19 Oct 2009
شیخ الاظہر کے نقاب پر تبصرے کے بعد جو بحث شروع ہوئی ہے اس سے مجھے ایک اور مذہب میں 50 سال پہلے ہونے والی بحث یاد آگئیشیخ الاظہر کے نقاب پر تبصرے کے بعد جو بحث شروع ہوئی ہے اس سے مجھے ایک اور مذہب میں 50 سال پہلے ہونے والی بحث یاد آگئی۔
1959 میں اس وقت کے رومن کیتھولک پوپ جان (تئیس)نے چرچ کو کھول کر ایک اہم قدم اٹھایا جسے ان کے جانشین نےسیکنڈ ویٹیکن کونسل(ویٹیکن دوئم) میں مزید آگے بڑھایا۔پادریوں کے سوا دوسرے 'عام'لوگوں کا کردار جو بڑے معتقد عبادت گزار تھے ، اس وقت تک عبادت کرنے، روزے رکھنے اور احکام ماننے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔تبدیلیوں کے بعدوہ دور سے بیٹھ کر صرف احکامات پر چلنے کی بجائےمذہبی تقریبات کا حصہ بن گئے۔۔مذہبی عبادات لاطینی کی بجائے ان کی روزمرہ کی زبان میں ادا کی جانے لگیں۔
ایک کیتھولک بچے کی حیثیت سے میں نے ان دنوں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی دیکھا کہ میری ماں اب چرچ میں سر پر نقاب ڈال کے نہیں جاتی تھیں۔ میری خالہ بھی جن کا اعتقاد ہمارے خاندان میں مثالی سمجھا جاتا تھا اور جن کی تسبیح جو پوپ کی عطا کی ہوئی تھی اب بھی میرے پاس ہے، یہی کرتی تھیں۔
کوئی بھی یہ دلیل نہِں دے رہا کہ نقاب پہننا غیر اسلامی ہے، یا کیا اسلام اسے پہننے کا حکم دیتا ہے یا کیا اسے پہننا عقیدے کے لحاظ سے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔مجھے اس پر حیرت نہیں ہے کہ اس بحث میں دونوں جانب سے دلائل بڑے مضبوط ہیں۔حال ہی میں فرانس اور برطانیہ میں جب نقاب کے بارے میں عام بحث چھڑی تو ہماری مسلم کمیونٹیز کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ افراد کو تو اس پر افسوس تھا کہ یہ معاملہ زیر بحث ہی کیوں آیا، جیسے یہ اسلام پر ایک اور حملہ ہو۔ مجھے یاد ہے کہ پچاس برس پہلے کیتھولکس کے لئے علامتوں اور روایات میں تبدیلی کو قبول کرنا کتنا دشوار تھا۔
ویٹیکن دوئم کی تبدیلیوں نے طویل روایات سے سلسلہ توڑ دیا۔کچھ افراد نے تبدیلیوں کو گلے سے لگایا ، کچھ شک میں پڑ گئے اور باقی شاک میں تھے کہ یہ تبدیلیاں بدعت ہیں اور انہوں نے انہیں مسترد کردیا۔چرچ میں نقاب اوڑھنے کے معاملے میں ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ روایات اور ثقافت کا اثر تھا۔اب یہ سب ماضی کا حصہ ہے۔ بحث نقاب سے آگے بڑھ چکی ہے ۔ لیکن اس کے اثرات زبردست تھے۔ویٹیکن دوئم کا اثر کیتھولکس اور میرے نزدیک غیر کیتھولکس تک رسائی پر منتج ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ کیتھولک چرچ اتنا سخت گیر نہیں رہا۔
البتہ ظاہر ہے کہ ہمارے مرکزی دینی عقائد تبدیل نہیں ہوئے۔
مذہب میں جذبات کا اہم کردار ہے۔وہ اچھائی کے لئے ایک زبردست قوت ہو سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بلاگ کے پڑھنے والوں میں چند ایسے بھی ہونگے جو مختلف مذاہب سے سبق لینے کو رد کردیں گے۔لیکن میرے خیال میں چند مختصر نتیجے اخذ کئے جا سکتے ہیں۔مذہبی امور پر ایسےبحث مباحثے کی تجویز کوئی عدم پرہیز گاری کی بات نہیں جن کا محور ہمارے مذاہب کی اساس ہو نہ کہ اس کی علامات۔جو پہلو بھی ہمیں نہ صرف اپنے مذہب کے ماننے والوں بلکہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے قریب لے جائے وہ یقینا اچھا ہوگا۔البتہ روایات اور ثقافت کی وجہ سے کچھ کے نزدیک علامات اہم رہیں گی۔ان کو تبدیلی کو قبول کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔تبدیلی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔لیکن ایک بار پھر کہونگا کہ بحث دلائل کے ساتھ ہونا چاہئیےجیسا کہ قران بار بار کہتا ہے