ہم بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرے کا مسلسل جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ بیرون ملک سفر کرنے والے یا وہاں سکونت پزیر بر طانوی شہریوں کو خطرے کی سطح، خطرے کو کم کرنے کے طریقوں اور حیاتیاتی یا کیمیائی حملے کی صورت میں ردعمل کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔
ہم بر طانوی کاروباروں کو محفوظ رہنے کے لئے بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ہم ہر ملک میں دہشت گردی کے خطرے کا اندازہ کیسے لگاتے ہیں؟
ہر ملک کے سفری مشورے میں خلاصے کے بعد دہشت گردی پر ایک سیکشن رکھا گیا ہے۔ ہم نےدہشت گردی کے خطرے کے لئے چار سطح کا پیمانہ مقرر کیا ہے۔
۰ دہشت گردی کا بڑا خطرہ
جہاں معلوم ہو کہ دہشت گردوں کی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔
۰ دہشت گردی کا عام خطرہ
جہاں دہشت گردوں کی کچھ سرگرمیوں کا علم ہو ۔
۰ دہشت گردی کا چھپا ہو اخطرہ ہو
جہاں کم درجے کی دہشت گردی کی سگرمیوں کا علم ہو۔
۰ دہشت گردی کا خطرہ نچلی سطح کا ہو
جہاں دہشت گردوں کی سرگر میوں کے وجود کا علم نہ ہو یا محدود ہو۔
ہم خطرے کی سطح کا اندازہ لگانے کے لئے کئی ذرائع استعمال کرتے ہیں:
۰ دہشت گردی کے مشترکہ تجزئیے کا مرکز(جے ٹی اے سی)
۰ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں
۰ کھلے ذرائع اور میڈیا کی اطلاعات
۰ مقامی معلومات
۰ ہمارے سفارتخانوں کی اطلاعات
۰ سفارتی رپورٹیں
یاد رہے کہ ہم ہر اس ملک کے بارے میں سفری مشورہ جاری نہیں کرتے جہاں دہشت گردی کا خطرہ پایا جاتا ہے۔
بیرون ملک ہونے کی صورت میں دہشت گردی کے خطرے کو کم کیجیئے
جب آپ کسی غیر ملک میں ہوں توعام احتیاطی تدبیروں کے ذریعے دہشت گردی کا شکار ہونے کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں:
۰ اس ملک کے بارے میں ہمارے سفری مشورے کا باقاعدگی سے جائزہ لیں، ہمارے ای میل الرٹس کے سبسکرائبر بن جائیں۔
۰ اس ملک اور خطے کے بارے میں خبریں دیکھیں اور پڑھیں۔
۰ اپنے پہنچنے کے بعد خود کو مقامی بر طانوی سفارتخانے یا کونسلیٹ میں درج کروائیں۔
۰ عوامی علاقوں اور ان مقامات پر ہو شیار رہیں جہاں غیر ملکیوں اور اہل مغرب کا گزر رہتا ہے جیسے سفارتخانے، ہوٹل، ریسٹورینٹ، شرابخانے اور کاروباری دفاتر۔
۰ مشتبہ اشیا پر نظر رکھیں، فورا مقامی پولیس کو اطلاع دیں ۔ عام لوگوں کے ہو شیار رہنے سے دہشت گردی کی کئی کارروائیاں ناکام بنادی جاتی ہیں۔
۰ ایسے معمول اختیار نہ کریں جن سے آپ آسانی سے نشانہ بن سکیں۔ اپنی معمول کی آمد و رفت کے اوقات اور راستے میں تبدیلی پیدا کرتے رہا کریں۔
ہم دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟
دہشت گردی کے حملوں میں یہ شامل ہیں:
خودکش حملے
ہائی جیکنگ
بم دھماکے
اغوا
فائرنگ
تجارتی ہوائی اور بحری جہازوں پر حملے
کیمیائی، حیاتیاتی، ریڈیائی اور جوہری مواد کا استعمال ۔
کیمیائی اور حیاتیاتی ایجنٹ
کیمیائی ایجنٹ قدرتی ہوتے ہیں یا تیار کردہ کیمیکل جیسے کلورین اور مسٹرڈ گیس۔کیمیائی ایجنٹ زیادہ تر مائع شکل میں ہوتے ہیں جن کے بخارات زہریلے ہوتے ہیں،لیکن کچھ ٹھوس بھی ہوتے ہیں جو پاؤڈر یا ایرو سول کی شکل میں خارج کئے جاتے ہیں۔
حیاتیاتی ایجنٹس جراثیم کی شکل میں ہوتے ہیں جو قدرتی لیکن غیر معمولی مرض کا سبب بنتے ہیں جیسے چیچک یا اینتھریکس۔یہ عام طور پر ایروسول سے خارج کئے جاتے ہیں۔
کیمیائی یا حیاتیاتی حملے کی صورت میں کیا کرنا چاہئیے؟
۰ متاثرہ علاقے سے فورا لیکن سکون کے ساتھ دور ہو جائییے۔
۰ اگر آپ زمین کی سطح سے نیچے کہیں ہیں تو فورا زمینی سطح پر آجائیے کیونکہ اکثر کیمیکل ہوا سے بھاری ہوتے ہیں اورنیچے کا رخ کرتے ہیں۔
۰ اگر ایمر جنسی سروس جائے وقوع پر نہیں پہنچی ہے تو آپ اسے اطلاع دیجئیے۔
۰ ایمرجنسی کے عملے کو اپنی موجودگی سے باخبر کر دیجئیے اور ان کی ہدایات پر عمل کیجئیے۔
۰ اس وقت تک وہاں سے نہ ہٹیں جب تک ایمر جنسی عملہ آپ سے نہ کہے۔ ہو سکتا ہے آپ پر سے جراثیم دور کرنے کا عمل کیا جائے تاکہ وہ دوسروں تک نہ پھیلیں۔
کیمیائی یا حیاتیاتی حملے کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟
اس کا انحصار اس پر ہے کہ حملے میں کونسا کیمیائی یا حیاتیاتی ایجنٹ استعمال کیا گیا ہے۔علامات چندسیکنڈ میں یا کئی ماہ کے اندر نمودار ہوتی ہیں۔
کیمیائی حملے میں سانس لینے میں تکلیف، آنکھوں اور جلد میں جلن ، چھالے، سر میں درد، متلی اور جسم میں لرزے کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ان علامات کے نمودار ہونے کی مدت کا انحصار کیمیکل کی نوعیت اور اس کے جوہر کے حجم پر ہے۔لیکن حیاتیاتی ایجنٹ کے بر عکس کیمیائی ایجنٹ متعدی نہیں ہوتے۔
حیاتیاتی ایجنٹ کی علامات مرض کی نسبت سے نمودار ہوتی ہیں۔ وہ وہی ہوتی ہیں جو اس مرض کے قدرتی طور پر لگنے سے سامنے آتی ہیں۔حیاتیاتی ایجنٹ سے لگنے والی اکثر بیماریوں کا علاج اینٹی بایو ٹیکس سے کیا جا سکتا ہے۔ وہ جتنی جلد لے لی جائیں اتنا ہی موثر ثابت ہوتی ہیں۔
بین الاقوامی دہشت گردی کے بارے میں بر طانیہ کی پالیسی
عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے کلیدی مقاصد میں سے ایک ہے۔