہے۔ ذیل میں برطانوی حاجیوں کے لیے ڈیلی گیشن کی طرف سے فراہم کی جانے والی سروسز کی تفصیل فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ عملی مشورہ، چیک لسٹ اور رابطے سے متعلق تفصیلات بھی موجود ہیں۔

 

آپ کو دفتر خارجہ کی طرف سے سعودی عرب کے سفر کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ’ٹریول ایڈوائس‘ بھی ملاحظہ کرنی چاہئے۔

 

برطانوی حاجیوں کی مدد اور معاونت

 

ہمیں امید ہے کہ آپ کسی دشواری کے بغیر حج کا فریضہ اداکریں گے۔ اگر کوئی دشواری پیش آئے تو ’برٹش حج ڈیلی گیشن‘ آپ کو مشیر اور بنیادی طبی امداد فراہم کرسکتا ہے(نیچے ملاحظہ کیجئے۔)یہ ڈیلی گیشن برطانوی مسلمان کمیونٹی کی طرف سے رضاکاروں کی ایک ٹیم پر مشتمل ہوتا ہے جو حج کے دوران تمام وقت سعودی عرب میں موجود ہوگی تاکہ برطانوی حاجیوں کی مدد اور معاونت کرسکے۔ ڈیلی گیشن میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی شامل ہوگی جو مختلف بیماریوں اور زخموں وغیرہ کی صورت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرے گی۔ فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس سے مسلمان عملہ بھی ان کے ساتھ موجود ہوگا تاکہ مشاورتی اور امدادی سرگرمی میں حصہ لے سکے۔ یہ ڈیلی گیشن مکہ میں ابراہیم خلیل سٹریٹ میں

 دارالخلیل ہوٹل میں مقیم ہوگا۔ (رابطے کے لیے مفید معلومات ملاحظ کیجئے)۔ 

برٹش حج ڈیلی گیشن 2009کی قیادت بلیک برن کے لارڈ پیٹل کریں گے۔

 

ڈیلی گیشن حج کے دوران سعودی عرب میں مقیم ہوگا اور اس میں درج ذیل لوگ شامل ہوں گے:

 

 

§              ابتدائی طبی امداد کے لیے ڈاکٹر،

§              جدہ کے برٹش کونسلیٹ جنرل کا عملہ،اور

§              برطانیہ کے دفتر خارجہ کا مسلمان عملہ ۔

 

جدہ کے برٹش کونسلیٹ جنرل کے اشتراک سے یہ ڈیلی گیشن آپ کو ہر طرح کی مشاورتی سہولت فراہم کرے گا۔

 

ڈیلی گیشن آپ کو مہیا کرسکتا ہے:

§              رقم کی منتقلی کے بارے میں معلومات،

§              مقامی وکیلوں اور ہسپتالوں سے رابطے کے لیے معلومات،

§              آپ کے عزیز و اقارب کو کسی حادثے یا اموات کی صورت میں اطلاع اور متعلقہ کارروائی کے بارے میں معلومات،

§              ابتدائی طبی مشاورت اور امداد۔

 

ڈیلی گیشن یہ کام نہیں کرسکتا:

 

§        کسی قسم کے تنازعے میں آپ کے ساتھ شامل ہونا جیسے حاجی اور ٹور آپریٹر کا تنازعہ ، سامان کے گم ہوجانے کے تنازعہ وغیرہ۔

§              سفری بکنگز کا پھر سے اہتمام کرنا،

§              آپ کے ہوٹل کے، قانونی، طبی یا سفری اخراجات کی ادائیگی کرنا۔

§              آپ کو جیل سے رہائی دلانا،

§              آپ کو قانونی مشورہ دینا،

§              عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنا،

§              کسی جرم کی تفتیش کرنا۔

 

برٹش حج ڈیلی گیشن 2009کی قیادت بلیک برن کے لارڈ پیٹل کریں گے۔

 

برطانوی حاجیوں کے لیے حج چیک لسٹ

 

ایک کامیاب حج کا انحصار محتاط تیاری پر ہوتا ہے۔ ذیل میں حاجیوں کے لیے عملی مشورے اور ہدایات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ انہیں سفری چیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔

 

  •           ایف سی او ٹریول ایڈوائس‘ کو دیکھئے تاکہ سعودی عرب میں موجود حالات سے آگاہی حاصل ہو یا اس نمبر پر کال کیجئے   8502828 0845
  •           ٹکٹ کی تفصیلات وغیرہ دیکھیں تاکہ اندازہ ہو کہ ٹکٹ درست ہے۔
  •           غیر ضروری دشواریوں سے بچنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ نے ’اے ٹی او ایل‘ سے رجسٹرڈ ٹور آپریٹر کے ذریعے ٹکٹ کی بکنگ کروائی ہے۔اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے ATOLویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔
  •           برطانیہ میں اپنے ٹور آپریٹر اور مکہ میں اس کے نمائندے سے رابطے کی تفصیلات حاصل کیجئے۔
  •           سفر سے متعلق ہر پہلو کی ٹریول انشورنس حاصل کریں۔ اس حوالے سے شریعہ انشورنس پالیسیاں بھی موجود ہیں۔
  •           اطمینان کرلیجئے کہ آپ نے حج کے لیے ضروری ویکسینیشن کروالی ہے اور کیا آپ کے پاس ویکسینیشن کارڈ موجود ہیں۔
  •           اطمینان کرلیجئے کہ آپ کا پاسپورٹ صحیح حالت میں ہے اور اس پر ویزے موجود ہیں۔
  •           اپنے پاسپورٹ، انشورنس پالیسی بمع ہنگامی ٹیلی فون نمبروں اور ٹکٹ سے متعلق معلومات کی کاپیاں بنوالیں۔ یہ کاپیاں اور ، اپنے رابطے اور سفرسے متعلق تفصیلات اپنے دوستوں اور عزیزوں کے پاس چھوڑ جائیں۔
  •           دوائیں استعمال کرنے والے حضرات اس بارے میں اطمینان کرلیں کہ ان کے پاس حج کے دوران استعمال کے لیے دواؤں کی مناسب مقدار موجود ہے۔ ہر دوا پر اسے استعمال کرنے والے فر د کا نام واضح انداز میں لکھا ہونا چاہئے۔ یہ اطمینان بھی کرلیجئے کہ آپ کے پاس اچھے جوتے موجود ہوں کیوں کہ حج کے دوران آپ کولمبے سفر بھی کرنے پڑیں گے۔
  •           اس بات کو بھی یقینی بنائیے کہ آپ کا سامان صحیح طور پر پیک ہے اور ا س کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر آپ کا نام، قومیت، پاسپورٹ نمبر، ایئر کیریئر، فلائیٹ نمبر، ہوٹل کا نام اور رابطے کے لیے ٹیلی فون نمبر درج ہے۔
  •           یہ اطمینان کرلیجئےکہ آپ کے پاس حج ڈیلی گیشن کلینک اور کونسلر سروس سے رابطے کی تفصیلات موجود ہیں۔
  •           اپنے اور اپنے خاندان کے سفری منصوبے سے متعلق تفصیلات درج کرنے کے لیے لوکیٹ سروس استعمال کیجئے۔
  •           سوائن فلو سے متعلق ہدایات بھی ملاحظہ کیجئے۔

 

پاسپورٹس اور دوہری شہریت

 

سعودی انتظامیہ دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتی اور ہوسکتا ہے وہ دوسرے پاسپورٹ کو ضبط کرلے۔ غیر برطانوی پاسپورٹس کے ذریعے سفر کرنے والے حاجیوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے کہ وہ برٹش کونسلیٹ جنرل سے معاونت حاصل کرسکیں۔ برطانوی شہری جو غیر برطانوی پاسپورٹ پر سفر کررہے ہیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام برطانوی ویزے اور دیگر دستاویزات اس پاسپورٹ میں واضح طور پر موجود ہوں۔

برطانیہ میں داخلے کے لیے ضروری دستاویزات برطانیہ سے نکلتے ہوئے ہی حاصل کرلینی چاہئیں تاکہ واپسی میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

 

صحت مندانہ حج کیجئے

 

حج وفد کے ڈاکٹروں کی خدمات

 

 

اطمینان کرلیجئے کہ گردن توڑ بخار سے بچاؤ کی ویکسین (اے سی ڈبلیو وائی) لگوالی ہے جو گردن توڑ بخارکی چار مختلف قسموں(اے، سی، ڈبلیو35اور وائی) سے بچاؤ فراہم کرتی ہے۔ آپ کو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ فراہم کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو اپنے ڈاکٹرسے رجوع کریں۔

آپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہئیے:

  •           کافی خوراک اور پانی ،
  •           سورج کی تپش سے بچنے کے لیے ایک چھتری
  •           سینڈلوں کا ایک فالتو جوڑا
  •           مناسب مقدار میں دوائیں اور ساتھ ہی ان دواؤں سے متعلق ڈاکٹری نسخہ بھی تاکہ آپ کسٹمز انتظامیہ کو مطمئن کرسکیں۔

 

ہجوم

 

حج کے دوران مقدس مقامات پر بیس لاکھ سے زائد حاجی آتے ہیں۔

کچھ مقدس مقامات ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں حاجیوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر منا میں شیاطین کو پتھر مارنے کی جگہ، اور کعبہ میں طواف کی جگہ۔ بوڑھوں اور نحیف لوگوں کے لیے یہ ہجوم نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ایسے موقعوں پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ حاجی اپنے دوستوں اور عزیزوں سے جدا ہوجائیں۔ آپ کو اپنے کیمپ یا ٹینٹ کی جگہ کا بخوبی علم ہونا چاہئے اور آپس میں ملنے کی جگہ بھی پہلے سے طے کرلیں۔

 

جدہ ایئرپورٹ پر پہنچ کر

 

سعودی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کو بہت سنجیدگی کے ساتھ پورا کرتی ہے اور حاجیوں کی فلاح ان کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔ حاجیوں کی بڑی تعداد کا وہاں پہنچنا اور نکلنا، کچھ دشواریاں پیدا کرسکتا ہے۔ قدرتی طور پر ٹرمینل سے گزرنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمینل میں بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ تاہم پھر بھی آپ کو تاخیر کے لیے پہلے سے تیار ہونا چاہئے خاص کر اگر آپ بچوں یا بوڑھے افراد کے ساتھ سفر کر رہے ہوں۔

 

ٹرمینل پر پہنچ کر انتظامیہ آپ کا پاسپورٹ لے لے گی اور آپ کو ایک رسید دےگی  اسے اپنے پاس رکھئیے اور جب آپ حج ادا کرلیں گے تو واپسی پر یہ آپ کو فراہم کردیا جائے گا۔

 

سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فون کالز

 

سعودی عرب سے برطانیہ میں فون کال کرنے کے لیے اگلا نمبر ملانے سے پہلے 0044ملائیں(اگر اگلا نمبر 0ہے تو اسے مت ملائیں اور اگلا نمبر ملائیں)۔

برطانیہ سے سعودی عرب میں کال کرنے کے لیے اگلا نمبر ملانے سے پہلے یہ نمبر ملائیں:966 00