09 Nov 2008
موسی قلعہ میں تعینات بر طانوی مشیر استحکام جیمز ڈونلی اپنے بلاگ میں افغانستان میں بر طانوی تعاون کے ایک دلچسپ پہلو کا احوال بتاتے ہیںموسی قلعہ میں تعینات بر طانوی مشیر استحکام جیمز ڈونلی اپنے بلاگ میں افغانستان میں بر طانوی تعاون کے ایک دلچسپ پہلو کا احوال بتاتے ہیں۔
موسی قلعہ میں خوش آمدید!موسی قلعہ افغانستان کے شمالی ہلمند صوبے میں واقع ہے اور میں یہاں تین ماہ سے بحیثیت مشیر استحکام مقیم ہوں اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب میں اتنا کچھ جان چکا ہوں کہ اپنے تجربات سے دوسروں کو اس بلاگ کے ذریعےمستفید کرسکوں۔۔گزشتہ دسمبر میں موسی قلعہ میں اس وقت گھمسان کی لڑائی ہوئی جب افغان سرکاری فوج نے طالبان سے اس قلعے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔اس میں ان کا ساتھ بر طانوی اور نیٹو فورسز نے دیا۔ موسی قلعہ کے دو مشیران استحکام بر طانوی فوج کے ساتھ رہتے اور انہی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔برطانوی فوج اس وقت رائل گورکھا رائفلز کی سیکنڈ بٹا لین کی زیر قیادت ہے جن کا کیمپ ٹاؤن سینٹر میں ہے۔400 فوجیوں کے اس کیمپ میں ہم ہی دوسویلین ہیں لیکن ہمیں سب کا تعاون حاصل ہے۔
مشیر استحکام کا عہدہ نسبتا نیا ہے(پچھلے سال ہی وجود میں آیاہے)اور یہ کثیر جہتی ہے۔میری مشاورت کا اہم پہلو موسی قلعہ کے ضلعی گورنر اور دوسرے مقامی افسران کو استحکام کے بارے میں مشورے دینا ہے۔گورنر ایک دلچسپ شخصیت ہیں جو ایک طویل عرصے سے موسی قلعہ کے علاقے میں قبائلی، فوجی اور روحانی قیادت فراہم کر رہے ہیں۔میرے دن کا بیشتر حصہ ان کے ساتھ مو سی قلعہ میں ایک موثر گورننس فراہم کرنے کے لئے کام کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ایک سابق فوجی ہونے کی وجہ سے وہ مدنی سیاست کے میدان میں نئے ہیں اس لئے انہیں کچھ رہنمائی کی ضرورت ہے۔میرا کام گورنر اور بر طانوی فوج کے درمیان رابطے کا بھی ہے۔
میں ابھی گورنر کو ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ پہنچا کے موسی قلعہ واپس آیا ہوں۔وہ وہاں اپنے صوبائی حکام اور ہم منصبوں سے میٹنگ کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنر کی غیر حاضری میں مجھے دوسرے معاملات پر اور دیگر افغان پارٹنروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل جائے گا۔ان میں بعض مسائل بڑے عجیب بھی ہوتے ہیں مثلا ہمارے الیکٹریشئن کورس کے ایک طالب علم کو شکایت ہے کہ اس کے استاد نے طلبہ کے کیک اور بسکٹ کھا لئے ہیں، دیہاتیوں کےایک وفد کو اپنے علاقے میں سیکیورٹی کے بارے میں تشویش ہے۔یہ دونوں مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ مقامی آبادی کو ہمارے پاس آنے میں کوئی خوف نہیں محسوس ہوتااور انہیں یہ بھی اعتماد ہوتا ہے کہ ہم ان کی بات سنیں گے۔