برطانیہ کے اسکالر شپس اور فیلو شپس کے ذریعے ہمیں دنیا بھر میں مستقبل کے ممکنہ رہنماؤں، رائے سازوں اور فیصلے کرنے والوں سے مضبوط تعلقات قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
ہمارے پروگراموں میں شیوننگ اسکالر شپس اور فیلو شپس اور مارشل اسکالر شپس شامل ہیں۔
شیوننگ پروگرام
شیوننگ پروگرام 130 سے زائد ممالک سے ( امریکا اور یورپی یونین شامل نہیں ہیں) پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور ریسرچ کنندگان کوبرطانیہ میں اعلی تعلیمی اداروں میں تقریبا 1000 اسکالر شپس فراہم کرتا ہے۔زیادہ تر اسکالرز ایک سالہ ماسٹر ڈگری کرتے ہیں لیکن کچھ طلبہ شارٹ کورسز اور کچھ پی ایچ ڈی تک سلسلہ جاری رکھتےہیں جس کے لئے انہیں دوسرے ذرائع سے مالی مدد مل جاتی ہے۔
شیوننگ اسکالرز
یہ وہ افراد ہیں جن میں سیاست، بزنس، میڈیا، شہری معاشرے، مذہب اور علمی شعبے میں مستقبل کے قائد بننے کی صلاحیت نظر آتی ہے۔
ان اسکالر شپس کی فنڈنگ زیادہ تر وزارت خارجہ کرتی ہے اور اس اسکیم کو اعلی تعلیمی ادارے، برطانیہ کی دوسری تنظیمیں اور کئی بیرون ملک اسپانسرز بھی جن میں سرکاری اور نجی شعبے کے ادارے شامل ہیں اور جن کے ساتھ ہمارے(یا ہماری ایمبیسیوں اور ہائی کمیشنوں کے) ساتھ شراکت کے معاہدے ہیں، کثیر عطیات فراہم کرتے ہیں۔
پروگرام کا نام فارن سکریٹری کی کینٹ میں سرکاری رہائش گاہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ اسکالر شپ پروگرام 1983 میں جاری ہوا اور اب شیوننگ المنائی نیٹ ورک میں 32000 افراد شامل ہیں۔
شیوننگ فیلوز
شیوننگ پروگرام 200 فیلو شپس بھی فراہم کرتا ہےجو اپنے کیرئیر کے درمیانی عرصے میں ان پیشہ ور افراد کو 12 ہفتوں کے کورس کے لئے دی جاتی ہیں جو پہلے ہی ہمارے پالیسی اہداف سے متعلق امورپر کام کر رہے ہوتےہیں۔
اس وڈیو میں موجودہ فیلوز سے اس اسکیم کے بارے میں سنئیے
مارشل اسکالر شپس
ہر سال تقریبا 40 مارشل اسکالر شپس دئیے جاتے ہیں جو برطانیہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں کسی بھی شعبے میں دوسالہ کورس کے لئے ہوتے ہیں۔مستقبل کے متوقع رہنماؤں کو برطانوی معاشرے کی دیرپا افہام و تفہیم کے ساتھ مارشل اسکالرزامریکا اور برطانیہ کے درمیان اچھے تعلقات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
یہ اسکالر شپس 1953 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیر نو میں امریکا کے تعاون کے مارشل پلان کے اعتراف میں شروع کئے گئے تھے۔ان اسکالر شپس کا انتظام مارشل ایڈ کمیموریشن کمیشن کرتا ہے ( یہ برطانوی وزارت خارجہ کے تحت ایک ایگزیکیٹو این ڈی بی پی ہے) اس کے فنڈز زیادہ تر وزارت خارجہ کی جانب سے آتے ہیں اور اسے کمیشن اور برطانیہ کےاعلی تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت کے کئی معاہدوں کے تحت تعاون بھی ملتا ہے