جی- 20 لندن اعلی سطحی کانفرنس کے اختتام پر یہ اعلامیہ جاری کیا گیاہے۔
1 موجودہ دور میں ہم عالمی معیشت کو درپیش عظیم ترین چیلنج کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک بحران، جو ہمارےگزشتہ اجلاس کے بعد زیادہ سنگین ہوا ہے، جس نے ہر ملک کی عورتوں، مردوں اور بچوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اور جسے حل کرنے کے لیے سبھی ملکوں کو اکٹھے ہو کر کام کرنا چاہئے۔ عالمی بحران کے لیے ضرورت ہے ایک عالمی حل کی۔
2 ہم نے آغاز اس عقیدے سے کیا تھا کہ خوش حالی ناقابل تقسیم ہے۔ پیداوار کو اگر برقرار رکھنا ہے تو اسے آپس میں بانٹنا ہوگا۔ بحالی کے ہمارے عالمی منصوبے کو صرف ترقی یافتہ ملکوں ہی کے نہیں، بلکہ دنیا میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور غریب ترین ملکوں کے محنتی کنبوں کے کاموں اور ضرورتوں کا احاطہ کرنا چاہئے۔ ہمیں صرف موجودہ آبادی کے مفادات ہی کی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی عکاسی بھی کرنی چاہئے۔ ہمیں یقین ہے کہ پائیدار عالم گیریت کی حتمی بنیاد اور ہم سب کے لیے نظر آنے والی خوش حالی ایک کھلی عالمی معیشت ہی کی صورت میں ممکن ہے جو مارکیٹ کے قواعد، مؤثر قانون سازی اور مضبوط عالمی اداروں پر انحصار کرتی ہے۔
3 اسی لیے ہم نے آج عہد کیا ہے کہ ہم کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے:
· اعتماد، پیداوار اور کام کے مواقع کی بحالی میں۔
· قرضوں کی بحالی کے لیے مالی نظام کی درستگی میں۔
· اعتماد کو ازسر نو قائم کرنے کے لیے مالیاتی قانون سازی کی مضبوطی میں۔
· ہمارے عالمی مالیاتی اداروں کو فنڈ دینے اور ان کی اصلاح کرنے میں تاکہ موجودہ بحران کو ختم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جائے۔
· عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اوربے جا تحفظ دینے کے عمل کو رد کرنے میں تاکہ خوش حالی کے عمل کو فروغ حاصل ہو ۔
· ایک جامع، زرخیز اور پائیدار بحالی کو ممکن بنانے میں۔
ان وعدوں کو پوراکرنے کے لیے اگر ہم مل کر کام کریں تو عالمی معیشت کو اس بحران سے نکال لیں گے اور ایسے کسی بھی بحران کو مستقبل میں پیدا ہونے سے روک سکیں گے۔
4 آج ہم نے جو معاہدے کیے ہیں،وہ کچھ یوں ہیں:
آئی ایم ایف کے وسائل کو تین گنا بڑھا کر 750بلین ڈالر تک کیا جائے گا، 250بلین ڈالر کی رقم کو ایک نئی مد ایس ڈی آر کے لیے مختص کیا جائے گا۔ ایم ڈی بیز کے ذریعے کم از کم 100بلین ڈالر کی مالیت کے اضافی قرضے جاری کرائے جائیں گے۔ تجارتی مالیات کی بہتری کے لیے 250بلین ڈالرمالیت کی مدد فراہم کی جائے گی۔ اور غریب ترین ملکوں کو نرم شرائط پر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے متفقہ آئی ایم ایف کی سونے کی فروخت سے حاصل ہونے والے اضافی وسائل کو استعمال کیا جائے گا۔ عالمی معیشت میں کریڈٹ، پیداوار اور کام کے مواقع کو بحال کرنے کے لیے1.1ٹریلین ڈالر کی مالیت سے ایک امدادی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اپنے اپنے طور پر قومی سطح پر ہم یہ اقدامات کریں گے۔ یوں وسیع پیمانے پر بحالی کا عالمی منصوبہ شروع ہوگا جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔
پیداوار اور کام کے مواقع کی بحالی
