Advanced search
image

غزہ کی صورتحال پر ڈیوڈ ملی بینڈ کا بی بی سی انٹرویو

30 Dec 2008

غزہ کی صورتحال پر ڈیوڈ ملی بینڈ نے بی بی سی کوانٹرویو میں موجودہ بحران کے مضمرات اور ایک پرامن سیاسی حل کی اہمیت کے بارے میں بات کی

 

ڈیوڈ ملی بینڈ

میں سمجھتا ہوں کہ فوری ترجیحات واضح ہیں، سب سے پہلی ترجیح فوری جنگ بندی، دوسری انسانی امداد ، خوراک، ایندھن اور دواؤں کی فراہمی کی تجدید تاکہ موجودہ حقیقی بحران سے نمٹا جاسکے اور تیسری اور اہم سیاسی عمل کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔ کیونکہ جو بحران ہم غزہ میں دیکھ رہے ہیں یعنی اسرائیل پر راکٹوں سے حملے اور اسرائیل کی جوابی کارروائی، وہ بالاخر مشرق وسطی میں دوریاستی حل کے سیاسی محرک کی کمزوری اورسست روی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ محرک فلسطینیوں کے لئے ایک ریاست اور اسرائیل کے تحفظ کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

 

 انٹرویو کنندہ

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد جو راکٹو ں کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کے مقابلے میں بہت غیر متناسب ہے، لیکن اسرائیل کا موقف ہےکہ انہیں راکٹوں کے جن حملوں کا سامناہے اس سے انہیں غزہ پر اس طرح بمباری کا جواز مل جاتا ہے۔کیا ایک غلط کاری دوسری کو جائز بنا سکتی ہے؟

 

 ڈیوڈ ملی بینڈ

 اس میں کوئی شک نہیں کہ بے گناہ جانوں کا ضیاع جس میں بچے، شہری اور عورتیں بھی شامل ہیں، ناقابل بر داشت ہےاور میں سمجھتا ہوں کہ اسی وجہ سے فوری جنگ بندی بہت اہمیت رکھتی ہے۔  کیونکہ اس مسئلے کا حل فوجی کارروائی نہیں ہے۔اس کا حل صرف سیاسی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین میں ایک مضبوط ساجھے دار میسر ہو اور اسے عرب ممالک کی قوی حمایت حاصل ہو۔اسرائیل کے لئے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کے سلسلے میں اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے بلکہ یہ بھی ضمانت دے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے باب میں روڈ میپ کے معاہدے کی پیش رفت میں وہ اپنا کردار ادا کرے گا۔

 

 انٹرویو کنندہ

سیاسی تصفیے کے امکانات تو اس وقت بہت کم نظر آتے ہیں نا؟

 

ڈیوڈ ملی بینڈ

میرے خیال میں زیادہ خطرہ اس بات کا ہے کہ ہر جانب کے معتدل رہنما جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں اور بائیس عرب ریاستیں الگ تھلگ نہ ہوجا ئیں اور جو انتہا پسندی کی تبلیغ کرتے ہیں جو متشدد حل کا پر چار کرتے ہیں وہ لوگوں کو اپنے نظریے کا حامی  نہ بنا لیں ۔اسی لئے یہ بہت اہم ہے کہ ہم نہ صرف جنگ بندی اور انسانی امداد پر قائم رہیں بلکہ سیاسی تصور کو بھی متحرک رکھیں۔کیونکہ آخر کار یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے فلسطینیوں کے عدم انصاف کے احساس اور اسرائیل کے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

 

 انٹرویو کنندہ

تو کیاآپ کا اسرائیل کے لئےپیغام یہ ہے کہ اس قسم کے بھاری فوجی حملے کارآمد نہیں ہیں؟

 

 ڈیوڈ ملی بینڈ

میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل کے لئے پیغام یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی ملک گزشتہ ہفتے کی طرح تین سو راکٹوں اور تین ہفتوں میں نو سو راکٹوں کا سامنا کیوں کرے۔ لیکن ہر ریاست کا یہ یاد رکھنابھی اتنا ہی اہم ہے کہ تزویری مقصد ایسا حل ہے جو پائیدار ہو اور پائیدار حل سیاسی حل ہی ہوگا۔   اس کا مطلب اسرائیل کی بھاری ذمے داری، فلسطینیوں  کی بھاری ذمے داری  کہ ان کی قیادت متحد رہے بلکہ عرب ریاستوں کی بھی بھاری ذمے داری ہے کہ وہ اپنے کچھ عوامی حلقوں کی انتہاپسندی پر کنٹرول کریں اور انکاری اور انتہاپسند گروپوں کو تعاون کی فراہمی کا سلسلہ بند کریں۔

 

انٹرویو کنندہ

کچھ عناصر اسے اسرائیل کے لئے آخری موقع قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ بش انتظامیہ کے آخری ایام ہیں۔ کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں؟کہ یہ حملہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکی انتظامیہ اس کے خلاف کوئی قوی کارروائی نہیں کرے گی اور وہ غزہ کے مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ہرممکن موقع استعمال کرسکتا ہے؟

 

ڈیوڈ ملی بینڈ

میں سمجھتا ہوں کہ غزہ کا زخم خراب ہوتا رہا ہے۔ یہ زخم بگڑتا رہا جبکہ  سیاسی مذاکرات سست رفتاری سے آگے بڑھے اور ایک اعتبار سےغزہ میں بحران اور سیاسی مذاکرات کے درمیان ایک دوڑ ہوتی رہی۔ المیہ یہ ہے کہ غردہ ، غزہ میں یہ بحران ایسے وقت ابھرا ہے جب کہ سیاسی عمل کے حقیقی نتائج اسرائیلیوں یا فلسطینیوں کسی کے لئےبھی سامنے نہیں آپائے ہیں۔ مسئلے کی اصلیت یہ ہے۔

 

انٹرویو کنندہ

کیا سیاسی حل اب ممکن ہے یا مزید مشکل ہو گیا ہے؟

 

ڈیوڈ ملی بینڈ

میں سمجھتا ہوں کہ آج یہ، یوں کہئیے کہ ،ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے لیکن اب یہ مزید عجلت کا متقاضی ہے اور اسی لئے دنیا بھر میں سفارتکار ٹیلی فون لائنوں کو کھلا رکھنے ، میٹنگیں جاری رکھنے اور موجودہ قیمتی روابط کو ضائع نہ ہونے دینےکی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو اسرائیل کے تحفظ یا فلسطینیوں کے لئے انصاف یا دونوں کی فکر ہے تو آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایک جامع حل ہے اور اس موقع پر بالخصوص اس کا زندہ رکھنا بہت مشکل ہے لیکن یہ بھی اہم ہے کہ اس کا راستہ بالکل ہی بند نہ ہوجائے۔

 

مشرق وسطی امن عمل  

 

 

غزہ کی صورتحال پر فارن سکریٹری کا تبصرہ

 


Search the news archive


Share this with: