Advanced search
image

افغانستان اور پاکستان کے بارے میں دارالعوام کی رپورٹ شائع ہوگئی

02 Oct 2009

برطانیہ کے دارالعوام کی خارجہ امور کمیٹی کی افغانستان اور پاکستان کے بارے میں آٹھویں رپورٹ پرجو 2 اکتوبر کو شائع کی گئی ہے، حکومت نے تبصرہ کیا ہے۔

برطانیہ کے دارالعوام کی خارجہ امور کمیٹی کی افغانستان اور پاکستان کے بارے میں آٹھویں رپورٹ پرجو 2 اکتوبر کو شائع کی گئی ہے، حکومت نے تبصرہ کیا ہے۔

فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے رپورٹ پر حکومت کی جانب سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ

" ہم کمیٹی کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان بدستور حکومت برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح کے حامل ہیں۔یہ امور ہر ممکن حد تک وسیع تر رابطے کے مستحق ہیں لہذا کمیٹی کی رپورٹ اس بحث میں مفید اضافہ کرے گی"۔

برطانیہ کی افغانستان میں موجودگی اس امر کی ضمانت کے لئے ہے کہ القاعدہ دوبارہ کبھی اس خطے کو دنیا بھر میں دہشت گردی کے حملوں کے لئے اپنا اڈا نہ بنا سکے۔ یہ برطانیہ کے مفادات کے لئے ناگزیر ہے کہ افغانستان ایک مستحکم اور محفوظ ملک ہو اور یہ بھی کہ سرحد کے پاکستانی جانب بھی دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ نہ مل سکے۔

اسی لئے ہم پاکستان کی ان کوششوں میں اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو وہ خود کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے کررہا ہےجن میں متشدد انتہاپسندی کا مشترکہ خطرہ بھی شامل ہے۔ہم پاکستانی عوام کے ساتھ اپنی پارٹنر شپ پر بدستور قائم ہیں جو خاص طور پر ہمارے امدادی پروگرام کے ذریعے کی جارہی ہے۔

جیسا کہ وزیر اعظم گورڈن براؤن نے 4 ستمبر کو کہا تھا کہ سلامتی سب سے پہلے ہونی چاہئیے، لیکن افغانستان کے معاملات کا کوئی خالص فوجی حل نہیں ہے۔ پائیدار استحکام کے حصول کے لئے ہماری فوجی کوششوں میں ترقیاتی کام اور ایک جامع سیاسی حکمت عمل کا شامل رہنا ضروری ہے۔

ہم اپنی حکمت عملی پر مسلسل نظر ثانی کرتے رہتے ہیں لیکن جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس حکمت عملی کو وسیع تر عالمی حکمت عملی کے تناظر میں سمجھا جانا چاہئیے۔

 

پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت اور افغانستان کے حوالے سے اس کا کردار

ہمارے تجزیے میں پاکستان کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ اس کی نصف خود مختار سرحدیں  انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں جو افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ عالمی دہشت گردی کے سلسلے اس کی سرحدوں کے اندر جا ملتے ہیں۔

حکومت کو کمیٹی کے ان خدشات سے اتفاق ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان کے مراکز کو افغانستان میں پر تشدد حملوں کی تیاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور عالمی دہشت گردوں کو پاکستان کے سرحدی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہ مل جاتی ہے۔افغانستان اور پاکستان میں ہماری حکمت عملی کا بنیادی محرک پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے عالمی تحفظ، علاقائی استحکام اور خود پاکستانی ریاست کو لاحق خطرات کو دور کرنا ہے۔

ہم افغان اور پاکستان حکومت کے ساتھ مل کر سرحدی سلامتی کو موثر تر کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔اور سرحدی تعاون مراکز کی ترقی میں مدد دے رہے ہیں جوآئیساف اور افغانستان و پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکے درمیان مربوط عملی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔دفاعی رابطے کے ہمارے وسیع تر پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ہم پاکستانی فوج کی شمال مغربی سرحدی علاقے میں متشدد انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کی اہلیت میں اضافے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ہم نے شمال مغربی صوبہ سرحد پولیس کی اہلیت میں اضافے کے لئے بھی ایک ملین پاونڈ کا پروگرام فراہم کیا ہے۔ سرحد کے دوسری جانب بر طانیہ افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کی تربیت میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے جن کی تعداد سرحدی علاقوں میں بڑھائی جارہی ہے۔