5 ہم ایک غیر معمولی اور مشترکہ مالیاتی توسیع کے لیے کام کررہے ہیں جو دنیا بھر میں کام کے لاکھوں مواقع کو تباہ ہونے سے بچائے گی یا مواقع پیدا کرے گی اور اگلے سال کے آخر تک جس کی مالیت 5ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی جب کہ اس سے حاصل ہونے والے نتائج کی شرح 4فیصد ہوگی اور یہ سبز معیشت میں منتقلی کے عمل کو تیز کرے گی۔ عالمی پیداوار کی بحالی کے لیے جس قدر بھی ضروری ہوا، ہم اس پیمانے پر پائیدار مالیاتی کوششیں کرنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں۔
6 ہمارے سنٹرل بنکوں نے بھی کچھ غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں سود کی شرح کو غیر معمولی حد تک کم کردیا گیا ہے۔ ہمارے سنٹرل بنکوں نے یہ طے کیا ہے کہ جب تک ضروری ہوا، توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھیں گے اور تمام مالیاتی پالیسی تدابیر بشمول غیر روایتی تدابیر، کو استعمال کریں گے تاکہ قیمتوں میں استحکام پیدا ہو۔
7 پیداوار کی بحالی کے لیے ہمارے اقدامات تب تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکتے جب تک ہم اندرون ملک قرضوں کی فراہمی اور عالمی سطح پر سرمایے کے بہاؤ کو بحال نہیں کرتے۔ ہم نے اپنے بنکنگ سسٹم کو بھرپور اور بنیادی امداد مہیا کی ہے تاکہ سرمایے کا بہاؤ قائم رہے، مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہے اور کمزور اثاثوں کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کیا جاسکے۔ ہمارا مصمم ارادہ ہے کہ مالیاتی نظام کے ذریعےکریڈٹ کے معمول کے بہاؤ کو بحال رکھنے کے لیے ہم تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
مالیاتی شعبے کی درستگی اور قرض دینے کے عمل کی بحالی کے لیے متفقہ جی 20فریم ورک کی روشنی میں اپنی پالیسیوں کونافذ کرتے ہوئے ہم سسٹم کے اعتبار سے اہم اداروں کی افادیت کو یقینی بنائیں گے۔
8 اگر یہ اقدامات ایک ساتھ کیے جائیں تو جدید دور میں مالیاتی شعبے میں سب سے بڑا مالیاتی محرک اور انتہائی جامع امدادی پروگرام ثابت ہوں گے۔ ان اقدامات کے ایک ساتھ رونما ہونے سے ان کا اثر بڑھے گا اور جن غیر معمولی پالیسی اقدامات کا اب تک اعلان ہوچکا ہے، ان کابلا تاخیر نفاذ ممکن ہوسکے گا۔ آج ہم اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ اپنے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور تجارتی مالیات کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک ٹریلین ڈالر کے اضافی وسائل بھی مہیا کریں گے۔
9 پچھلے مہینے آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ حقیقی معنو ں میں 2010تک عالمی پیداوار بحال ہوجائے گی اور اس میں 2فیصد تک اضافہ ہوگا۔ ہمیں اعتماد ہے کہ یہ اقدامات جن پر ہم آج متفق ہوئے ہیں، اور طویل المیعاد مالیاتی پائیداری کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی سطح پر پیداوار اور کام کے مواقع کی بحالی کا ہمارا ناقابل تغیر ارادہ ، مطلوبہ پیداوار کی طرف واپسی کے عمل کو تیز بنائے گا۔ ہم نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ اس نتیجے کے حصول کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہوگا، ہم کریں گے اور ہم آئی ایم ایف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو اقدامات کیے جائیں، وہ ان کا باقاعدگی سے جائزہ لے اور دیکھے کہ عالمی سطح پر کس نوع کے اقدامات کی مزید ضرورت ہے۔
