Skip navigation

دیوالی امید کے دئیے جلانے کا تہوار ہے

 

وزارت خارجہ نے دیوالی کے موقع پر اپنے دفاتر میں ایک تقریب منعقد کی جس میں ممتاز سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ کے اہلکاروں، بھارتی کمیونٹی رہنماؤں، بر طانوی ہندو اینٹرپرینرزنے شرکت کی۔دیوالی ہندؤوں کے مذہبی تہواروں میں ایک اہم ترین تہوار ہے ، اسے دیپاولی یعنی دئیے جلانے کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔۔ اس تقریب میں رقص و موسیقی کے ساتھ روایتی کھانے اور بھارتی مٹھائی اور تحفوں کا بھی اہتمام تھا۔ ہندو اس تہوار کو بدی کے خاتمے اور خیر کی روشنی جل اٹھنے سے عبارت کرتے ہیں۔

 

بر طانیہ میں تقریبا 750,000 بر طانوی ہندو آباد ہیں۔ اس موقع پر تقریب میں تقریر کرتے ہوئے مستقل انڈر سکریٹری پیٹر رکٹ نے کہا کہ

 

"ہمیں آپ کو یہاں دیکھ کر بڑی خوشی ہورہی ہے۔وزارت خارجہ نے اس تقریب کی میز بانی کرکے بڑا موزوں قدم اٹھایا ہے۔ہمارا عزم ہے کہ ہم بر طانیہ میں آباد تمام عقائد گروپوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔آج خارجہ پالیسی صرف اسی کا نام نہیں کہ بیرونی دنیا میں کیا ہورہا ہے۔یہ ایک داخلی معاملہ بھی ہے۔ہم بر طانیہ میں آباد تمام کمیونٹیز کے سامنے اپنی خارجہ پالیسی کی وضاحت کو، آپ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کو اور آپ تک رسائی کو اپنی ذمے داری سمجھتے ہیں کیونکہ اب خارجی اور داخلی معاملے الگ الگ نہیں رہے اب یہ ایک ہی ہیں، اس لئے ہمیں روشنیوں کے اس تہوار کو یہاں مناتے ہوئے بڑی خوشی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مہمانوں میں سے کئی ہمارے دوست بن جائیں گے"۔

 

وزارت خارجہ کی وزیر برائے یورپ کیرولائن فلنٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ

 

"کسی عقیدے پر یقین ، امید جگانے، اجتماعی زندگی گزارنے اور خوشیوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ہم مختلف طریقوں سے اس کا اظہار کیوں نہ کرتے ہوں لیکن اصل اہمیت اس کے پیچھے اخلاقیات اور پس منظر اور یہ مختلف کمیونٹیز کو آپس میں جوڑنے اور انہیں محفوظ اور مضبوط تر بنانے میں جو کردار ادا کرتا ہے، اس کی ہے۔میرے بچوں کی عمر اب بیس سے ذرا اوپر ہے اور میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان کی اسکول لائف میں گزشتہ برسوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ دیوالی ایک ایسی تقریب ہے جو بر طانیہ کے ہر اسکول کے ایجنڈا پر موجود ہے اور مجھے فخر ہے کہ میرے بچوں کو  دوسرے بچوں کے ساتھ ان کے عقائد کو سمجھنے اور شئیر کرنے کا موقع ملا اور وہ ان پہلوؤں کو بھی جان سکے جو ہندؤوں ، مسلمانوں، مسیحیوں اور دوسرے عقائد میں مشترکہ ہیں''۔

 

وزیر اعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے دارالامرا کی قائد ہیرئیٹ ہر مین نے کہا کہ

 

"وزیر اعظم اس تقریب میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن عالمی اقتصادی صورتحال نے انہیں مصروف کردیا ہے ۔ میں جانتی ہوں کہ دیوالی خاندانوں کے اکھٹا ہونے کا موقع ہے اور یہ عبادت کا موقع بھی ہے اگر اس موقع پر آپ سب برطانوی اور عالمی معیشت کے لئے دعا کر سکیں تو وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ مجھے کئی پرانے دوستوں کو یہاں دیکھ کر اور کئی نئے دوست بنا کر بڑی خوشی ہوئی ہے۔ہیپی دیوالی"۔

 شبھ دیپاولی" فارن سکریٹری کا پیغام"

برطانوی ثقافت پر اسلامی اور ایشیائی اثرات

بر طانوی ثقافت نے تاریخ میں اپنے ثقافتی افق کو وسیع تر کیا ہے۔ مختلف شہروں میں مشرق کا مغرب سے ملاپ ایک متحرک اور متنوع تال میل پیش کرتا ہے جو بر طانیہ ہی کا خاصہ ہے