29 Mar 2009
وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ 2008 میں ان 21 ملکوں کی فہرست میں پاکستان اور افغانستان کا نام بھی شامل ہے جہاں انسانی حقوق صورتحال تشویش ناک ہے
وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ 2008 میں ان 21 ملکوں کی فہرست میں پاکستان اور افغانستان کا نام بھی شامل ہے جہاں انسانی حقوق صورتحال تشویش ناک ہے۔
انسانی حقوق کے بارے میں سالانہ رپورٹ وزارت خارجہ کےان فرائض کی عکاسی کرتی ہے جو وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ کے لئے انجام دیتی ہے۔دس سال پہلے اس وقت کے فارن سکریٹری رابن کک نے پہلی سالانہ رپورٹ اس مقصد کے تحت جاری کی تھی کہ'اس سے حکومت سے وابستہ افراد کو ان وعدوں پر عملدرآمد کے بارے میں تحریک ہوگی جو ہم نے کئے ہیں اور حکومت سے باہر افراد کو ایک ایسی فہرست مل سکے گی جس سے وہ ہماری کارکردگی کو پرکھ سکیں گے اور اس طرح کامیابی کے اعلی تر معیار کے لئے حوصلہ افزائی ہوگی'۔ رپورٹوں کا سلسلہ آگے بڑھ چکا ہے اور اب ان سے اس اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے جو وزارت خارجہ انسانی حقوق کو دیتی ہے کیونکہ اس کی اپنی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔
وزارت خارجہ کی سیلیکٹ کمیٹی پارلیمنٹ میں اس کا تجزیہ کرتی ہے اور وزرا ، این جی اوز، اور عوام الناس سے شہادت لیتی ہے۔رپورٹ کو لندن میں سفارتی حلقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور بیرونی ممالک میں ہمارے سفارت خانوں کو بھیجا جاتا ہے۔
انسانی حقوق وزارت خارجہ کے تمام پالیسی اہداف: دہشت گردی کی روک تھام اور ہتھیاروں کا عدم پھیلاو، کم کاربن اور زیادہ نمو کی حامل معیشت کا فروغ، تنازعات کی روک تھام اور حل، اور موثرعالمی اداروں کی تشکیل میں شامل ہوتے ہیں ۔ہماری رپورٹیں ان سب کی عکاسی کرتی ہیں۔انسانی حقوق سے معیارات اور بین الاقوامی فریم ورک کاتعین ہوتا ہے جن کی بنیاد پر ہماری خارجہ پالیسی پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔
رپورٹ برائے 2008 میں خواتین اور بچوں کے حقوق پر خاص طور سے توجہ دی گئی ہے۔رپورٹ میں ان امور پر علیحدہ مواد دیا گیا ہے۔ان کو ان ممالک کی تفصیلات میں بھی شامل کیا گیا ہے جو 'وہ ممالک جہاں انسانی حقوق کامعاملہ پریشان کن ہے' کے تحت آتے ہیں۔
اس حصے میں 21 ممالک ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں ہماری حکومت کو تشویش ہےجہاں ہم خصوصی طور پر متحرک ہیں یا جہاں سنگین نوعیت کے واقعات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔
یہ کوئی ایسی فہرست نہیں جو سب سے زیادہ پامالی کے مرتکب عناصر کی نشاندہی کرنے کے لئے بنائی گئی ہو۔چند دوسرے ملک بھی ہیں جہاں انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ہمیں تشویش ہےاور ان کا ذکر رپورٹ میں جا بہ جا کیا گیا ہےلیکن اس رپورٹ میں ان ممالک پر زیادہ توجہ دی گئی ہے جو اپنی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔صو مالیہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے اس کا نام پہلی بار
اس رپورٹ میں شامل ہواہے۔ اس نے نیپال کی جگہ لے لی ہے۔
پاکستان
ہمیں بدستور یہ تشویش ہے کہ حکومت پاکستان کو انصاف تک کمزور رسائی، تعصب اور کمزور گروپوں کے خلاف جن میں خواتین اور اقلیتیں شامل ہیں، تشدد ، بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر عمل نہ کیا جانا، اسلامی تعزیرات اور توہین رسالت کے قوانین،سزائے موت پر فوری عملدر آمد، ماورائے عدالت قتل قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں بے جا نظر بندی اور اذیت رسانی اور جبری گمشدگی جیسے امور پر توجہ دینی ہے۔پاکستان میں فرقہ وارانہ اور دہشت گردی کی کارروائیاں انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہوتی ہیں جن میں بلا امتیاز قتل، ہنگامی شرعی عدالتوں کےذریعے انصاف کے مکمل تقاضے پورے نہ ہونااور لڑکیوں کے اسکولوں کی تباہی قابل ذکر ہیں۔
موجودہ مسائل
سرحدی علاقے