10 ہم متفق ہیں کہ طویل المیعاد مالیاتی پائیداری اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنائیں گے اور ایسی اہم حکمت عملیاں تیار کریں گے جو مالیاتی شعبے کی مدد اور عالمی طلب کی بحالی کے لیے کیے جانے والے فی الوقت ضروری اقدامات کے اثرات کو زائل کریں گی۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ان متفقہ پالیسیوں کے نفاذ سے ہم اپنی معیشتوں کے طویل المیعاد اخراجات کو محدود کرلیں گے اور یوں طویل عرصے کے لیے ضروری مالیاتی اتحاد کے دائرے کو بھی مختصر کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
11 ہم معاشی پالیسیوں کو اپنے ملکوں پر ظاہر ہونے والے اثرات کی روشنی میں ذمہ داری کے ساتھ لاگو کریں گے، اپنی کرنسی کی قدر میں مسابقانہ کمی کرنے سے احتراز کریں گے اور ایک مستحکم اور فعال بین الاقوامی مالیاتی نظام کو فروغ دیں گے۔ ہم اس بات کو فروغ دیں گے کہ آئی ایم ایف،ابھی اور آنے والے وقتوں میں بھی ، شفاف انداز میں، برابری کی سطح پر اور خود مختارانہ طور پر ہماری معیشتوں اور مالیاتی شعبوں کی نگرانی کرے اور یہ بھی دیکھے کہ ہماری پالیسیوں کے دوسروں پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور عالمی معیشت کو کن خدشات کا سامنا ہے؟
مالیاتی نگرانی اور قانون سازی کی مضبوطی
12 مالیاتی شعبے، مالیاتی قانون سازی اور نگرانی کے حوالے سے اہم ناکامیوں کی وجہ سے ہمیں اس بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اعتماد تب تک بحال نہیں ہوگا جب تک ہم ایک قابل اعتبار مالیاتی نظام تشکیل نہیں دیتے۔ ہم مستقبل کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک زیادہ مضبوط، عالمی صورت حال سے زیادہ موافق ’سپروائزری اور ریگولیٹری فریم ورک‘ تیار کریں گے جو پائیدار عالمی پیداوار کو ممکن بنائے گا اور کاروبار اور شہریوں کی ضرورتوں کو پورا کرے گا۔
13 ہم میں سے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ ملکی ریگولیٹری سسٹم کو مضبوط ہونا چاہئے۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ملکوں کے درمیان کہیں زیادہ موافقت اور باضابطہ تعاون، اور عالمی سطح پر متفقہ اعلی معیارات کا ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی مالیاتی نظام کے مطابق ہو۔ اگر ہم قانون سازی اور نگرانی کے عمل کو بہتر بنالیں تو اس سے خوش حالی، وقار اور شفافیت میں اضافہ ہوگا، مالیاتی نظام کو درپیش خطرات سے تحفظ ممکن ہوسکے گا، مالیاتی اور معاشی چکرتیز ہونے کی بجائے مدھم ہوگا،مالیات کے غیر موافق اور غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کم ہوگا، اور خطرات سے پُراقدامات کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ریگولیٹ اور سپروائز کرنے والے صارفین اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کریں گے، مارکیٹ کے نظم و ضبط کو ممکن بنائیں گے، دوسرے ملکوں پر منفی اثرات کی روک تھام کریں گے، قواعد بنانے کے عمل میں من مانی کے امکان کو کم کریں گے، مسابقت اور تحرک کو فروغ دیں گے اور مارکیٹ میں ہونے والی پیش رفت سے مطابقت قائم رکھیں گے۔
14 جیسا کہ منسلکہ کارکردگی کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے، ہم گزشتہ میٹنگ میں طے ہونے والے ’ایکشن پلان‘ کے نفاذ کے لیے کوشش کریں گے۔ آج ہم نے ایک اعلامیہ ’مالیاتی نظام کی استحکام پذیری‘ کے نام سے جاری کیا ہے۔ اس اعلامیہ میں ہم نے ان امور پر اتفاق رائے کیا ہے۔
· ایک نیا ’فنانشل اسٹیبی لیٹی بورڈ (ایف ایس بی) قائم کیا جائے گا جس کا ایک منضبط منشور ہو۔ یہ بورڈ فنانشل اسٹیبی لیٹی فورم (ایف ایس ایف) کی جگہ لے گا اور اس میں تمام جی 20ممالک، ایف ایس ایف کے ممبران، اسپین، اور یورپین کمیشن شامل ہوں گے۔
· اور یہ کہ ایف ایس بی خود ہی آئی ایم ایف کے اشتراک سے بڑی سطح کے معاشی اور مالیاتی خدشات سے متعلق وارننگ دے گااور انہیں ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی کرے گا۔
· ہمارے ریگولیٹری سسٹمز کی تشکیل نو کرے گا تاکہ ہماری اتھارٹیز بڑی سطح کے خطرات کی نشان دہی کرنے اور ان سے نمٹنے کی اہل ہوسکیں۔
· قانون سازی کی جائے گی اور باضابطہ طور پر اہم مالیاتی اداروں، انسٹرومنٹس اور مارکیٹوں کی نگرانی کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر اس میں باضابطہ ہیج فنڈز بھی شامل ہوں گے۔
· ایف ایس ایف کے ادائیگی اور تلافی سے متعلق نئے سخت قوانین کو اختیار اور نافذ کیا جائے گااورتلافی کی پائیداراسکیموں اور تمام اداروں کے لیے تجارتی سماجی ذمہ داری کو فروغ دیا جائے گا۔
· ایک بار جب سرمایے کی واپسی ممکن ہوجائے گی تو پھر بینکنگ سسٹم میں سرمایے کے معیار، مقدار اور عالمی سطح پر اس کے استحکام کے لیے کوشش کی جائے گی۔ مستقبل میں قانون سازی اس انداز میں کی جائے گی کہ ایک طرف جھکاؤ کی زیادتی کا خاتمہ ہوگا اور اچھے وقتوں میں وسائل کے علیحدہ ذخیروں کا قیام ممکن ہوگا۔
· غیر موافق قوانین جیسے ٹیکس کی چھوٹ وغیرہ کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اپنے عوامی مالیات اور مالیاتی نظاموں کی حفاظت کے لیے ہم پابندیاں عائد کرنے پر پوری طرح تیار ہیں۔ معاملات مخفی رکھنے کی روایت والی بنکنگ کا زمانہ لد چکا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ او ای سی ڈی نے آج ہی ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے جن کا گلوبل فورم نے ٹیکس سے متعلق معلومات کے تبادلے کے بین الاقوامی سٹینڈرڈ کی روشنی میں تجزیہ کیا ہے۔
· اکاؤنٹس سے متعلق سٹینڈرڈ طے کرنے والے ماہرین کو دعوت دی جائے گی کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ریگولیٹرز اور سپروائزرز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ قدر و قیمت کے تعین اور اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے سٹینڈرڈز کو بہتر بنایا جائے اور اکاؤنٹس کے لیے اعلی درجے کے عالمی سٹینڈرڈز کا ایک سیٹ تیار کیا جا سکے۔
· ریگولیٹری نگرانی اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز کی رجسٹریشن کو بڑھایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ اچھے طریقوں کے بین الاقوامی ضابطے کے موافق رہیں، خاص طور پرسود کے ناقابل قبول تصادم سے بچا جائے۔
15 یم اپنے وزراء سے کہیں گے کہ وہ ایکشن پلان میں موجود ٹائم ٹیبل کے مطابق ان فیصلوں پر عمل درآمد کو مکمل کریں۔ ہم نے ایف ایس بی اور آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ وہ وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور دوسرے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں اور نومبر میں ا سکاٹ لینڈ میں ہونے والی ہمارے وزارئے مالیات کی میٹنگ میں اس حوالے سے ایک رپورٹ پیش کریں۔
ہمارے عالمی مالیاتی اداروں کی مضبوطی
