لندن 2010ء تک دو سال کی تیاری کے سلسلے میں ہم نے ’برطانیہ کو دیکھئے‘ کی سیریز کی مختصر فلمیں جاری کی ہیں۔ تازہ ترین فلم کاملہ بتمانغلیج کے بارے میں ہے جو خیراتی ادارے ’کڈز کمپنی‘ کی بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔
برطانیہ کی انتہائی ہمہ جہت مخیر رہنما کامیلہ بتمان غلیج نے اپنی ساری زندگی خطرات سے دوچار بچوں کے لیے وقف کردی۔ وہ ایران میں پیدا ہوئیں اور نوسال کی عمر میں برطانیہ آئیں اور عمر کی دوسری دہائی میں پہلا خیراتی ادارہ قائم کیا۔ عمر کی تیسری دہائی میں انہوں نے کڈز کمپنی قائم کی۔وہ اس کے غیر معمولی پھیلاؤ کو برطانیہ کے عوام کی فیاضی سے منسوب کرتی ہیں۔ اس بارے میں فلم کے ذریعے مزید جانئے۔
مختصر فلم ’برطانیہ کو دیکھئے‘ میں کیمیلا کڈز کمپنی کی تاریخ کے بارے میں بتاتی ہیں۔خیراتی سرگرمی کا آغاز عاجزانہ طور پرناکارہ ریلوے محرابوں کے تلے ایک عمارت میں ہوا ۔ یہ اب چھ ہزار رضاکاروں اور 12ملین پاؤنڈ کے بجٹ کے ساتھ ایک بڑی تنظیم بن چکی ہے جو لندن میں چودہ ہزار بچوں تک رسائی رکھتی ہے جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور وہ محروم علاقوں میں رہتے ہیں۔ بیس سے زائد سالوں سے ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے کام کرنے والی کیمیلا نے خطرات کا شکار بچوں تک خدمات پہنچانے کا ایک منفرد طریقہ تیار کیا ہے۔ فلم میں کیمیلا کو ساچی گیلری میں ایک نمائش میں دکھایا گیا ہے جہاں چند بچے کڈز کمپنی کی معاونت سے اپنے فن کے نمونوں کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ غیر معمولی بات ہے کہ یہ نمائش ایسی اعلی سطح کی گیلری میں ہورہی ہے۔ وہ اسے ’برطانوی معاشرے کے اعلی طبقے کے لوگوں کی بچوں کی فلاح سے دلچسپی کا ایک حیران کن ثبوت ‘ قرار دیتی ہیں۔ کیمیلا اپنی زبان کی لکنت کے بارے میں بھی بات کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کیسے انہوں نے لندن میں رہتے ہوئے اس کمزوری کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ برطانوی لوگوں نے ان کی رنگ دار شخصیت اور ظاہری ہیئت کو خوش آمدید کہا اور ’’یہ واضح طورپر برطانوی لوگوں کی عزت افزائی ہے جو وہ ان لوگوں کی کرتے ہیں جو مختلف نوعیت کے کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور یہی بات اس ملک کو رہنے کے لیے انتہائی موزوں جگہ بناتی ہے۔‘‘ کیمیلا نے ڈورسیٹ میں شربورن سکول میں تعلیم حاصل کی۔ پھر واروک یونیورسٹی میں تھیئٹر اور ڈرامے کے فن میں تعلیم حاصل کرنے کے لئےداخلہ لیا اور وہاں اول پوزیشن حاصل کی۔ برطانیہ اور اس سے باہر بھی وہ خطرات کا شکار بچوں کی مدد کے حوالے سے جانی جاتی ہیں اور کانفرنسوں میں باقاعدگی سے تقریریں کرتی اور رسالوں میں چھپتی ہیں۔ ان کی کتاب Shattered Lives : Children living with Courage and Dignity‘ مئی 2006 ءمیں شائع ہوئی۔ 2007 ءمیں کڈز کمپنی کو ’لبرٹی اینڈ جسٹس ہیومن رائٹس ایوارڈ‘ دیا گیا۔