28 August 2008
برطانوی اسلام كی عکاسی پروگرام كے تحت چار ممتاز بر طانوی مسلمانوں نے 18 سے 23 اگست تک ا یتھیوپیا اور صومالی لینڈ کے علاقے ہرگیسا کا دورہ کیا
"برطانوی اسلام كی عکاسی " پروگرام كے تحت چار ممتاز بر طانوی مسلمانوں نے 18 سے 23 اگست تک ا یتھیوپیا اور صومالی لینڈ کے علاقے ہرگیسا کا دورہ کیا۔ دورے کا اصل مقصد یہ تھا کہ برطانیہ کے مسلمانوں اور ایتھیوپیا اور صومالیہ کے مسلمان رہنمائوں کے درمیان قریبی تعلق اور تعاون کی راہ نکالی جائے۔دورہ کرنے والے وفد نے برطانوی معاشرے کے تانے بانے میں مسلمانوں کے رول کا مظاہرہ کیا اور ان تمام منصوبوں اور کاموں کی اہمیت کو اجاگر کیا جو برطانوی تنظیمیں ان دونوں ملکوں میں انجام دے رہی ہیں۔اس دورے کا ایک اہم نتیجہ یہ نظر آیا کہ ایتھیوپیا اور صومالیہ کے مسلمانوں اور برطانوی مسلمانوں میں جو طبقہ انتہا پسند نظریات کا مخالف ہے وہ یک آواز ہوکر متحد ہوا۔
برطانوی وفد نے ایتھیوپیا اور ہرگیسا دونوں علاقوں میں طلبا سے ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤںسے ملاقاتیں کیں ۔ وفد کے ایک رکن شیخ بابیکر احمد بایبکر نے ایتھیوپیا کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کی اور دس ہزار مسلمانوں نے ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ دوسرے قابل ذکر واقعات میں وفد سے صومالی لینڈ کے صدر کی ملاقات کے علاوہ اسلام کے بارے میں سوال اور جواب کی دو نشستیں تھیں جن میں صومالیہ اور ایتھیوپیا کے نوجوانوں نے گرمجوشی سے حصہ لیا۔
وفد نے ان دوروں کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
"ہم ایتھیوپیا اور ہرگیسا یہ مقصد لے کر گئے تھے کہ آپس کے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے اور خاص طور سے برطانوی مسلمانوں ور ان دونوں ملکوں کے مسلمانوں کے درمیان ایک طرح کی شراکت قائم کریں گے۔ایتھیوپیا اور ہرگیسا کی ممتاز شخصیتوں سے بہت صاف دلی کے ساتھ ، کسی تکلف کے بغیر تبادلہ خیال ہوا جن میں مسلمان دانشور ، کمیونٹی کے نمائندے، تعلیمی شعبے کے ممتار افراد اور خواتین رہنماشامل تھیں۔
ان سب کے ساتھ ہم نے آج کے برطانوی مسلمانوں کے تجربات کا احوال بیان کیااور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جو برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کے رول کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ہم نے خود بھی ایتھیوپیا اور صومالیہ کے میزبانوں کے تجربات سے بہت سے باتیں سیکھیں۔ہمیں اس بات پر فخر تھا کہ ہم برطانیہ میں رہنے والے ہر رنگ و نسل کے مسلمانوں کی نمائندگی کررہے تھے۔٬
ایڈیٹروں کے لئے نوٹ:
1۔ وفد میں یہ چار اصحاب شامل تھے: فواد نہدی ﴿صحافی﴾، شیخ بابیکر احمد بابیکر﴿ماہر تعلیم﴾، سبین ملک ﴿کمیونٹی میں رابطے کی ماہر﴾: حبیب ملک﴿اسلامک ریلیف﴾۔
2۔ برطانوی مسلمانوں کی عکاسی وہ پروگرام ہے جس کے تحت برطانوی مسلمانوں کے وفود ان ملکوں کے دوروں پر جاتے ہیں جہاں مسلمانوںکی اکثریت ہے یا خاصی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان دورں کے لئے دفتر خارجہ ﴿ایف سی او﴾ سہولت فراہم کرتا ہے۔دوروں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آ ج کے برطانیہ میں رہنے والے مسلمان کی حیثیت میں وہ اپنے تجربات سے دوسروں کو آگاہ کریںاور مختلف سیاسی، دینی، اور سماجی گروپوں اور شخصیتوں سے تبادلہ خیال اور گفت و شنید کا سلسلہ قائم کریں۔اب تک مشرق وسطیٰ، ایشیااورافریقہ کے بہت سے ملکوں میں پچیس وفود دورے کر چکے ہیں جن میں 70 سے زیادہ مندوب شامل تھے۔
3۔ ان وفود کے ارکان برطانوی حکومت کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ برطانیہ اور اپنی مسلمان کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہیں مکمل آزادی ہے کہ دورے میں اپنے ذاتی خیالات اور رائے کا اظہار کریں۔ایف سی اواور برطانوی سفارت خانے ان پروگراموں کا انتظام کرتے ہیں تاکہ وفد کے ارکان جس ملک کے دورے پر جائیں وہاں صاحب رائے شخصیتوں سے اور اس ملک کے نوجوانوں سے مل سکیں۔ مثال کے طور پر یونیورسٹیوں کے طلبا، کمیونٹی لیڈر، سول سوسائٹی کے گروپ وغیرہ۔ یہ وفد جن گروپوں کی نمائندگی کرتے ہیں وہ کسی بھی صورت میں برطانوی حکومت سے منسلک نہیں ہوتے ۔ یہ لوگ ان دوروں کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنا وقت دیتے ہیں۔