ہم اتفاق کرتے ہیں کہ متشدد انتہا پسندی کی صرف علامات پر ہی نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بھی توجہ دینا لازمی ہے۔ ناقص حکمرانی، غربت اور سہولیات تک عدم رسائی سے شکایات پیدا ہوتی ہیں جو دیگر عناصر کے ساتھ مل کر کمیونٹیز کو انتہاپسندوں کے پیغام کا ہدف بنادیتی ہیں۔ ہمارےانسداد دہشت گردی پروگرام میں میڈیا، شہری معاشرے اور دیگر موثر قوتوں کے ساتھ مل کر بھرپور انداز میں کام کرنا شامل ہے تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ ان کو کس حد تک اس کا ادراک ہے، پیغامات کی تشکیل ہو سکے اور متشدد انتہا پسندوں کے خلاف مزاحمت تشکیل دی جاسکے۔ برطانیہ 2009 سے 2013 کے دوران سرحدی علاقہ جات سمیت پاکستان کو 665 ملین پاونڈ کی امداددے رہا ہے ۔ 2011 تک پاکستان دنیا میں برطانیہ سے ترقیاتی امداد پانے والا بھارت کے بعد دوسرا بڑا ملک بن جائےگا۔

جوہری ٹیکنالوجی کے تحفظ کےبارے میں ہماری تحقیقات کے دوران لگائے گئے الزامات اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور القاعدہ کےدرمیاں ممکنہ تصادم کے دعوے ایک سنگین خدشہ ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ اس رپورٹ کے جواب میں حکومت ان الزامات کے اور خطرے کی شدت کےبارے میں تجزیہ کرے۔پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی کی سلامتی واضح طور پر ناگزیر اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان عالمی طور پر تسلیم شدہ کنٹرول کو بدستور یقینی بنائے رکھنے کے لئے کام کررہا ہے۔ مئی 2009 میں پاکستان کے اسٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن نے نئے لائسنسنگ اور انفورسمنٹ ضابطے جاری کئے تاکہ جوہری ٹیکنالوجی، مواد اور آلات کی برآمدات کو مزید سخت تر کیا جاسکے۔حکومت کا تجزیہ ہے کہ سر دست اس خدشے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی متشدد انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیگی۔ آئی ایس آئی اور القاعدہ کے درمیاں تصادم کی بھی کوئی شہادت نہیں ملی ہے۔ہم بدستور صورتحال کی کڑی نگرانی کرتے رہیں گے کیونکہ جوہری مواد اور علم کے غیر ریاستی ذرائع سے پھیلاو کو روکنا ہمارے مفاد میں ہے۔

عسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کی حالیہ کارروائی

ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستانی حکومت کے لیے چند مدرسوں کے اس کردار سے نمٹنا بہت ضروری ہے جو وہ لوگوں کو بھرتی کرنے اور پھر ان کو انتہا پسند بنانے کے حوالے سے ادا کررہے ہیں۔ ہم تجویز دیتے ہیں کہ برطانوی حکومت اس رپورٹ کے جوا ب میں یہ بھی واضح کرے کہ اس ایشو کے حوالے سے اس کی پاکستان کی حکومت کے ساتھ کیا بات ہوچکی ہے اور کیا اس نے انتہا پسند مدرسوں کومالی امداد دینے کے الزام کے حوالے سے سعودی عرب کی انتظامیہ سے بات ہے؟ حکومت کمیٹی کے اس مؤقف سے اتفاق کرتی ہے کہ حکومت پاکستان کو چند مدرسوں کے اس کردار کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں جو وہ لوگوں کی بھرتی اور انتہاپسندی کو پھیلانے کے سلسلے میں ادا کررہے ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ اور پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے 2جولائی 2009کے اجلاس میں برطانیہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ انتہا پسندی کے پس پشت کام کرنے والے عناصر سے متعلق تحقیق اور مدرسہ کے قواعد و ضوابط اور نصاب کی اصلاح سے متعلق معلومات پاکستان تک بھی پہنچائے گا۔ برٹش ہائی کمیشن کے افسران اور وزارت داخلہ کے درمیان ہونے والے باضابطہ مذاکرات میں مدرسوں سے متعلق قواعد و ضوابط بھی شامل ہیں۔

