09 November 2009
گزشتہ ہفتے ہلمند کے آئیساف ( انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس) بیس میں ایک غیر معمولی وفد کی آمد ہوئیگزشتہ ہفتے ہلمند کے آئیساف ( انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس) بیس میں ایک غیر معمولی وفد کی آمد ہوئی۔ یہ کوئی وزرا یا اہلکاروں کا وفد نہیں تھا بلکہ ممتاز برطانوی مسلماںوں کا گروپ تھا جس میں برطانوی افغان شامل تھے۔
اس وفد کا مشن سادہ تھا، ان الزامات کا براہ راست سامنا کرنا کہ افغانستان میں برطانیہ کی کارروائی اسلا م مخالف جذبات کے تحت کی جارہی ہے۔ ہلمند کے مرکزی اضلاعی مراکز کے باشندے برطانوی عوام سے مانوس ہیں لیکن برطانیہ کے بارے میں ان کے تاثرات اکثر طالبان کے اس پروپیگنڈے کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ برطانیہ ایک اسلام مخالف معاشرہ ہے اور یہ بھی کہ برطانوی مسلمان نام کی کسی ہستی کا وجود نہیں۔
اس اعتبار سے برطانوی وزارت خارجہ کی اسپانسر شپ میں برطانوی مسلمانوں کے اس چار رکنی وفد نےافغانستان میں چند بد گمانیوں کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیاہے۔ بر طانیہ کے معاشرے کے مختلف شعبوں، سیاست، کھیل اور صحافت سے لے کر برطانیہ کی 1400 مساجد کی صورت میں مسلمانوں کے فعال کردار پر بات چیت کے ذریعے اس وفد نے ان بدگمانیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جو بہت سے عام افغانوں کے ذہن میں برطانیہ اور اسلام کے باب میں ہمارے رویوں کی بابت پائی جاتی ہیں۔
وفد میں چار ممتاز برطانوی مسلمان تھے جن میں برطانیہ کےتین نامور اسلامی اسکالر ہیں:
شیخ غلام ربانی الافغانی جو پشتون ہیں اور فیضان اسلام کے بانی اور صدر ہیں اور 400 سے زائد مساجد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اردو، عربی ، فارسی ، پنجابی اور انگریزی میں مہارت کے علاوہ پشتو پر عبور کی وجہ سے وفد کو غیر ہمدردانہ رویہ رکھنے والے مزیدعلما تک پہنچنے میں آسانی ہوئی اور وہ ہلمند کے قابل احترام مولویوں سے دینی مباحث کر سکے۔
مولانا محمد مشفق الدین ایک برطانوی مسلمان ماہر تعلیم ہیں جو ایک نوجوان اسکالر بننے کی راہ پر ہیں۔انہوں نے برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں(بشمول مدرسوں اور یونیورسٹیوں) میں تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ ابراہیم کالج کے بانی ہیں جو نوجوان مسلمانوں کے معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔
اسکائی ٹیلیویژن پر ایک اںٹرویو میں انہوں نے کہا کہ" ہم لوگوں کو ایک پیغام دے رہے ہیں : برطانیہ میں ایسے مسلمان موجود ہیں جو افغان عوام کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم یہاں سے واپس یہ پیغام لے کر جائیں گے کہ برطانیہ میں افغانستان کے بارے میں کہانی کا ایک ہی رخ پایا جاتا ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہاں کے عوام کی زندگی میں تبدیلی لارہے ہیں"۔
