20 Oct 2009
وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 20 اکتوبر کو حالیہ افغان انتخابات کے بارے میں صدر حامد کرزائی کے دوسرے راونڈ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہےوزیر اعظم گورڈن براؤن نے 20 اکتوبر کو حالیہ افغان انتخابات کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے
"صدر حامدکرزائی نے افغان عوام کے نام آج ایک اہم بیان جاری کیا ہے ۔
یہ لازمی ہے کہ نئی افغان حکومت عوام کی نظر میں جائز ہو۔
میں نے بار بار یہ کہا ہے کہ انتخابات کے عمل کو اپنے حساب سے چلنا چاہئیے اور اس سے متعلق تمام عناصر کو اس عمل کا احترام کرنا چاہئیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور ہمیں ان سے سبق سیکھنا ہوگا۔
صدر حامدکرزائی نے آج یہ واضح کیا ہے کہ آئینی ضابطے پر عمل کیا جائےگا اور اگر ضرورت ہوئی تو دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔ میں ان کے اس مدبرانہ بیان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور عالمی برادری بھی میرے ساتھ ان کی اس قائدانہ صلاحیت کی ستائش کرے گی جس کا مظاہرہ انہوں نے آج کیا ہے۔
میں صدر حامد کرزائی کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہیں اپنی قوم اور تمام نسلی گروپوں سے مضبوط حمایت ملی ہے اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو اعلی درجے کی حمایت ملنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔
میں افغان عوام کو ان کے صبر اور لچک پر مبارکباد دینا چاہونگا جو انہوں نے طویل انتخابی عمل کے دوران دکھائی۔اب افغان معاشرے کے تمام عناصر کے لئے ترجیح یہ ہونی چاہئیے کہ وہ اکھٹا ہوکر جمہوری عمل کے سلامتی کے ساتھ جاری رہنے کو یقینی بنائیں۔
میں نے صدر حامد کرزائی کو یقین دلایا تھا کہ اس عمل کے دوران ان کو اور ان کی حکومت کو برطانیہ اور عالمی برادری کی مکمل حمایت حاصل رہے گی۔ بین الاقوامی فورسز افغان قومی سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر تمام افغانوں کو دوسرے راونڈ میں، اگر اگلا قدم یہی ہے، ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرنے میں مدد دیں گی۔
جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ افغانستان میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ ہماری حکمت عملی کی بنیاد ایک مستحکم افغان حکومت ہے جو اپنے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی اہلیت کا مظاہرہ کرے۔یہ انتخابات ان کے لئے ایک ایسی قیادت منتخب کرنے کا ایک موقع ہیں"۔