غربت اور سماج بدری سے نمٹنے کی صورت میں ہی ناراضگی کی اصل وجوہات کو ختم کیا جا سکتا ہے جو عدم تحفظ اور انتہا پسندی کے فروغ میں کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی ناخواندگی اور ایسے نوجوانوں کی بڑی تعداد جو معاشی دنیا میں شامل ہونے کے لیے پوری طرح سے لیس نہیں ہیں، اس غربت اور سماج بدری میں اضافہ کرتی ہے۔اداروں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو تعلیمی معیار کو بڑھانے کی ذمہ دار ہے۔ ہم جانتے ہیں مدرسوں کا اکثر ایک اہم سماجی کردار ہوتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ وہ اعلی معیار کی تعلیم فراہم کریں۔ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ نصاب، پڑھانے کے طریقہ کار اور نصابی کتب کے شعبوں سے متعلق تعلیمی اصلاح کے عمل میں مدرسوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ممکن بنائی جائے۔چیلنج یہ ہے کہ مدرسوں کی منفرد شناخت اور کردار کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ایک بہتر دھارے میں لایا جائے۔ ہماری اصل کوشش یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے حکومتی اسکولوں کی ترقی میں مدد فراہم کریں جو بچوں اور ان کے والدین کے لیے زیادہ قابل توجہ ہیں اور یوں مدرسے ان کے لیے انتخاب کا واحد راستہ نہ رہ جائیں۔

            برٹش کونسل کے ایک پروگرام میں نوجوانوں سے متعلق مختلف پراجیکٹس شامل ہیں جن کا مقصد پاکستان بھر میں تعلیم کے معیار کو بہتر بناناہے۔ اس بہتری سے مراد نصاب میں تبدیلی، بین الثقافتی مکالمہ، فعال شہریت، کمیونٹی ہم آہنگی اور روزگار کی اہلیتوں کو ممکن بنانا ہے۔ برٹش کونسل کے باہم منسلک عالمی کلاس رومز پراجیکٹس پاکستان کے تعلیمی نظام کو برطانوی ا سکولوں سے منسلک کرکے مقامی اسکولوں کی کارکردگی کو بہتر بناتے اور تعلیمی نظام میں بین الاقوامی جہت کا اضافہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کمیونٹی اور سماج کے مسائل سے نمٹنے کے عمل میں اسکولوں کی شمولیت بڑھاتے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ میں 200اسکول کوشش کررہے ہیں کہ سرحدوں کے امتیاز کو ختم کیا جائے اور مدرسہ کی تعلیم کو بنیادی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے۔ برٹش کونسل، صوبہ سرحد میں 107مدرسوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے جب کہ یہ مدرسے برطانیہ کی مالی مدد سے جاری کیے جانے والے استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں جیسے انگریزی زبان میں مہارت، کاروباری اہلیتیں اور بین الثقافتی مکالمہ، میں حصہ لیتے ہیں۔ اب تک مدرسوں کے کئی اساتذہ، منتظمین اور مسجدوں کے رہنمایہ تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ پیشہ وارانہ تربیت پاکستان میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور برٹش کونسل نوجوانوں اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کو حاصل مواقع میں اضافے کے لیے'ہنر برائے اہلیت روزگار'کے نام سے ایک تربیتی منصوبہ چلا رہی ہے جو روزگار سے جڑی ہوئی اہلیتوں میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے برٹش کونسل کا سعودی عرب کی انتظامیہ سے ڈائیلاگ بھی جاری ہے جس میں انتہا پسند تنظیموں کی مالی معاونت کے حوالے سے ہماری مشترکہ تشویش شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی انتظامیہ نے ایسی جامع تدابیر اختیار کی ہیں جن کا مقصد بیرون ملک بھیجی جانے والی مالی امداد کی حوصلہ شکنی ہے۔ غیر رسمی طور پر اکٹھے کیے جانے والے فنڈز کو روکنے کے ساتھ ساتھ سعودی انتظامیہ نے رقم کے بیرون ملک انتقال کے حوالے سے بھی سخت بندشیں اور انھیں رپورٹ کرنے کے نئے طریقہ کار لاگو کیے ہیں۔ لیکن نقد رقم کے غیر رسمی نیٹ ورک، دوسری بہت سی جگہوں کی طرح، یہاں بھی ابھی تک موجود ہیں۔ متعلقہ سعودی ادارے اس حوالے سے غیر ملکی پارٹنرز کے ساتھ تعاون کرنے میں فعال ہیں، خاص طور پر جہاں اس معاملے میں سعودی عرب کی شمولیت کا کوئی ثبوت ملے۔

ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کی جمہوری حکومت نے عسکریت پسند عناصر سے نمٹنے کے لئے حال ہی میں اہم اقدامات کیے ہیں جن کے لیے انھیں فوجی جوانوں کی شہادت کی صورت میں قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ پاکستان کی فوج کے اعلی افسران میں بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ عسکریت پسندی کا ازسر نو تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں یہ تشویش بھی ہے کہ کیا یہ بات فوج اور آئی ایس آئی میں کہیں اور بھی اسی طرح قابل عمل ہوگی۔ ہماری یہ رائے ہے کہ صدر زرداری کے حالیہ بیانات کہ ان کے خیال میں پاکستان کے لیے اصل خطرہ انڈیا نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، نہایت خوش آئند ہیں۔ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ اس بارے میں شکوک ابھی باقی ہیں کہ آیا پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کے پس پشت موجود بنیادی عوامل اس حد تک تبدیل ہوچکے ہیں کہ ان کی بنیاد پر افغانستان میں طویل المیعاد تحفظ اور استحکام کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔

