پاکستان: تعلیم، تعلیم، تعلیم- ڈیوڈ ملی بینڈ کا بلاگ
میں سر مائیکل باربر کو صدر زرداری سے ملاقات کے لئے لے کر گیا تاکہ وہ اس تجویز پر مشورہ کر سکیں جو میں اور وزیر اعظم گورڈن براؤن صدر زرداری سے پاکستان میں تعلیم کے موضوع پر کرتے رہے ہیں۔یہ آبادی کے اعتبار سے ایک نوجوان ملک ہے جہاں لاکھوں نوجوان اچھی تعلیم کے لئے تڑپ رکھتے ہیں لیکن حاصل نہیں کر پاتے۔پاکستان میں تعلیم کے لئے بڑی رقوم دئیے جانے کی منصوبہ بندی ہے، مثلا امریکا سے کیری لوگر بل کے ذریعے( جس کے تحت ایک اعشاریہ پانچ بلین ڈالر سالانہ شہری تعاون کے لئے دی جائے گی)۔ حکومت کا ایک قومی تعلیمی کمیشن ہے لیکن مسئلہ عملدرآمد سے زیادہ حکمت عملی کا ہے۔کہا جاتا ہے کہ سینکڑوں اسکول تعمیر کئے جاتے ہیں لیکن ان میں نہ شاگرد ہوتے ہیں اور نہ اساتذہ۔
سر مائیکل باربر ایک یوکے- پاکستان ایجوکیشن ٹاسک فورس کی قیادت کریں گے جس کا مستحکم رابطہ صدر زرداری اور ان کی ٹیم سے ہوگا۔اس کا کام نظام میں اسٹرکچر اور احتساب کی بنیادی باتوں کو درست کرنا ہوگا، جس میں اساتزہ کی تربیت سے لے کر اسکول کے انتطام کا معاملہ شامل ہوگا۔ میں ان ہمہ جہت نتائج کا منتظر رہوں گا۔
20 ستمبر کو تحریر کیا گیا
Share this with: