ایف سی اواور اسلامی دنیا
وزارتِ خارجہ و دولت مشتركہ اور اسلامی دنیا كا میل جول
'' اسلامی كانفرنس كی تنظیم ﴿او آئی سی﴾ كے اراكین دنیا كی آبادی كا پانچواں حصہ ہیں۔ اقواممتحدہ كی ركنیت كی چوتھائی سے زائد اور دنیا میں توانائی كے ذخائر كا (70)ستر فیصدیہیں پایا جاتا ہے۔ برطانیہ كی مسلمان آبادی دو ملین سے زائد ہے۔ برطانیہ میں مسلمكمیونٹیز زندگی كے ہر شعبے ، كھیلوں اور فنون سے لے كر كاروبار اور سیاست تک اہماور متحرک کردار ادا کرتی ہیں۔ چنانچہ بین الاقوامی اور ملکی دونوں میدانوں میںانتہائی ضروری ہے کہ مسلم اور غیر مسلم اعتماد اور افہام تفہیم کی بنیاد پر ساتھکام کریں''۔
''میل جول اور افہام تفہیم کی جدید پارٹنر شپ'' جیک اسٹرا کی14فروری 2005کو لاہور میں کی گئی تقریر سے اقتباس
اس صفحے پر آپ وزارت خارجہ و دولت مشترکہ کے اسلام کے ساتھ میل جول پر ہونے والےکام کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ کام ایف سی او کی حکمت عملی پر مبنی کئی ترجیحاتپر فوقیت رکھتا ہے جن میں جاری رہ سکنے والی ترقی پر کام شامل ہے اور اسے جمہوریت،اچھی حکومت اور انسانی حقوق کی معاونت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل ہے۔
ہمارے کام کے تین مرکزی مقاصد ہیں:
1۔ مسلم اور غیر مسلم ممالک اور کمیونٹیز کےدرمیان باہمی تفہیم کی تعمیر کرنا تاکہ مشترکہ اقدار مستحکم ہوں اور ایک مزیدمنصفانہ دنیا کی مشترکہ جستجو میں پر امن، سیاسی، اقتصادی اور سماجی اصلاحات کےفروغ کے لئے مل کام کرنا
2۔ دہشت گردی کے جواز کی حمایت کی روک تھامکے ذریعے بالخصوص برطانیہ اور غیر ممالک کے نوجوان مسلمانوں میں بنیاد پرستی کےتدارک میں مدد دینا
3۔ برطانوی مسلمانوں کے ساتھ خارجہ پالیسی پرقریبی تعلق قائم کرنا تاکہ باہمی مفاہمت بڑھے اور مثبت رسوخ قوت کے طور پر ان کےساتھ برطانیہ اور اسلامی دنیا میں مل کر کام کرنا
بنیاد پرستی کے عمل کو سمجھنے اور اس کی روک تھام میں مدد دینے پر ہمارا کام حکومتکی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔ دیکھیے ہوم آفس کی انسداد دہشت گردیویب سائٹ۔
انسداددہشت گردی پر ایف سی او کے کام کے وسیع تر پہلوئوں کے بارے میں آپ ہمارے ''دہشتگردی اور سلامتی'' صفحات پڑھ سکتے ہیں۔