پاکستان کی اس بات میں نہایت گہری دلچسپی ہے کہ عسکریت پسندوں کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیوں کہ یہ اس کی ریاست اور اس کے عوام کے تحفظ کے لیے ایک خطرہ ہے۔طالبان نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں شہری آبادیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تشددکیا، دھونس دھمکی دی اور خوف و ہراس پھیلایا۔ انھوں نے پاکستان میں قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی کوشش کی اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ان کی مرضی کے تابع ہوجائیں۔ اس فتنے کو ختم کرنے کی پاکستان کی کوششیں علاقائی سالمیت اور برطانوی تحفظ دونوں کے لیے ہی بہت اہم ہیں۔کیوں کہ اس سے علاقائی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ ہوجائے گی۔ سیکرٹری خارجہ نے ان کوششوں اور قربانیوں کو سراہا ہے جو پاکستان نے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے دیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

جیسا کہ پاکستان اور افغانستان سے متعلق برطانوی حکمت عملی سے واضح ہے کہ برطانیہ کی کوششوں کے لیے پاکستان کی امداد نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس سے افغانستان میں طویل المیعاد تحفظ اور استحکام ممکن ہوسکتا ہے۔ برطانیہ کی توجہ اس بات پر ہے کہ پاکستان کی حوصلہ افزائی اور معاونت کرے تاکہ افغانستان کے لیے براہ راست خطرے کا باعث بننے والے دہشت گردوں سمیت پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود تمام دہشت گرد گروپس سے نمٹا جائے۔ ہم نے اپنے یہ تحفظات اور توقعات پاکستان کی حکومت کو مسلسل پہنچائے ہیں۔ ایک مستحکم، خوش حال اور جمہوری افغانستان ہمارے مفاد میں ہے اور ہم اس مقصدکو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مسلسل کوشش جاری رکھیں گے۔

افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات

ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف موجود پختونوں کے عرصے سے موجود  خدشات اور ڈیورنڈ لائن ہی کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے تحفظات پر بات کی جائے تو اس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعاون کو بڑھایا جا سکتاہے اور سیاسی اختلافات کوکم کیا جا سکتا ہے اور یوں اس غربت اور کمزور اسلوب حکمرانی کی وجوہات ہی سے نہیں بلکہ ان کی علامات سے بھی نمٹا جا سکتا ہے جنھیں القاعدہ اور دوسرے عسکریت پسند گروپس نے حالیہ برسوں میں نہایت مؤثر انداز میں اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے۔ برطانیہ کے افغانستان اور پاکستان دونوں ہی ملکوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس علاقے سے برطانیہ کے تاریخی روابط (کہ یہاں ڈیونڈر لائن کو برطانوی کولونیل منتظمین نے ہی نافذ کیا تھا)کے پیش نظر ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں فریقوں کوہر طرح کی ضروری سفارتی یا عملی معاونت مہیا کرے تاکہ ڈیورنڈ لائن سے جڑے ہوئے مسئلہ پیدا کرنے والے امور سے نمٹنے کے لیے راستے نکالے جا سکیں۔ حکومت کمیٹی کے اس تجزیے سے متفق ہے کہ سرحد کے دونوں طرف موجود پختون آبادی کے مطالبات پر بات کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ برطانیہ کا کام نہیں ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متعلق معاملات کا کوئی حل تجویز کرے بلکہ دونوں فریقوں کو باہمی مذاکرات کے ذریعے کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہم افغانستان اورپاکستان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل تلاش کریں۔ ہم صدر کرزئی اور صدر زرداری دونوں ہی کی ایسی مثبت کاوشوں کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ اپنے مشترکہ چیلنجز، جن میں فسادیوں اور دہشت گردوں کی کارروائیاں، منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ ، بدعنوانی، انسانی حقوق کی پامالی اور محدود معاشی ذرائع شامل ہیں، سے نمٹنے کے لیے مل کر کوشش جاری رکھیں۔ برطانیہ ہروقت مدد کے لیے تیار ہے۔

