28 Sep 2009
سیکرٹری داخلہ ایلن جانسن نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں مزید قیام کے لیے اپنے ویزے کے اجرائے نو کے امید وار ہنر مند تارکین کو نئے سال سے ایک شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ یہ اعلان شیڈول سے تین ماہ قبل کیا گیا ہےجنوری 2010سے پوائنٹس بیسڈ سسٹم کے ٹئیر 2کے تحت آنے والے غیر ملکی ورکروں کو شناختی کارڈز جاری کیے جائیں گے۔ اس تبدیلی سے اپریل 2010سے اندراج کے عمل میں تیزی آئے گی اور جن لوگوں کو اس وقت شناختی کارڈز جاری کیے جا رہے ہیں، ان میں ہر سال 30ہزارکے قریب غیر ملکی شہریوں کا اضافہ ہوگا۔
اپنے آغاز سے اب تک 90ہزار کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں، خاص طور پر ان طلبا کو جو پوائنٹس بیسڈ سسٹم کے ٹئیر 4کے تحت اپنے ویزوں میں توسیع کروانا چاہتے ہیں یا جو اپنی شادی کے ویزوں میں توسیع چاہتے ہیں۔
اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ ٹئیر 2کے تحت قیام کرنے کے حق میں توسیع کر کے غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ میں شامل کرنے کے لیے اندراج کے عمل کو تیز کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ حکومت نے نومبر 2009تک 75ہزار کارڈز جاری کرنے کا ہدف پورا کرلیا ہے۔
برطانوی بارڈر ایجنسی اپنے سترہ کراؤن پوسٹ آفسز میں ٹیکنالوجی کی آزمائش کرے گی تاکہ شناختی کارڈز کے لیے درخواست دینے والے غیر ملکی شہریوں کو متبادل اور زیادہ قابل رسائی جگہیں مہیا کرسکے جہاں وہ اپنے فنگر پرنٹس جمع کرواسکیں۔ ان آزمائشوں کا آغاز اکتوبر سے ہوگا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا،"شناختی کارڈز 90ہزار غیر ملکی شہریوں کو جاری کیے گئے ہیں جو ہمارے ہدف سے 15ہزار تک زیادہ ہیں۔ ایک مہینہ بھی شیڈول کی نسبت زیادہ ہوچکا ہے۔
کارڈز کے اندراج میں تیزی لا نے سے زیادہ افراد محفوظ اور سادہ انداز میں مستفید ہوں گے اور یوں وہ ثابت کرسکیں گے کہ وہ یہاں رہنے، کام کرنے اور پڑھنے کے مستحق ہیں جب کہ جو لوگ غیر قانونی طورپر برطانیہ میں سہولتوں سے مستفید ہورہے ہیں، ان کا سدباب ممکن ہوگا۔
پوسٹ آفس کے ساتھ ہماری شراکت داری سے اضافی استعداد پید ا ہو گی جس سے یوکے بارڈر ایجنسی اسکی اہل ہوسکے گی کہ نام درج کرنے کے عمل کو اور تیز کرے اور پوسٹ آفس نیٹ ورک کی حفاظت میں معاونت کے لیے اضافی کام کرسکے۔ اس سے تارکین کو سہولت میسر ہوگی کہ وہ اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق جہاں چاہیں اپنا نام درج کرائیں"۔
یورپین اکنامک ایریا کے باہر سے برطانیہ میں آنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے شناختی کارڈز کا سلسلہ نومبر 2008میں جاری کیا گیا۔ ان سے مطالبہ کیا گیاتھا کہ وہ اپنی تصاویر اور فنگر پرنٹس جمع کرائیں۔ ان کی شناخت متعین کی گئی اور یوں غیر ملکی شہریوں کی مدد کی گئی کہ وہ برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے اور یہاں کاروبار میں حصہ لینے کا حق ثابت کریں اور اس طرح غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔
پوائنٹس بیسڈ سسٹم کے ٹئیر 5کے تحت آنے والے ہنر مند تارکین اور عارضی ورکروں کے معاملے کو بھی 2010سے 2011تک سامنے لایا جائے گا۔
اکتوبر سے غیر ملکی شہریوں کو، جنھیں شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں، انتخاب کا حق دیا جائے گا کہ وہ آٹھ پاؤنڈ کی فیس دے کر کسی بھی شراکتی کراؤن پوسٹ آفس میں، یا کسی یوکے بارڈر ایجنسی یا حال ہی میں اس منصوبے کا حصہ بننے والے کسی آئی ڈنٹٹی اینڈ پاسپورٹ سروسز آفس میں، جہاں یہ عمل مفت ہوگا، اپنے فنگر پرنٹس اور تصاویر جمع کرائیں۔
پوسٹ آفس اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کون برطانیہ میں قیام کرسکتا ہے جب کہ یوکے بارڈر ایجنسی کے تحت انرولمنٹ کی تفصیلات کی مفصل پڑتال جاری رہے گی۔ اس سے یوکے بارڈر ایجنسی کو اضافی قوت میسر آئے گی اور کسٹمرز کو انرولمنٹ کا ایک متبادل فراہم ہوگا۔ اس سے یوکے بارڈر ایجنسی کو اضافی اہلیت حاصل ہوگی اور کسٹمرز کو نام درج کرانے کا ایک متبادل راستہ میسر آجائے گا۔
پوسٹ آفس کے منیجنگ ڈائریکٹر ایلن کک نے اس موقع پر کہا ،"پوسٹ آفس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ وہ اس آزمائش میں شامل ہے۔ کیوں کہ قابل اعتبارہونے اور ہمارے نیٹ ورک کی بے مثال رسائی جیسی ساکھ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ذاتی شناختی ڈیٹا کو حفاظت کے ساتھ اور مستعدی سے منتقل کرسکتے ہیں جب کہ مزید کمائی کا امکان ہماری ملک بھر میں موجود برانچوں کے نیٹ ورک کی مدد کرے گااور انھیں قائم رکھے گا"۔
غیر ملکی شہریوں کے لیے شناختی کارڈز کے اندراج کے اگلے مرحلے کے لیے قواعد و ضوابط کا مسودہ اکتوبر میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مزید معلومات کے لیے یوکے بارڈر ایجنسی کی ویب سائٹ پر ’آئی ڈنٹٹی کارڈز فار فارن نیشنلز‘ والے حصے کو ملاحظ کیجئے۔