حکومت پاکستان کو وفاقی بندوبستی علاقے(فاٹا) میں جو افغانستان سے ملتا ہے سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ہمیں بھی اس پر تشویش ہے کیونکہ یہ افغانستان میں بر طانیہ ، نیٹو اور آئیساف کے مفادات کے علاوہ خود پاکستان کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔قبائلی پٹی سے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے بر طانیہ اور پاکستان تعاون کر رہے ہیں۔ہم پاکستان کی اس پالیسی کی بھی حمایت کرتے ہیں جو اس نے سیاسی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کو سلامتی کے اقدامات سے نتھی کرکے اختیار کی ہے ۔ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام فوجی کارروائی اور سلامتی کے اقدامات، پر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے ایک جامع طریقہ کار کا حصہ ہیں اورانہیں بین الاقوامی انسانی حقوق کی حدود کے اندر ہونا چاہیئے۔
مسئلہ کشمیر
کشمیر میں ہم ان فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں جو تنازع میں براہ راست ملوث ہیں کہ وہ تشدد کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات کے راستے پیش رفت کریں۔ اس میں کشمیر کے اندر تشدد کی تمام بیرونی حمایت کے خاتمے اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری شامل ہے۔
دہشت گردی کی روک تھام
دہشت گردی کی روک تھام کی کوششوں میں پاکستان ہمارا اہم ساجھے دار ہے اور ہم ہر سطح پر قریبی تعاون سے کام کرتے ہیں۔ہم ترقی، گورننس اور تعلیم میں تعاون کے ذریعے انتہا پسندی کی روک تھام میں حکومت پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرتے ہیں۔
سزائے موت
پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد بڑھتا جارہا ہے۔تقریبا 7000 قیدی موت کے گھاٹ اتارے جانے والے ہیں۔ان میں اکثریت ان قیدیوں کی ہے جن کے مقدمات میں کم سے کم معیار کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔پاکستان میں ستائیس جرائم پر سزائے موت دی جا سکتی ہے لیکن ان میں سے اکثر کو شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی رو سے سنگین جرائم شمار نہیں کیا جاتا۔
خواتین کے حقوق
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کی اشد ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے صنفی ترقیاتی شماریےمیں پاکستان کا مقام سب سے نیچے تین ملکوں میں آتا ہےاور اقوام متحدہ کے صنفی اختیاراتی پیمانے میں 93 میں سے 82 ویں نمبر پر ہے۔ خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کو ختم کرنے کے لئے قائم عالمی کنونشن سے مطابقت کے لئے پاکستان میں مزید قوانیں کی ضرورت ہے۔جبکہ 2006 سے اب تک جب عصمت دری کو پینل کوڈ میں شامل کیا گیا تھا کوئی نیا قانوں منظور نہیں کیا گیا ہے۔
اگست 2008 میں بلوچستان میں پانچ خواتین کو زندہ دفن کئے جانے کے واقعات پر بر طانیہ نے یورپی یونین کےسرکاری اعلامیے کے ذریعے اس کی شدید مذمت کی تھی اور پاکستان سے اس کے ذمے داروں کو سزادئیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی خواتین کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔تیزاب سے جلادینے،اور عزت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کیسوں کا اندراج کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ البتہ عوامی سطح پر خواتین کی شرکت بڑھی ہے۔ گزشتہ 15 سال میں قومی اسمبلی میں خواتین کی تعداد 2 فی صد سے بڑھ کر 30 فی صد ہو گئی ہے۔ہمیں امید ہے کہ حکومت پاکستان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے مزید اقدامات کرے گی۔ہم ملینئیم ترقیاتی اہداف کے حصول میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تاکہ خواتین اور لڑکیوں کے لئے روزگار، معاشی ترقی، صحت اور تعلیم تک رسائی بہتر ہو سکے۔
مذہبی آزادی
اپنے یورپی یونیں کے ساجھے داروں کے ساتھ مل کر ہم نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال اور توہین رسالت کے قانون کے استحصال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔سرکاری تعصب، فرقہ وارانہ تصادم اور پر تشدد انتہا پسندی سے پاکستان میں اقلیتوں مثلا احمدی، مسیحی اور ہندوؤں کے لئے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اپنے یورپی یونین ساجھےداروں کے ساتھ ہم نے احمدیہ کمیونٹی کی جانب سےحکومت پاکستان سےبات کی تھی،جولائی میں 23 احمدی طلبہ کے میڈیکل کالجوں سے اخراج پر یورپی یونین نے پاکستان میں ہر شہری کے لئے اپنے مذہب کو تسلیم کرنے، اس پر عمل اور اس کے فروغ کے حق پر زور دیا تھا۔ بعد ازاں یہ طلبہ کالجوں میں واپس آگئے تھے۔
جبری گمشدگی اور غیر قانونی نظر بندی
