29 Sep 2009
گزشتہ ہفتے نیویارک میں موضوع گفتگو ایران رہا۔ ای 3+3 ممالک اور کئی دوسرے اس کے جوہری پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہےگزشتہ ہفتے نیویارک میں موضوع گفتگو ایران رہا۔ ای 3+3 ممالک اور کئی دوسرے اس کے جوہری پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہےاور انہوں نے اسے اگر ممکن ہوئے، تو مذاکرات، ، تنہائی یا اگر ضرورت پڑی تو پابندیوں، کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ہمیں اسرائیل کے بارے میں صدر احمدی نژاد سے وہی پرانے، قابل اعتراض تبصرے سننے کو ملے جو کہ اس ایوان کی توہین تھی جس میں وہ تقریر کر رہے تھے۔ جمعہ کو قم کے نزدیک ایک خفیہ افزودگی مرکز کا چرچا رہا۔ ایران کا ردعمل مبہم تھا۔اس نے انکار کیا کہ وہ کوئی خفیہ مرکز تھا۔ یہ درست ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں علم تھا اور اب ہم نے فرانس اور امریکا کے ساتھ مل کر آئی اے ای اے کو اس کے بارے میں مکمل بریفنگ دے دی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران کو اپنی تمام جوہری تنصیبات کے بارے میں امریکا کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے، یہ بھی بجا لیکن ایران کو ان کے بارے میں امریکا کو نہیں بلکہ آئی اے ای اے کو بتانے کی ضرورت ہےجس کے بارے میں ایران کا دعوا ہے کہ وہ اس سے مکمل تعاون کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران یہ تنصیبات خفیہ طور سے کئی سال سے تعمیر کر رہا ہے جو سلامتی کونسل کی پانچ قراردادوں اور آئی اے ای اے سے معاہدے کے تحت اسکے اپنے تحفط کے خلاف ہے۔ ہم ایران کے ساتھ ایک دو راہے پر کھڑے ہیں۔ایک طرف ایران کی حکومت اور اس کے عوام کے لئے اوباما کا پیش کردہ مستقبل ہے جو انہوں نے مارچ میں نئے سال کے موقع پر اپنے پیغام میں کیاتھا ۔ایسا مستقبل جس میں ایران اپنے ماضی کو برقرار رکھتے ہوئے ان فوائد کی امید رکھ سکتا ہے جو اس کے قدرتی اور انسانی وسائل اسے فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن دوسرے راستے پر ایسا مستقبل ہے جس میں تنازعات، نفرت انگیز پروپیگنڈا اور گنوائے ہوئے مواقع ہیں۔ ایسا مستقبل جس میں ایران ذمے داریوں کی تکمیل کی بجائے ان سے پہلو تہی، قوموں کی برادری سے علیحدگی اور مدد کے لئے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو جھٹکنے کی طرف بڑھے گا۔ ہم نے اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ ہم کونسا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم اس پر تنہا نہیں چل سکتے۔ جمعرات کو جنیوا میں ایران کو ایک سادہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے بنیادی خدشے یعنی اپنے جوہری پروگرام پر توجہ دے گا۔ یہ ایران کا اپنا انتخاب ہے ہمارا نہیں، بہانوں کا وقت گزر چکا ہے۔ ہفتہ 26 ستمبر کو تحریر کیا گیا