جبری شادیوں کی اطلاع دینے والوں کی تعداد میں اضافہ: نئی گائیڈ لائنز کا اجرا (02/07/2009)
حکومت برطانیہ کے تحت کام کرنے والے ’فورسڈ میرج یونٹ‘ نے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو جبری شادیوں کے خلاف تحفظ کی تلاش میں سامنے آرہے ہیں۔
وزارت خارجہ اور ہوم آفس کے اشتراک سے قائم ہونے والے خصوصی یونٹ نے اس سال اب تک ممکنہ جبری شادیوں کے خلاف اپنی ہیلپ لائن پر 770کالز یا ای میلز وصول کی ہیں ۔ پچھلے سال کی نسبت اس سال ان کی تعداد میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2005سے اب تک ’فورسڈ میرج یونٹ‘ نے جتنے کیسز کو نپٹایا ہے، ان کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ 152سے گزشتہ سال 420ہوگئے کیوں کہ اب لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مدد حاصل کرنے کے لیے سامنے آرہی ہے۔ تاہم یہ بات اب بھی غیر واضح ہے کہ یہ مسئلہ کتنا پھیلا ہوا ہے۔ جبری شادی کے معاملے کی نوعیت ایسی ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے بہت سے کیسز ہوتے ہیں جن کے بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آتی۔
فورسڈ میرج یونٹ سال کے سب سے مصروف حصے کے لیے تیاری کررہا ہے کیوں کہ طلبا سکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے اپنے اساتذہ کے سامنے اس نوعیت کے مسائل پیش کرتے ہیں۔
یہ نئے اعداد و شمار نئی گائیڈ لائنز سے موافق ہیں جو فعال ماہرین کی مدد کے لیے شائع کی گئی ہیں تاکہ وہ زیادہ بہتر انداز میں ان بچوں اور بالغ افراد کی نشان دہی کرسکیں اور انھیں تحفظ فراہم کرسکیں جنھیں جبری شادی کا خطرہ ہے۔
یہ نئی گائیڈ لائنز ’فورسڈ میرج یونٹ‘ نے دیگر حکومتی اداروں اور ویلش اسمبلی گورنمنٹ کے تعاون سے پولیس، اساتذہ، سماجی اور طبی ماہرین، اور ہاؤسنگ آفیسرز کے لیے تیار کی ہیں تاکہ ان متاثرہ افراد کو شناخت کیا جا سکے اور انھیں ایسے افراد سے تحفظ فراہم کیا جا سکے جو ان پر جبری شادی کا بوجھ لادنا چاہتے ہیں۔
کونسلر امور کے ایف سی او وزیر کرس برائنٹ نے کہا ’’کسی بھی فرد کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کی آزادانہ خواہش کے بغیر شادی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ مختلف وجوہات کے تحت ایسا اب بھی کیا جا رہاہے۔ حکومت کا پورا ارادہ ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو تحفظ دینے اور اس رواج کو ختم کرنے کے لیے جو کچھ بھی اس سے ہوسکا، وہ کرے گی۔ جدید دنیا میں اس ظالمانہ کلچر کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا"۔
ہوم آفس وزیر ایلن کیمپبل نے کہا’’یہ گائیڈ لائنز متعلقہ ماہرین کو درجہ بہ درجہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ وہ کیسے جبری شادی کے کیس سے نمٹیں۔ مل کر کام کرنے سے ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ جبری شادیوں سے متاثرہ تمام افراد کو ہمدردانہ، مؤثر اور مشترکہ مدد ملے اور یوں اس ظالمانہ روایت کو قبول کرنے کے عمل کو بھی چیلنج کیا جا سکے"۔
نوجوانوں اور خاندانوں کی ڈی سی ایس ایف وزیرڈیلتھ مورگن نے اس حوالے سے کہا’’تمام بچوں کا حق ہے کہ وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہتے ہوئے پھلے پھولیں۔ چوں کہ اب اسکول کے تعلیمی سال کا اختتام قریب ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم یہ پیغام ہر طرف پھیلا دیں کہ جبری شادی کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور یہ کہ جہاں بچوں کو اس بری روایت کا شکار بنایا جاتا ہے ، ان کی تعلیم اور مستقبل پر اس کے اثرات نہایت تباہ کن ہوتے ہیں"۔
‘‘
نئی سرکاری تحقیقی رپورٹ "جبری شادی کے واقعات اور تحفظ کے اقدامات"
(Forced Marriage Prevalence and Service Response‘بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس رپورٹ میں جبری شادیوں کی تعداد اور ان کے حوالے سے لوگوں کے ردعمل پر تحقیق کی گئی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اگرچہ اچھی روایات کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن پھر بھی مقامی ایجنسیوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جبری شادی کے واقعات کی نشان دہی کرسکیں اور ان سے بچاؤ کے لیے اقدامات کریں۔ اس رپورٹ کے نتائج سے ہمیں آج کی نئی رہنمائی میں مدد ملتی ہے۔