اپریل میں وزیر قانون فاروق نائیک نے اعلان کیا تھا کہ حکومت گمشدہ افراد کی تفصیلات اکھٹا کر رہی ہے اور ان کے بارے مِن معلومات شائع کرے گی۔ہمیں ان رپورٹوں کے بارے میں تشویش ہے کہ ہزاروں افراد کسی عدالتی کارروائی کے بغیر نظر بند ہیں۔اپنے یورپی یونین کے ساجھے داروں کے ساتھ ہم نےپاکستانی حکام سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کے نام سامنے لائیں جنہیں خفیہ طریقے سے نظر بند کیا گیا ہے اور تمام افراد کے تحفظ کے لئے موجود بین الاقوامی کنونشن پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اس پر دستخط کرے اور عملدر آمد کروائے۔
ذرائع ابلاغ کی آزادی
پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی آزادی اب نومبر 2007 میں ایمر جنسی کے نفاذ سے پہلے والی سطح پر ہے۔ تمام نجی چینل کو اجازت ہے۔ فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کا مسودہ کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے۔
بر طانیہ کی کارروائی
ہم حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے دو طرفہ اور یورپی یونین کے ذریعے ہونے والےمعمول کے مذاکرات میں انسانی حقوق کی اصلاحات کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پرایک خوشحال اور مستحکم معاشرے کی تعمیر کی حمایت کے لئے ہمارے عہد کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ہم ایک ایسے فریم ورک کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جو اچھی گورننس، مستحکم جمہوری اداروں اور ترقی و سلامتی کی بنیاد پر ہو۔یہ اداروں کی کمزوری دور کرنے کے لئے ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ ہے۔ اسلام آباد میں ہمارے ہائی کمیشن کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق 26 منصوبوں کو مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے جو عطیات دہندہ تنظیمیوں کے تعاون کے علاوہ ہے۔پبلک ڈپلومیسی فنڈ کے ذریعے ہم خواتین کے حقوق اور تربیت سے متعلق منصوبوں اور انسانی حقوق کے وکلا کا ایک نیٹ ورک تشکیل دینے اور تحقیقی صحافت کو بہتر بنانے کے لئے تعاون فراہم کر رہے ہیں۔پاکستان بھر میں اسکولوں میں انسانی حقوق کا شعور بیدار کرنے کے لئے بھی منصوبے تیار ہو رہے ہیں۔
مستقبل کے لئے
بر طانیہ نے پاکستان میں ایک پائیدار جمہوری عمل سے تعاون کا عہد کر رکھا ہے۔2009 میں ہم اب تک کی پیش رفت کو آگے بڑھائیں گے جس میں ہمارے ساتھ یورپی یونیں ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ شریک رہے گی۔انسانی حقوق کے ساتھ یورپی یونین، اقتصادی ترقی، تجارت، انسداد دہشت گردی ، ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ ، تعلیم اور علاقائی تعاون میں مدد فراہم کرنے اور اس کی حمایت کرنے کا عہد کئے ہوئے ہے۔یورپی یونین الیکشن آبزرویشن مشن کی سفارشات کو ہم آگے بڑھائیں گے ۔ سیاسی اور منصوبہ جاتی رابطوں کے ذریعے ہم انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ اور ان ذمے داریوں کی تکمیل کے لئے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے جو اس نے عالمی انسانی حقوق کے معاہدوں پر دستخط کرکے اپنے ذمے لے رکھی ہیں۔
افغانستان
برطانیہ کی حکومت پرعزم ہے کہ آئندہ طویل عرصے تک وہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی مدد جاری رکھے گی تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے ایک بہتر مستقبل تشکیل دے سکیں۔ ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان قائم کرنے کی صورت میں ہی اسے پھر سے دہشت گردوں کی تربیت گاہ بننے سے بچایا جا سکتا ہے، جو عالمی برادری کے لیے خطرہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس استحکام اور تحفظ کو ممکن بنانے کے لیے انسانی حقوق اور جمہوریت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
حالیہ خدشات
تحفظ
انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ شر پسند عناصر لوگوں کے سرقلم کرنے، انھیں اغوا کرنے، خود کش بم دھماکے کرنے اور این جی او زکے ورکروں اوراسکول جانے والے بچوں پر حملوں کی صورت میں عام شہریوں کو مسلسل اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔
افغان نیشنل آرمی اور پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو تربیت دی جا رہی ہے اور افغان سیکیورٹی فورسز کو اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا اہم کردار ادا کریں۔ افغان فوج میں اس وقت 65ہزار افراد شامل ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ اس سال اس تعداد کو ایک لاکھ بائیس ہزار تک بڑھایا