امام عرفان چشتی ایم بی ای۔ 1995 میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اور روایتی اسلامی سائنسی علوم اور عربی زبان کے سات سالہ کورس کے بعد انہوں نے اپنے والد مفتی منیر الزماں چشتی سے گھر پر روایتی اسلامی تعلیم حاصل کی ۔ جامعہ الکرم کے بعد وہ مشہور عالم مصری ادارے جامعہ الازہر میں اسلامی دینیات میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔وہ 2001 میں برطانیہ واپس آئے جہاں انہوں نے مانچسٹر یونیورسٹی سے 2003 میں اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا ۔حال ہی میں انہیں 'راچڈیل برا کے سرکاری چیپلین' کے منفرد عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔
فقیر میوند۔دری بولتے ہیں۔ وہ آٹھ سال پہلے ایک افغان پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ آئے اور یہاں کے افغان باشندوں میں ممتاز مقام بنالیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا میں تعلیم حاصل کی لیکن طالبان اور مجاہدین کے بڑھتے ہوئے اثر سے یہ پیشہ خطرناک ہوگیا۔ برطانیہ میں آکر وہ لندن کے مختلف ثقافتی مظاہر سے روشناس ہوئے اور انہوں نے ایک ریفیوج ٹی وی کا خیال پیش کیا تاکہ دنیا بھر سے آئے لوگوں کو ایک ساتھ کا م کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ فقیر میوند نے کافی تحقیق کی اور محسوس کیا کہ پناہ گزینوں کی ضروریات پر پروگراموں کی شدید ضرورت ہے اور انہوں نے ایک غیر مذہبی، غیر سیاسی ٹیلیویژن اسٹیشن قائم کیا جو ریفیوج ٹیلیویژن کہلاتا ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا واحدنشریاتی ادارہ ہے-اس کے پروگراموں میں خبروں، تفریحی ، تعلیمی پروگراموں اور فلموں کے ذریعے ثقافتی رنگارنگی کی تصویر کشی کی جاتی ہے تاکہ ایک روادار معاشرے کو فروغ دیا جاسکے۔
یہ وفدوزارت خارجہ کے ایک وسیع ترپروگرام" برطانوی مسلمانوں کی عکاسی" کا حصہ ہے۔ برطانوی مسلمانوں پر مشتمل ایسے وفود 20 سے زائد مسلم اکثریتی ملکوں میں جا چکے ہیں اور ان کا مقصد برطانیہ اور اسلام اور برطانیہ کے عالمی کردار کے بارے میں پھیلی بدگمانیوں سے براہ راست نمٹنا تھا۔ہ دورے جو صومالیہ ، ترکی سے لے کر انڈونیشیا، دارفور اور ایران گئے ہیں ، ممتاز برطانوی مسلمانوں کو بھی موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ بیرون ملک برطانیہ کی کارکردگی کا بذات خود مشاہدہ کر سکیں اور برطانوی خارجہ پالیسی کے بارے میں ان چند مفروضوں کا تدارک کر سکیں جن کی آڑ لے کر نوجوان برطانوی مسلمانوں کو انتہا پسند بنایا جاتا ہے۔
افغانستان میں وفد نے قبائلی رہنماؤں، مذہبی علما سے ملاقاتیں کیں اور ناد علی میں پوست کی پیداوار میں کمی کے لئے افغان حکومت کے متبادل ذرائع پیداوار کے منصوبوں میں برطانیہ کی امداد کا مشاہدہ کیا۔ وفد نے افغان کسانوں اور قبائلی عمائدین کو بتایا کہ پوست کی پیداوار کے نتیجے میں لندن اور برمنگھم کی سڑکوں پر ہیروئن اور دیگر منشیات سے کتنی تباہی پھیلتی ہے اور برطانیہ کی جیلوں میں برطانوی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
وفد نے طالبان کے پیدا کردہ خوف اور تباہی کو بھی دیکھا خاص طور پر لشکر گاہ میں ایک مسجد پر خودکش بم دھماکے کی تباہی کا مشاہدہ کیا جس کے نتیجے میں کئی نمازی ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ یہ برطانوی شہریوں اور ساتھی مسلمانوں کے لئے افغان عوام اور افغانستان میں موجود برطانوی فوجیوں کی حمایت اور ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی ایک موقع تھا۔