ہم افغانستان اور پاکستان کی ان کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے جن کا مقصد مختلف سہولتوں کی فراہمی، تحفظ، بروقت اور شفاف انصاف تک رسائی ،اور جمہوری سیاسی عمل میں شمولیت کے ذریعے پختونوں پر یہ ظاہرکرتے ہوئے کہ منتخب شدہ حکومتوں کی شراکت اور معاونت سود مند ہوسکتی ہے، قبائلی پٹی میں موجود ایسے علاقوں پر حکومت کے کنٹرول کو بڑھانا ہے جو اب تک اس کنٹرول سے باہر رہے۔پاکستان میں، وزیر اعظم اور سیکرٹری خارجہ دونوں ہی نے حکومت پاکستان سے اس حوالے سے لابنگ کی ہے کہ فاٹا میں جامع اصلاحات نافذ کی جائیں۔ ہم صدر زرداری کے 13اگست کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کے مطابق مقامی سیاسی نمائندگی اور اسلوب حکمرانی کے انتظامات میں بہتری سمیت بنیادی سیاسی ریفارمز جلد ہی متعارف کیے جائیں گے۔

پاکستان میں مختلف ٹارگٹس پر امریکی حملے

ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ کے ٹارگٹس پر حملے کے لیے امریکی ڈرونز کا استعمال القاعدہ کے نیٹ ورک اور اس کی مختلف اہلیتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم ہمارا یہ خیال بھی ہے کہ امریکی حملوں سے پاکستانی عوام کے چند حصوں میں امریکہ کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے جو ان حملوں کو پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ ڈرون حملے ایک زیادہ رسک والی حکمت عملی ہے اور اسے ان چیلنجنگ مگر نہایت اہم مقاصد کے متبادل کی حیثیت اختیار نہیں کرنی چاہئے، جن میں جمہوری حکومت میں انسداد دہشت گردی کی اہلیت پیدا کرنا اور فوج کو اس لائق بنانا شامل ہےں کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کرسکے اور انتہا پسندوں کے خطرے سے نمٹ سکے۔

پاکستان میں مختلف اہداف پر حملہ کرنے کے لیے امریکی ڈرونز کے استعمال کے نتیجے میںان متشدد انتہاپسند گروپس کو بہت نقصان پہنچا ہے جو پاکستان، اس خطے اور بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان کی حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ تاہم ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اس پروگرام سے پاکستان میں امریکہ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ اس طرح کے حملوں سے انتہا پسندی کی حمایت کا جذبہ پیدا ہو۔

سب سے پہلی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک ایشو ہے جس پر امریکہ اور پاکستان کو بات کرنی چاہئے۔ امریکہ اور پاکستان اور برطانیہ کو درپیش خطرات حقیقی ہیں۔ شہری ہلاکتیں اور تباہی سنگین ہے اور اس کے تدارک کے لیے ہمارے پاس راستے محدود ہیں۔ امریکی ٹیکنالوجی بھی بہت اہم ہے لیکن  متشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی خود مختاری بھی اہم ہے۔ اس چیلنج کی سنگینی کو تسلیم کرنا بھی اہم ہے۔ پاکستان کو مختلف دہشت گرد اور متشدد انتہا پسند گروپس سے شدید خطرہ ہے۔ ان گروپس میں القاعدہ، پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند عناصر شامل ہیں۔ حکومت کے پاس ان تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے وسائل محدود ہیں۔اپنے بڑے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر ہم کوشش کررہے ہیں کہ جمہوری حکومت میں انسداد دہشت گردی کی اہلیت پیدا کریں اور پاکستانی فوج کو اس اہل بنادیں کہ وہ شمال مغربی سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرسکے۔

افغانستان میں برطانیہ کا مشن

برطانیہ کا افغانستان میں وسیع ہوتا ہوا مشن

ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان سے متعلق برطانوی مشن میں 2001سے اب تک یعنی جب اولین برطانوی فوجی دستے اس خطے میں اتارے گئے تھے، بہت اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ ابتدائی طور پر مقصد بین الاقوامی دہشت گردی کے انسداد کے لیے امریکہ کا ساتھ دینا تھا۔ لیکن اب ہمارے مقاصد میں عسکریت پسندی کا خاتمہ، منشیات کا خاتمہ، انسانی حقوق کا تحفظ اور حکومت کی تشکیل کے مقاصد بھی شامل ہیں۔ اس تمام عرصے میں ہم یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ کتنا زیادہ کام ہمارے کرنے کو یہاں موجود ہے۔

ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے مشن میں سست روی سے پھیلاؤ کی ایک صورت رہی ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب برطانوی حکومت کے پیش نظر ایک سے زائد مقاصد ہیں۔ ہمارا یہ خیال بھی ہے کہ اس رپورٹ کے جواب میں حکومت کو کسی بھی ابہام کے بغیر افغانستان میں اپنی پہلی اور سب سے اہم ترجیح کا تعین کرنا ہوگا۔ (پیراگراف 225)

