تجارت ۔ ملازمتیں اور مہارت یا ہنر
تجارت
حالیہ برسوں میں ہم نے جس مسلسل عالمی ترقی کا مشاہدہ کیا تھا اس کے بنیادی ستون تجارت اور گلوبلائزیشن تھے۔اور اب اسی کو تحفظات اور تجارتی سرمایہ کاری میں کمی کے خطرے کا سامنا ہے۔اگر اس سے کھلی عالمی معیشت میں مستقل تبدیلی پیدا ہوگئی تو اس سے ترقی یافتہ، خاص طور پر معاشی طور سے ابھرتے ہوئے اور کم آمدنی والے ممالک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچے گا اور ملازمتوں اور معاشی ترقی کے مواقع بڑھانے کی ہماری مجموعی استعداد متاثر ہوگی جو ہمیں اس اقتصادی تنزل سے نکال سکتی تھی ۔
گھرانوں اور کاروبار وں کے عالمی انحطاط کے اثرات کے بارے میں خد شات وسیع اور سمجھ میں آنے والے ہیں۔لیکن حکومتوں کو یہ مظاہرہ کرنا ہوگا کہ ماضی کی غلطیاں، جیسے انحطاط کے جواب میں تجارتی پابندیاں، دہرائی نہ جائیں۔ دراصل ایک ایسےعالمی تجارتی معاہدے کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی ، جو عالمی اقتصادی ترقی کے لئے اضافی 100 بلین پاونڈ سالانہ کی مالیت کا ہوگا ۔ لندن اعلی سطحی کانفرنس کو حکومتوں کے اس عزم کو بھی مستحکم کرنا چاہئیے کہ وہ تجارت کو محدود یا کمزور نہ کریں اور اس عزم کی نگرانی کے لئے شفاف میکینزم استعمال کرنا ہونگے۔
دنیا کی مصنوعاتی تجارت کا 90 فی صد کریڈٹ، انشورنس یا ضمانت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔حکومتوں، ملٹی لیٹرل ڈیولپمنٹ بنکوں ، برآمداتی کریڈٹ ایجنسیوں اور نجی شعبے کومل کر کام کرنا ہوگا تاکہ تجارتی سرمایہ کاری میں کافی، فوری اور انتہائی ضرورت کے مقام پر اضافی وسائل فراہم کئے جاسکیں ۔
روزگار اور مہارتیں یا ہنر
اعلی اور پائیدار ملازمتوں کے لئے حکومتوں کو اپنے عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ روزگار کے مواقع کی حتمی ضمانت ایسی نئی اشیا ، خدمات اور طریقہ کار کو ترقی دے کر ہی دی جاسکتی ہے جو کہ عالمی منڈی میں مسابقت کر سکیں۔حکومتیں، کاروبار ، ٹریڈ یونینوں اور تیسرے شعبے کے ساتھ ساجھے داری کرکے سرمایہ کاری، اختراعات ، ہنر اور منصوبوں کی حوصلہ افزائی کریں جو مستقل روزگار کو جنم دیں اور روزگار کے ان آئندہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے لوگوں کو انفرادی طور پر اپنی مہارت میں اضافے میں مدد مل سکے۔