عالمی مالیاتی ادارے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں تھے۔ان میں اصلاح اور مزید وسائل کے ذریعے مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے عہدہ بر آ ہونے کی صلاحیت پید اکی جا سکتی ہے۔
بحران کے وسیع پیمانے نے ہمارے عالمی مالیاتی اداروں کے موثر ہونے کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو:
- قومی حل کو مربوط بنائیں
- ان کے پاس ضروری وسائل ہوں
- موثر ہونے کے مجاز ہوں
اس کے بغیر دنیا ڈی گلوبلائزیشن کے تباہ کن چکر میں پھنس کر رہ جائیگی۔
عالمی مالیاتی اداروں نے پہلے ہی اہم قدم اٹھالئے ہیں۔آئی ایم ایف نےسیال اثاثے کی نئی مختصر المدت سہولت متعارف کرائی ہے۔عالمی بنک نے نیا انفرا اسٹرکچر اور ٹریڈ فائنانس کی سہولت متعارف کی ہے۔
واشنگٹن اعلی سطحی کانفرنس میں جن اہم اقدامات پر اتفاق رائے کیا گیا وہ یہ ہیں:
- فائنانشل اسٹیبلٹی فورم [ایف ایس ایف]کو وسعت دی جائے گی
- آئی ایم ایف اور ایف ایس ایف کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائیگا
- عالمی مالیاتی اداروں میں جامع اصلاحات کی ضرورت کی توثیق کی گئی
لندن اعلی سطحی کانفرنس میں اس ایجنڈا کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے
مندرجہ ذیل مقاصد کے حصول کے لئے عالمی مالیاتی گورننس کے نظر ثانی شدہ نظام کی ضرورت ہے:
- مستقبل کے خطرات کی شناخت اور ان میں تخفیف کے لئےپیشگی عالمی تہدیدی نظام
- نگرانی اور ضابطوں کے عالمی منظور شدہ معیار
- عالمی فرموں کی سرحد پار موثر نگرانی
- بحران کی صورت میں تعاون اور مربوط کارروائی کا نظام
لیکن ہمارے عالمی مالیاتی اداروں پرغریب ترین اور کمزور ترین ملکوں پر اثرات میں کمی کی مجموعی ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔
اقتصادی تنزل کی صورت میں ترقی پزیر ممالک میں اپنی معیشت کو بچانے کی اہلیت کم ہوتی ہے۔
لندن اعلی سطحی کانفرنس اس پر غور کرے گی کہ کمزور معیشتوں کو تحفظ دینے اور ان میں ترقی کی تحریک پیدا کرنے کے لئے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف، عالمی بنک اور علاقائی ترقیاتی بنک کس طرح تیزی سے اور موثر طور پر کارروائی کر سکتے ہیں۔