4ستمبر 2009کو اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے یہ بات بہت واضح انداز میں بیان کی کہ افغانستان میں ہماری موجودگی کی سب سے بڑی وجہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کرنے کے لیے القاعدہ پھر سے اس خطے کو اپنا مرکز نہ بنا سکے۔ جیسا کہ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم افغانستان کے خطے کو دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنے کے لیے مسلسل کام جاری رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم 2001میں افغانستان میں داخل ہوئے اور آج تک ہماری فوجوں کی یہاں موجودگی کی بھی یہی وجہ ہے۔ یہ بات برطانیہ کے تحفظ سے متعلق قومی مفادات حاصل کے لیے بہت ضروری ہے کہ افغانستان ایک مستحکم اور محفوظ حکومت بن جائے تاکہ یہ اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی کا قلع قمع کرسکے ۔ جب کہ سرحد پار پاکستان میں بھی ہمارے ایسے ہی مقاصد ہیں۔

تاہم حکومت اس حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہیں ہے کہ افغانستان کو درپیش چیلنجز کاواحد حل فوجی کارروائی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکمت عملی کا آغاز مختصر المیعاد سیکیورٹی سے ہوتا ہے لیکن اس کا تعلق درمیانی عرصے کے افغانستان اور طویل عرصے کے لیے ترقی کا عمل جاری رکھنے سے ہے کہ جس کے نتیجے میں افغانیوں کے لیے اپنے ملک میں ہی مستقبل میں سازگار حالات پیدا ہوں۔ اس حکمت عملی سے افغانیوں کو مدد ملے گی کہ وہ اپنے ملک میں حکومت کریں اور اسے محفوظ بناسکیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہم نے اپنی توجہ کو مختصرالمیعاد استحکام سے طویل المیعاد ترقی کی طرف موڑا ہے کیوں کہ اسی ترقی پر افغانستان کی اور برطانیہ میں ہماری سیکیورٹی کا انحصار ہے۔

سیکیورٹی سے متعلق مشکل صورت حال کے باوجود افغانستان میں ترقی کے لیے استحکام اور تعمیر نو کی کارروائی جاری ہے۔مشترکہ شہری فوجی مشن میں ہمارے 80شہری ماہرین کے ذریعے(اس تعداد میں پچھلے سال سے دوگنا اضافہ ہوا ہے۔) ہم نے ہلمند صوبے میں فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ فوری شہری کارروائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ہمیں توقع ہے کہ ہم اس سال ہلمند صوبے میں تعمیر نو اور ترقی کے لیے 40ملین پاؤنڈ کی امداد فراہم کرپائیں گے جس سے انسداد منشیات، اسلوب حکمران اور نفاذ قانون جیسے مختلف شعبوں میں بہتری پیدا ہوگی۔

پاکستان کے لیے برطانیہ کی حکمت عملی

ہم وزیر اعظم کے اعلان کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد کے لیے پاکستان کی حکومت کو 10ملین پاؤنڈ کی امداد مہیا کی جائے گی۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے پاکستان کے لیے اپنی امداد کو مزید بڑھائے۔ (پیراگراف 289)

برطانیہ اور پاکستان کا اس میں مشترکہ مفاد ہے کہ پاکستان میں متشدد انتہا پسندی کے خطرے کو کم کیا جائے۔ہم نے اپنے تعاون کو اس انداز میں شکل دی ہے کہ حکمت عملی اور کارروائی جیسی دونوں سطحوں پر یہ درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے میں حکومت پاکستان کی مدد کرے۔ برطانیہ اور پاکستان کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کا محور ہی یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے مدد فراہم کی جائے۔

انسداد دہشت گردی کے لیے حکمت عملی تشکیل دینے میں برطانیہ پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔ ایک نئی ’نیشنل کاؤنٹر ٹیرورزم اتھارٹی‘ تشکیل دی گئی ہے جوکوآرڈینیشن کے معاملے میںحکومت پاکستان کے لیے بنیادی حوالے کے طور پر کام کرے گی اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گی۔ہماری امداد میں پاکستان کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کی اہلیتوں میں اضافہ کرنا شامل ہے تاکہ متشدد انتہا پسندوں سے نمٹا جا سکے، شواہد اکٹھے کرنے  اور تیار کئے گئے دھماکہ خیز آلات، جرائم سے متعلق شواہد، بم کی جگہ پر انتظامات، بنیادی اہمیت کی حامل جگہوں کی حفاظت اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام سے متعلق تربیت دی جائے۔ ایسی امداد ایک اعلی سطحی مشترکہ ورکنگ گروپ، جو انسداد دہشت گردی اور سنگین منظم جرائم سے متعلق ایک دوسرے کے خدشات پر بات کرے، کے ذریعے ہی مہیا کی جاتی ہے ۔جیسے جیسے وہ لوگ زیادہ سے زیادہ اکٹھے کام کریں گے جو انسداد دہشت گردی پالیسی اور نفاذ قانون کے ذمہ دار ہیں، ویسے ویسے ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ ایک دوسرے کے بہترین طریقہ کار کو اپنائیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں۔

ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیںکہ  افغانستان کے لیے اپریل 2001میں شائع ہونے والی نئی حکمت عملی میں برطانیہ کا پاکستان کے کردار پر خصوصی اصرار جائز ہے۔001سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے برطانیہ وسیع پیمانے پر پاکستان کے ساتھ روابط قائم رکھے ہوئے ہے۔ انھیں بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ہم حکومت کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ طویل المیعاد حل تلاش کرنے اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت پاکستان کی مدد جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ہماری رائے یہ بھی ہے کہ برطانیہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقا ت کے توازن میں، خاص طور پر انسداد دہشت گردی میں معاونت کے حوالے سے بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

متشدد انتہا پسندی سے نبٹنے کی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرنا پاکستان اور برطانیہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس تمام سرگرمی کا مستقل مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان اس خطرے کی شدت کا پورا پورا احساس کرے جو پاکستان کی حکومت اور اس خطے اور اس سے ماورا پوری دنیا کے تحفظ اور استحکام کو درپیش ہے۔

سیکرٹری خارجہ نے جنوری اور جولائی 2009میں پاکستان کے دورے کے دوران حکومتی سینئر اہل کاروں سے ملاقات میں اس بات کو واضح انداز میں بیان کیا تھا۔’ یوکے پاکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ آن کاؤنٹر ٹیرورزم‘، جس کا اجلاس 2جولائی 2009کو ہوا، پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کو بڑھانے اور پاکستان کی کمٹ منٹ سے وابستہ ہونے کا ایک اہم محرک بناہے۔یہ گروپ جن حوالوں سے کام کرتا رہا ہے وہ کچھ یوں ہیں: اداروں کی تعمیر اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی میں بہتری، انسداد دہشت گردی کے لیے پولیس کی تیاری اور مالیاتی تفتیش کی اہلیت میں معاونت، اور سٹریٹجک کمیونیکیشنز کے حوالے سے مشترکہ منصوبہ بندی۔ ہم اس تعلق کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہماری تجویز یہ ہے کہ حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر کیسے بہترین انداز میں کوئی ایسی بین الاقوامی پالیسی تیارکی جائے جس سے طالبان اور القاعدہ سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کی معاونت ہوسکے۔

حکومت کا مصمم ارادہ ہے کہ وہ بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ کام جاری رکھے گی تاکہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کاوشوں میں مدد کرسکے۔ پاکستان میںخاص طور پر انسداد دہشت گردی سے متعلق پروگرامز میں ہم امریکہ سے تعاون کرتے ہیں اور اس ایجنڈے کو آگے لے جانے کے لیے قریبی دفاعی اور سفارتی قائم کرتے ہیں۔ کثیر السفارتی فورم بھی بہت اہم ہے۔ جون 2009میں ہونے والے ’ای یو پاکستان سمٹ‘ کے نتائج میں سے ایک اہم نتیجہ یہ بھی تھا کہ یورپین یونین اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ڈائیلاگ شروع کرنے اور دونوں فریقوں کے درمیان عملی تعاون کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی سے متعلق اہلیتوں ، خاص طور پر نفاذ قانون اور جرائم کے لیے انصاف کے شعبوں میں استعداد بڑھانا شامل ہے۔

فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے گروپ میں برطانیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس گروپ کا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران سمٹ کی سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں استحکام پیدا کیا جائے اور یہ بھی کہ کیسے درج ذیل مسائل کی اصل وجوہات کو ختم کیا جائے ، جیسے قبائلی علاقوں سے پیدا ہونے والی دہشت گردی، بنیادی تحفظ، ناکافی اسلوب حکمرانی اور انصاف، اور رینگتی ہوئی کم تر ترقی اور غربت ۔

فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کے تحت تیار ہونے والی ’مالاکنڈ سٹریٹجی‘اس انداز میں تشکیل دی گئی تھی کہ اس سے عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو اور مالاکنڈ کے علاقے میں ترقی میں اضافہ ہو اور یوں دوسرے متاثرہ علاقوں کے لیے یہ حکمت عملی ایک مثال کی حیثیت اختیار کرلے۔ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی بنیادی توجہ اس بات پر رہی کہ تحفظ اور اسلوب حکمرانی میں اصلاح، معاشی ترقی، اداروں کی تعمیر اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے سیاسی اور مادی معاونت فراہم کی جائے۔ یہ حکمت عملی اس بات کو ماننے کے مترادف تھی کہ سماجی اور معاشی مسائل کو حل کیے بغیر انتہا پسندی کو ختم کرنے کی کاوشیں بارآور نہیں ہوسکتی ہیں۔

ہماری تجویز یہ ہے کہ اس رپورٹ کے جواب میں حکومت ہمیں بتائے کہ وہ ویزا کی جعلی درخواستوں سے بچنے کے لیے ویزا کی درخواستوں اور ان کی پروسیسنگ کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے اور وہ اس معاملے میں برطانوی بارڈر ایجنسی سے کس حد تک اور کس انداز میں تعاون کرے گی۔(پیراگراف 297)

برطانیہ کے لیے یہ بات بہت تشویش ناک ہے کہ پاکستان میں ویزا کے حوالے سے بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ تمام الزامات کے حوالے سے تفتیش کی جاتی ہے اور جہاں ضروری محسوس ہو،مجرموں کو سزادینے کے لیے برطانیہ پاکستان کی انتظامیہ سے مل کر معاملات طے کرتا ہے۔ ہم جعلی دستاویزات پر بھی سخت اقدامات کرتے ہیں۔ ’امیگریشن رولز‘ میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ ’انٹری کلیرنس آفیسرز‘ اس اہل ہوسکیں کہ ان درخواست گزاروں کو روک سکیں یا ان پر دس سال کی مدت تک داخلے پر پابندی لگا سکیں جو جعلی دستاویزات جمع کراتے ہیں یا غلط نمائندگی کرتے ہیں۔

ماضی میں پاکستان کے آپریشن کو جعل سازی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ہم نے جعل سازی کی تشخیص کے لیے مناسب ذرائع مہیا کرنے پر توجہ دی ہوئی ہے۔ یوکے بارڈر ایجنسی کی پاکستان میں ٹیم کے پاس دستاویزات کی پڑتال کے لیے ایک ماہر یونٹ موجود ہے اور پاسپورٹ کی جعل سازی کو پکڑنے کے لیے ماہرین کی الگ سے ایک ٹیم بھی موجود ہے جو درخواستوں کے ساتھ جمع کرائی جانے والی دستاویزات کی پڑتا ل کرتی ہے۔ پاکستان میں آپریشن کو ’رسک اینڈ لائزن اوورسیز نیٹ ورک‘ کی ایک ٹیم کی مدد بھی حاصل ہے جو ’سیریس آرگنائزڈ کرائم ایجنسی‘ اور پاکستان کی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر کام کرتی ہے تاکہ امیگریشن سے متعلق جرائم کا قلع قمع کیا جا سکے۔

یوکے بارڈر ایجنسی نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے تاکہ وہ زیادہ خطرے کی جگہوں پر کام کرنے والے ’ویزا ایپلیکیشن سنٹرز‘ کے لیے تجارتی شراکت داری کی بنیاد پر کیے گئے انتظامات کی جانچ کرے۔ اس ٹاسک فورس نے پاکستان میں چار ’ویزا ایپلی کیشن سنٹرز ‘ کا آڈٹ کیا ہے: اسلام آباد، لاہور، کراچی اور میرپور۔ٹاسک فورس نے ایسے بہت اقدامات تجویز کیے ہیں جن سے تجارتی شراکت داری کے تحت استعمال کیے جانے والے طریقہ کار کو زیادہ جامع بنایا جا سکے۔ ٹاسک فورس اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ تجارتی شراکت داروں کے تحت کام کرنے والے ویزا ایپلی کیشن سنٹرز کا دنیا بھر میں کسی بھی دوسری جگہ کام کرنے والے سنٹرز سے آسانی سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹاسک فورس کی تحقیقات کے نتیجے میں یوکے بارڈر ایجنسی تفتیش کا ایسا نمونہ تیار کررہی ہے جس کی مدد سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں ویزا ایپلی کیشن سینٹرز شفافیت کے ساتھ اعلی درجے کا کام کریں۔ ٹاسک فورس کی موجودہ اور دیگر سبھی تجاویز نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے نیٹ ورک میں نافذ کی جا رہی ہیں۔ جب کہ ان کی اثرانگیزی پر بھی نگاہ رکھی جائے گی۔ ایف سی او اس سارے کام میں یوکے بارڈر ایجنسی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے کام کرے گا۔

افغانستان میں برطانیہ کا کردار


Search the news archive


Share this with: