برطانیہ میں مسلمان
وزارت خارجہ و دولت مشترکہ اوربرطانوی
مسلمانوں کی پارٹنر شپ
برطانوی مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کرنا
برطانوی مسلمانوں کے ساتھ ہمارا اشتراک کار ایف سی او کے اس وسیع تر طریقہ کار کا حصہ ہے جو برطانیہ کے اپنے تنوع [رنگا رنگی] کی عکاسی اور یو کے میں "پارٹنر شپس اینڈ نیٹ ورکس" کے وسیع دائرے سے رابطے کے لئےہے۔
2001ء کی مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد1۔6 ملین بتائی گئی ہے جس میں تقریباً نصف کی پیدائش اسی ملک میں ہوئی ہے۔ دیگر نصف جن ممالک میں پیدا ہوئے ہیں ان میں جنوبی ایشیاء، مشرق وسطی افریقہ اور مشرقی یورپ شامل ہیں، جس سے مسلم کمیونٹی کے تنوع کا پتا چلتا ہے۔ برطانوی مسلمانوں کے
بارے میں مزید معلومات کے لئےبرطانیہ کے مسلمان دیکھیئے
برطانوی مسلمانوں کے ساتھ اشتراک کار کے لئے ایف سی او ہوم آفس کے ریس، ایکوالٹی فیتھ اینڈ کوہیزن [نسلی مساوات، عقائد اور القال] ڈائریکٹوریٹ سے قریبی رابطہ کار رکھتا ہے۔
۰ ریس، ایکوالٹی، فیتھ اینڈ کوہیزن [نسلی، مساوات، عقیدہ اور اتصال]
نیچے ہماری موجودہ سرگرمیوں کی چند مثالیں درج ہیں:
خارجہ پالیسی سے آگاہی اور مباحثہ: مباحثوں اور پبلک فورمز کا ایک مسلسل سلسلہ ہے جس میں ایف سی او کے وزراء اور سنیئر افسران خارجہ پالیسی امور پر برطانوی مسلمانوں سے تبادلہ خیال کرتی ہیں۔
برطانوی مسلمانوں کو آگے بڑھانا:
اس پروگرام کے تحت ایف سی او برطانوی مسلمانوں کو غیر ملکی دوروں میں معاونت فراہم کرتا ہے جن سے انہیں بین الاقوامی مباحثوں میں شرکت کرنے اور اپنے تجربات کے تبادلوں کا موقع ملتا ہے۔
انتہا پسندی کا مشترکہ بچاؤ:
ایف سی او ہوم آفس کے ساتھ مل کر ان آئیدیاز پر کام کر رہا ہے جو برطانوی مسلمانوں نے 7 جولائی کے لندن بم دھماکوں کے بعد تشکیل دیئے گئے انتہا پسندی کا مشترکہ بچاؤ [پریونٹنگ ایکسٹریم ازم ٹو گیدر] ورکنگ گروپس میں پش کئے تھے۔ ان میں سے ایک یو کے بھر میں اسلامی رائے عامہ کی آواز کو اختیار دیئے جانے کا پروگرام ہے یہ مسلمان نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والی خود مختار تنظیموں کے ترتیب دیئے ہوئے پروگراموں کا سلسلہ ہے جو ایف سی او کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے
ہر سال تقریباً پچیس ہزار برطانوی مسلمان فریضئہ حج ادا کرتے ہیں۔ ایف سی او نے ایک حج ایڈوائزری گروپ تشکیل دیا ہے جو برطانوی مسلمان حجاج کو حج کے دوران قونصلر اور میڈیکل تعاون فراہم کرنے کے لئے ایک وفد ترتیب دیتا ہے