16 ابھرتی ہوئی مارکیٹیں اور ترقی پذیر ممالک کو بھی جو موجودہ عالمی پیداوار کے منبع ہیں، چیلنجز کا سامنا ہے جو عالمی معیشت میں موجودہ انحطاط میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی اعتماد اور معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ سرمائے کا بہاؤ جاری رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے خاص طور پر آئی ایم ایف کو۔آج ہم اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی وساطت سے 850بلین ڈالر کی مالیت کے اضافی مالی وسائل تیار کئے جائیں تاکہ نئی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر ملکوں میں ’کاؤنٹر سائیکلنگ‘اخراجات کے لیے مالی امداد ، بنکوں میں سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، تجارتی مالیات، ادائیگیوں میں امداد، قرضوں کے رول اوور اور سماجی امداد کے ذریعے پیداوار کو بہتر بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ان نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
· ہم نے اس بات پر اتفاق رائے کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس موجود وسائل میں ممبران سے مالی امداد لے کر 250بلین ڈالر کا اضافہ کیا جائے جسے بعدازاں قرض لینے کے نئے توسیع شدہ اور زیادہ لچک دار انتظام کے تحت کھپایا جائے گا۔ اس کو بڑھا کر 500بلین ڈالر کرلیا جائے گا۔ ہم نے یہ بھی طے کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مارکیٹ کے لیے قرضوں کے بارے میں بھی سوچا جائے گا۔
· ہم ملٹی لیٹرل ڈیولپمنٹ بنکوں (ایم ڈی بیز) کے ذریعے جاری ہونے والے قرضوں میں 100بلین ڈالر تک اضافے کی کوشش کریں گے۔ یہ قرضے کم آمدنی والے ملکوں کو بھی جاری کئے جائیں گے۔ ہم یہ بھی کوشش کریں گے کہ تمام ایم ڈی بیز کے پاس مناسب حد تک سرمایہ موجود ہو۔
17 یہ بہت ضروری ہے کہ ان وسائل کو پیداوار میں اضافے کے لیے مؤثر انداز میں اور اپنی مرضی سے استعمال کیا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف نے اپنی نئی فلیکسیبل کریڈٹ لائن (ایف سی ایل) اور قرضوں اور ان کی شرائط کے نوتشکیل شدہ فریم ورک کی مدد سے جو عمدہ کارکردگی پیش کی ہے، اس کے لیے وہ مبارک باد کا مستحق ہے۔ اس فریم ورک سے آئی ایم ایف اس بات کو یقینی بنانے کے قابل ہوسکے گا کہ اس کی سہولتیں ان پیچیدہ وجوہات سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں، جو ملکوں کے توازن ادائیگی کی مالیاتی ضرورتوں ، خاص طور پر بینکنگ اور کارپوریٹ سیکٹرکی طرف سرمائے کے خارجی بہاؤ کی واپسی کا باعث بنتی ہیں۔ ہم میکسیکو کے اس فیصلے کی تائید کرتے ہیں کہ ایف سی ایل انتظام ہونا چاہئے۔
18 ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ایس ڈی آر کے تحت کچھ رقم مختص ہونی چاہئے جس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں 250 بلین ڈالر کا اضافہ ہوگا اور عالمی مالی بہاو بھی بڑھے گا۔ چوتھی ترمیم کی فوری تصدیق بھی اس سے ممکن ہوگی۔
19 اس مقصد کے لیے کہ ہمارے مالیاتی ادارے اس بحران پر قابو پانے کے قابل
المیعاد تعلق ، اثر پذیری اور جواز کو مضبوط بنانا ہوگا۔ لہذا اس کے باوجود کہ ہم نے آج وسائل میں اضافہ کرنے پر اتفاق کرلیا ہے، ہم یہ ارادہ بھی رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اصلاح کریں اور انھیں ماڈرن بنائیں تاکہ وہ پیش آمدہ نئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اراکین اوراسٹیک ہولڈرز کی معاونت کرسکیں۔ ہم ان کے منشور، دائرہ کاراور گورننس میں اصلاح کریں گے تاکہ وہ عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں اور عالم گیریت کے نئے چیلنجز سے موافق ہوسکیں۔ ابھرتی ہوئی اور غریب ترین معیشتوں سمیت تمام ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی اور آواز بہت واضح ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہونا چاہئے کہ اداروں کے احتساب اور معیار میں بہترا سٹریٹجک بصیرت اور فیصلہ سازی کے ذریعے اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاق ہوا ہے۔
