برٹش کونسل میڈیا گائیڈ
برٹش کونسل نے ایک کتاب جاری کی ہےجس کا نام ہے "برٹش کونسل : میڈیا گائیڈ"۔ یہ کتاب صحافیوں کے لئے حوالےکے ذریعے کے طور پر کام آئے گی۔ کونسل کے مطابق یہ گائید برطانیہ کے مسلمانوں اوردوسروں کے لئے مددگار ہوگی۔ اس گائید میں ملک کی اہم ترین نمائندہ تنظیموں کے ایڈریسزکے علاوہ ان سے رابطوں کے طریقوں اور ان سے متعلق اداروں کے معلومات ہیں۔ کتاب میںمذہب اسلام کے اہم اصولوں اور ثقافتی اختلافات میں جائے بغیر برطانوی مسلمانوں پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کتاب کا مقصد ہے کہ مسلمانوں کو تارکین وطن کے بہ نسبتاس ملک کے شہریوں کے طور پر دیکھا جائے تاکہ انہیں 21ویں صدی کے آغاز میں آج کےبرطانیہ کا اٹوٹ انگ بنایا جائے۔
تعارف میں برٹش کونسل کے چیئرمین لارڈکنک نے لکھا ہے کہ برطانوی لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ لفظ ہم یعنی برطانوی میں بیس لاکھہ مسلمان شامل ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے اہمیت کی حاصل ہے کہ اس میں برطانوی معاشرے کا جائزہ لیتے ہوئے باقی معاشرے کو اور اس کے علاوہ باقی دنیا کو اس کےمسلم حصے سے واقف کرایا گیا ہے۔
لارڈ کنک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کارٹونوں کے مسئلے کا بھی ذکر کیا ہے جو ایک ڈینش اخبار میں شائع ہوئے اور جن سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ لارڈکنک نے کہا کہ اس واقعہ سے مسلمانوں اور دوسرے غیرمسلم یورپیوں کے نقطہ نظر میں اختلافات سامنے آئے اور یہ بھی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ لارڈ کنک نے توجہ دلائی کہ اس مسئلے پر برطانیہ میں فسادات نہیں ہوئے ۔یو کے میں اس وقت مذاہب کے مابین ڈائیلاگ ہو رہا ہے اور یہ برطانیہ کی ایک عمدہ خصوصیت ہے جسے مزید پھلنا پھولنا چاہئے۔
کتاب میں دس اسباق ہیں۔ اس میں کوشش کی گئی ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے بارے میں اٹھائے گئے اہم ترین سوالات سے نمٹاجائے۔ ان میں "مسلم خواتین" اور مسلم معاشروں میں ان کا مقام شامل ہیں۔اس کے ساتھہ ساتھہ "مذہب اور سرمایہ کاری" کا موضوع ہھی شامل ہے کہ اب بڑے بڑے برٹش بینکوں کی طرف سے اپنے مسلمان کلائنٹس کو اسلامک بینکنگ کی پیش کش کی جارہی ہے۔ کتاب میں برطانیہ میں مساجد کے بارے میں ایک پورا حصہ مختص کیا گیا ہے تاکہ مسلم کمیونٹی میں ان کے کردار اور خاص طور پر یہاں آنے والے نئے تارکین وطن کے لئےمعلومات فراہم کی جائیں۔
اس کے علاوہ ہر باب کے آخر میں الیکٹرانک ویب سائٹس اور اسپیشلائزڈ بکس دی گئی ہیں تاکہ یو کے میں مسلمانوں کے بارے میں جاننے کے لئے اضافی ذرائع کے طور پر کام آسکیں۔ دو باب مسلمانوں اور میڈیا میں تعلق کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ برٹش کونسل کے مطابق ان کا اصل مقصد یہ ہے کہنوجوان جرنلسٹوں کو مسلم اشوز سے نمٹنے اور انہیں سمجھنے میں مدد دی جائے۔
عربی اصلاحات کا ایک انڈیکس بھی شامل کیاگیا ہے جس میں مثال کے طور پر "حلال" اور "جہاد" جیسی اصلاحات شامل ہیں جو گزشتہ برسوں میں یو کے اور بہت سے مغربی ملکوں میں بہت عام ہو گئی ہیں لیکن یہاں کے میڈیا کے سامعین و ناظرین کی بہت بڑی تعداد کے ذہنوں میں اس کی کوئی واضح تعریف نہیں ہوتی۔ اگرچہ کتاب میں کئی موضوعات شامل ہیں جنہیں مسلمان بخوبی سمجھتے ہیں جیسے لفظ "حجاب" کا مطلب، تاہم یہ خود یوکے کے مسلمانوں کےلئے معلومات کا ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ اس میں برطانوی مسلمانوں کے لئے سب سے اہم اداروں اور ان سے رابطوں کے طریقے شائع کئے گئے ہیں۔