2009کے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ فورسڈ میرج یونٹ کو حاصل ہونے والی رپورٹوں میں سے اکثریت یعنی 70فیصد کا تعلق پاکستان، اور 11فیصد کا تعلق بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے ہے جب کہ باقی کا تعلق انڈیا، مشرق وسطی، یورپ اور افریقہ سے ہے۔4فیصد کیسز میں متاثرہ افراد مرد ہیں، اسسٹنس کیسز میں سے 33فیصد اٹھارہ سے کم عمر کے ہیں جب کہ 14فیصد کی عمر سولہ سال سے بھی کم ہے۔
فورسڈ میرج یونٹ کے تحت عوام کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی موجود ہے جو جبری شادی کے معاملات سے نمٹنے والے فعال ماہرین اور ان معاملات سے متاثرہونے والے افراد کو مشاورت اور تعاون فراہم کرتی ہے۔ پیر سے جمعہ کے دوران نو بجے صبح سے پانچ بجے شام تک اس نمبر پر فون کریں: 0151 7008 020 یا اس ایڈریس پر ای میل کریں۔ fmu@fco.gov.uk
ان اوقات کے علاوہ ہنگامی صورت حال میں مدد کے لیے اس نمبر پر فون کریں
1500 7008 020۔ آپ ایف سی او گلوبل ریسپونس سنٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں۔ مزید معلومات کے لیے اس ویب سائٹ کو دیکھا جاسکتا ہے: www.fco.gov.uk/forcedmarriage
مزید معلومات یا کرس برائنٹ، ایلن کیمپبل، ڈیلتھ مورگن یا جبری شادی کے خطرے سے نجات حاصل کرنے والے کسی فرد سے انٹرویو کے لیے لارا بلیک، میرینا ایل سیداوی یا وکی پیج سے اس ٹیلی فون نمبر
7840 7478 020
یا ای میل ایڈریس پر رابط کریں:
fcoteam@trimediauk.com
مدیروں کے لیے نوٹس:
جنوری 2009سے 26جون 2009کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار:
- جبری شادیوں کے معاملات سے نمٹنے کے لیےفورسڈ میرج یونٹ کی تیار کردہ گائیڈ لائنز کو انگلینڈ اور ویلز میں فعال ماہرین میں ان کی تنظیموں کے ذر یعے تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ گائیڈ لائنز اس ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے www.fco.gov.uk/forcedmarriage
- فورسڈ میرج یونٹ جلد ہی پارلیمنٹ کے اراکین اور حلقہ وار دفاتر کے لیے ایسے کیسز سے نمٹنے کے لیے گائیڈ لائنز شائع کرے گا۔
- فورسڈ میرج یونٹ جنوری 2005میں فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس اور ہوم آفس یونٹ کے اشتراک سے قائم ہوا تھا۔ یہ گائیڈ لائنز، ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز، کراؤن پروسیکیوشن سروس، ڈیپارٹمنٹ فار چلڈرن ،ا سکولز اینڈ فیملیز، ڈیپارٹمنٹ فار کمیونٹیز اینڈ لوکل گورنمنٹ، ڈیپارٹمنٹ فار بزنس، انوویشن اینڈ سکلز، ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ، منسٹری آف جسٹس اینڈ دی ویلش اسمبلی گورنمنٹ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔
- یہ عملی گائیڈ لائنز ، s.63 Q (1) Forced Marriage (Civil Protection) Act- 2007کے تحت جاری کی گئی آئینی گائیڈ لائنز ’The Right to Choose‘ کی مناسبت سے تیار کی گئی ہیں۔
- پچھلے سال فورسڈ میرج یونٹ نے ممکنہ جبری شادیوں سے متعلق 1600سے زائد معاملات نپٹائے اور 420 اسسٹنس کیسز اور امیگریشن کے لئے 'سپانسر کرنے سے گریز' والے کیسز میں براہ راست مداخلت کی۔
- ڈی سی ایس ایف کی تحقیقی رپورٹ اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے www.dcsf.gov.uk/rsgateway
- ڈی سی ایس ایف کی تحقیقی رپورٹ ‘ Forced Marriage - Prevalence and
Service Response‘ کے مطابق انگلینڈ میں جبری شادیوں کے رپورٹ کئے جانے والے کیسز کی تعداد پانچ سے آٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ ان اعداد و شمار کو ان کیسز کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے جو 9مقامی اتھارٹیزکو رپورٹ کیے گئے۔ اس کے بعد ان اعداد و شمار کو سارے ملک پر محیط کیا گیا۔ اس حوالے سے واضح اعداد و شمار اکٹھے کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
جبری شادی کے بارے میں مزید معلومات