· ہم نے یہ وعدہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے کوٹے اور سمعی اصلاحات کے پیکیج کو جس پر اپریل 2008میں اتفاق رائے ہوا تھا، نافذ کریں گے اور آئی ایم ایف سے کہیں گے کہ وہ جنوری 2011تک کوٹوں کا اگلا جائزہ مکمل کرے۔
· ہم متفق ہیں کہ باقی کاموں کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور طلب ہے کہ آئی ایم ایف کوا سٹریٹجک راہ نمائی مہیا کرنے میں ’فنڈز گورنرز‘ کے کردار کو بڑھایا جائے اور اس کے احتساب میں اضافہ کیا جائے۔
· ہم نے یہ عہد بھی کیا ہے کہ عالمی بنک کی اصلاحات کو نافذ کریں گے جن پر اکتوبر 2008میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ تیز تر ٹائم ٹیبل کے مطابق ہمیں آواز اور نمائندگی سے متعلق اصلاحات کے بارے میں مزید سفارشات حاصل ہوں جن پر 2010کے موسم بہار تک اتفاق رائے ہوجائے۔
· ہم متفق ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور سینئر رہنما ایک واضح اور شفاف طریقے سے اور میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے چاہئیں۔
· آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے حالیہ تجزیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چیئرمین سے کہا ہے کہ وہ جی 20کے وزراء مالیات سے مل کر جامع انداز میں لوگوں سے مشاورت کریں اور آئی ایف آئیز کی کارکردگی اور استعداد کو بہتر بنانے کے لیے مزید اصلاحات کے لیے سفارشات حاصل کریں اور انھیں اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔
20 عالم گیریت کے نئے چیلنجز کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ایسی بنیادی اقدار اور قواعد پر نئی عالمی رائے شماری کروائی جائے جو پائیدار معاشی سرگرمی کو فروغ دیں گے۔ ہم پائیدار معاشی سرگرمی کے ایسے ضابطے پر بحث کے حق میں ہیں تاکہ ہماری اگلی میٹنگ میں اس پر مزید بحث ہوسکے۔ اس حوالے سے دوسرےفورموں میں شروع کیے گئے کام پر بھی توجہ دینے اور پائیدار معاشی سرگرمی کے چارٹر پر مزید بحث کرنےکی ضرورت ہے۔
بے جا حفاظتی اقدامات کے خلاف مزاحمت
اور عالمی تجارت و سرمایہ کاری کا فروغ
21 عالمی تجارت میں اضافہ نصف صدی سے بڑھتی ہوئی خوش حالی میں معاون ہے۔ لیکن اب 25 سال میں پہلی مرتبہ یہ انحطاط کا شکار ہے۔ بے جا حفاظتی اقدامات کے حامیوں کے دباؤ اور تجارتی کریڈٹ کے واپس لیے جانے کی وجہ سے زوال پذیر طلب سنگین صورت اختیار کرگئی ہے۔ عالمی ترقی کے لیے عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں نئی جان ڈالنا لازمی ہے۔ ہم بے جا حفاظتی اقدامات کی تاریخی غلطیاں نہیں دہرائیں گے جیسا کہ سابقہ ادوار میں ہوا۔ اس مقصد کے تحت:
- ہم واشنگٹن میں کئے گئے عزم کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہیں: سرمایہ کاری اور اشیا اور سروسز کی تجارت میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے احتراز کرنا، نئی برآمدی پابندیاں نہ لگانا، برآمدات میں اضافے کے لیے ڈبلیو ٹی او کے غیر موافق اقدامات کرنا۔ اس کے علاوہ ہم ایسے اقدامات کی فوری اصلاح کریں گے۔ ہم 2010 کے اختتام تک ایسا کرنے کا عزم کرتے ہیں۔
- ہم اپنی ملکی پالیسی کے، جن میں مالیاتی شعبے کی معاونت کے لیے کئے گئے مالیاتی پالیسی اور اقدامات بھی شامل ہیں، تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم بے جا حفاظی مالیاتی اقدامات نہیں کریں گے، خاص طور پر ایسے اقدامات جو عالمی سطح پر اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی جانب سرمائے کا بہاؤ کم کریں۔
- ہم ڈبلیو ٹی او کو اس قسم کے کسی بھی اقدامات سے فوراً آگاہ کریں گے اور دیگر بین الاقوامی اداروں سمیت ڈبلیو ٹی او پر زور دیں گے کہ وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے نگرانی کریں اور سہ ماہی بنیادوں پر عوام کے سامنے رپورٹ پیش کریں کہ ہم ان وعدوں پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔
- ساتھ ہی ساتھ ہم تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور اس عمل میں سہولت پیدا کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرےں گے، اور
- ہم اگلے دو سالوں میں اپنے برآمدی کریڈٹ اور سرمایہ کاری کی ایجنسیوں اور ایم ڈی بیز کے ذریعے تجارتی فنانس کی مدد کے لیے کم از کم 250 ارب ڈالر کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
22 ہم دوحہ ڈیولپمنٹ راؤنڈ کے ایک پرعزم اور متوازن نتیجے پر پہنچنے کے خواہاں ہیں جو کہ نہایت ضروری بھی ہے۔ یہ عالمی معیشت میں کم ازکم 150 ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم پہلے سے جاری اقدامات کو، طریقہ کار سے متعلق اقدامات سمیت ، آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں
23 ہم آنے والے وقت میں اس نہایت اہم مسئلے پر نئے سرے سے غور کریںگے اور اسے سیاسی توجہ دیں گے، اور ترقی کا عمل آگے بڑھانے کے لیے اپنے جاری کام اورتمام انٹرنیشنل میٹنگز کو کام میں لائیں گے۔
سب کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار بحالی کو یقینی بنانا
24 ہم نہ صرف ترقی کا عمل بحال کرنے بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار عالمی معیشت کی بنیاد رکھنے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ بحران نے غریب ممالک کے کمزور لوگوں پر نہایت گہرا اثر ڈالا ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی وسائل کو پہنچنے والے دیرپا نقصان میں کمی کے لیے بحران کے سماجی اثرات کو زائل کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے تحت:
- ملینیئم ترقیاتی اہداف اور او ڈی اے وعدے پورے کرنے کے لیے ہم اپنے تاریخی عزم کی توثیق کرتے ہیں۔ اس میں تجارت کے لیے امداد، قرضوں میں تخفیف، اور گلینگلز وعدے بھی شامل ہیں،خاص طور پر ذیلی صحارائی افریقہ سے متعلق۔
- ہم نے آج جو فیصلے اور اقدامات کیے ، وہ 50بلین ڈالرکی رقم مہیا کریں گے ،جس سے کم آمدنی والے ملکوں میں سماجی تحفظ میں مدد ملے گی، کم آمدنی والے ممالک میں تجارت کو فروغ اور ترقی کو تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ بڑھتے ہوئے بحران کے حوالے سے ان ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس کی مدد کا ایک حصہ ہی ہوگا۔
- ہم غریب ترین ممالک کو سماجی تحفظ دینے کے لیے وسائل مہیا کر رہے ہیں، جس میں طویل المیعاد تحفظ خوراک کے لیے کاوشیں، اور عالمی بنک کے کم محفوظ اداروں کے فریم ورک کے حوالے سے دو طرفہ رضاکارانہ کاوش بھی شامل ہیں۔ جب کہ ان میں انفراسٹرکچر کرائسز فیسیلیٹی اور ریپڈ سوشل ریسپانس فنڈ بھی شامل ہے۔
- ہم نے آمدنی کے نئے ماڈل کی مطابقت میں عزم کیا ہے کہ آئندہ دو تین سال کے دوران معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف کے سونے کی فروخت سے حاصل ہونے والے اضافی وسائل اور فاضل آمدنی سے غریب ترین ممالک کے لیے 6 ارب ڈالر مالیت کی اضافی امداد رعایتی اور آسان شرائط پرمہیا کی جائے گی۔ ہم نے آئی ایم ایف کو دعوت دی ہے کہ وہ موسم بہار کی میٹنگ کے دوران ٹھوس سفارشات پیش کرے۔
- ہم نے قرضوں کی برقراری کی اہلیت کے فرہم ورک کی لچکداری کا جائزہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے کہا ہے کہ وہ سالانہ میٹنگز میں آئی ایم ایف سی اور ڈویلپمنٹ کمیٹی کو رپورٹ کریں؛ اور
- ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دیگر عالمی اداروں کے اشتراک کے ساتھ ایک مؤثر میکنزم تیار کرے تاکہ غریب ترین اور معاشی لحاظ سے نہایت کمزور ملکوں پر بحران کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
25 ہم بحران کے انسانی پہلو کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارا عزم ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور آمدنی میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے بحران سے متاثر ہونے والوں کی مدد کی جائے۔ ہم مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایک منصفانہ اور خاندانی مسائل کا خیال رکھنے والی لیبر مارکیٹ بنائیں گے۔ لہٰذا ہم لندن روزگار کانفرنس اور روم سماجی کانفرنس کی رپورٹس اور ان کے تجویز کردہ اہم نکات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم ترقی کے عمل میں تیزی لانے، تعلیم اور تربیت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور فعال لیبر مارکیٹ پالیسیوں کے (جن میں کمزور طبقات کا خاص خیال رکھا جائے) ذریعے روزگار فراہم کرنے میں مدد دیں گے۔ ہم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن پر زور دیتے ہیں کہ وہ دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ان اقدامات کا جائزہ لے اور مستقبل میں مطلوبہ اقدامات کے بارے میں تجویز دے۔
26 ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک فعال، پائیدار اور خوش حال بحالی کے مقصد کے لیے فوری مالی بہتری کے پروگرامز کے تحت فراہم کردہ فنڈز کی ہر بہترین طریقے سے سرمایہ کاری کی جائے۔ ہم صاف، جدت پسند، وسائل کے بہترین استعمال والی، کم کاربن خارج کرنے والی ٹیکنالوجیز اور انفراسٹرکچر کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم ایم ڈی بیز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس مقصد کو پورا کرنے میں بھرپور مدد کریں۔ ہم پائیدار معیشتیں بنانے کے لیے مزید اقدامات کی نشاندہی کریں گے اور ان پر مل کر کام بھی کریں گے۔
27 ہم موسموں میں ناقابل اصلاح تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں جس کی بنیاد مشترکہ مگر الگ الگ ذمہ داریوں پر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دسمبر 2009ء میں کوپن ہیگن میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں کسی اتفاق رائے پر پہنچیں۔
اپنے وعدوں کو پورا کرنا
28 ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم ان الفاظ کو عملی صورت دینے کے لیے ہنگامی طور پر اور عزم کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ ہم نے طے کیا ہے کہ اپنے وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اس سال کے آخر میں پھر سے ملیں گے۔