جا ئے گا۔ افغان پولیس میں اس وقت 76ہزار سپاہی شامل ہیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ پیشہ وارانہ تربیت دی جائے گی تا کہ وہ افغانی عوام کا اعتماد حاصل کرسکیں۔
ہلمند میں فسادات کے خلاف ہماری فوجی کارروائی نے افغانوں کی بہبود اور اچھی گورننس کے مواقع پیدا کیے۔ بہتری کی صورتیں پیدا ہو رہی ہیں لیکن ذرا سست رفتاری سے۔ ترقی کی رفتاران حفاظتی خدشات کی وجہ سے مزید سست ہوئی ہے جو این جی اوز کو درپیش ہیں جب کہ ان میں سے چند این جی اوز نے افغان حکومت سے معاہدے کررکھے تھے کہ وہ اس کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کریں گی۔
طالبان ڈیرے جمانے اور حملے کرنے کے لیے عوامی عمارتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف بین الاقوامی قوتوں کی فوجی کارروائیوں سے عوامی عمارتوں میں شہریوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔شر پسند عناصر کے خلاف کوئی بھی کارروائی بہت سوچ بچار کے بعد ہی کی جاتی ہے جس کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی اور مخصوص ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عوامی نقصان کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکے۔
انتخابات 10-2009
افغانیوں نے جمہوریت کے حق میں فیصلہ دیا تاکہ وہ اپنے لیے رہنماؤں کا انتخاب اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرسکیں۔ یہ بات 2004اور 2005کے کامیاب انتخابات سے واضح ہے۔ صدارتی اور صوبائی کونسل انتخابات کا انعقاد 2009کے موسم خزاں میں متوقع ہے۔ جب کہ پارلیمانی اور ضلعی کونسل کے انتخابات 2010کے موسم بہار میں منعقد ہوں گے۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ عدم تحفظ کی فضا اور ووٹروں کی بے حسی کی وجہ سے ووٹ کم تعداد میں ڈالے جائیں۔ لیکن دسمبر تک ملک کے نصف کے قریب حصے میں کسی بڑی مداخلت کے بغیر جغرافیائی بنیادوں پر ووٹروں کی رجسٹریشن مکمل ہوگئی تھی۔
عورتوں کے حقوق
افغانستان میں بہت سی عورتیں اب بھی سنگین مشکلات اور غیر مساوی رویے کا سامنا کررہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ غربت اورعدم تحفظ ہے۔ قانونی تحفظ کی کمی اور انصاف تک ناکافی رسائی نے ان خدشات کو بڑھا دیا ہے جن کا عورت ایک ایسے معاشرے میں سامنا کررہی ہے جہاں قانون کی حکمرانی پہلے ہی بہت کمزور ہے۔ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی عورتیں سنگین خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔ اس کا اندازہ ہمیں گزشتہ ستمبر میں قندھار میں ایک انتہائی اہم خاتون پولیس افسر کے قتل سے ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی ترقی کا عمل جاری ہے۔اسکول میں داخل ہونے والے بچوں کا تقریباً تیسرا حصہ لڑکیوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح آئینی کوٹے کی مدد سے افغان پارلیمنٹ کے زیریں درجے میں 27فیصد نشستیں عورتوں ہی کے پاس ہیں۔
سزائے موت: سزا کا ازسر نو آغاز
نئے آئین میں افغانستان حکومت نے سزائے موت کو برقراررکھا ہے۔سزائے موت سے متعلق سبھی فیصلے صدر کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ 7نومبر 2008سے سنگین جرائم کے مرتکب سولہ مجرموں کو یہ سزا دی جا چکی ہے۔ یہ اولین سزائیں تھیں جو دی گئیں۔ کیوں کہ 15افراد کو 8اکتوبر کو یہ سزا دی گئی۔ 8اکتوبر 2007تک سزائے موت کو پھر سے استعمال نہیں کیا گیاتھا۔
اظہار رائے کی آزادی
صحافیوں کو دہشت زدہ کرنا ایسے معاشرے میں ایک بڑا ایشو ہے جہاں قانون کی حکمرانی کمزور حالت میں ہو۔ لیکن افغانستان میں میڈیا آزادی کی فضا میں سانس لے رہا ہے۔ وہاں ایک سرکاری اور 16نجی ٹی وی چینلز اور 290اخبارات کام کر رہے ہیں۔ کابل میں سب سے معروف ٹی وی سٹیشن طلوع(صبح) ہے جو ایک نجی سٹیشن ہے۔ اس کے محققانہ صحافتی اور تفریحی پروگرامز نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ افغانستان میں ریڈیو سب سے مقبول ذریعہ مواصلات ہے۔ اس وقت وہاں 60ریڈیو سٹیشن آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ ستمبر میں میڈیا سے متعلق ایک ترقی پسندانہ قانون منظور کیا گیا۔اس قانون سے نہ صرف موجودہ آزادی اظہار رائے کو تحفظ ملے گا بلکہ یہ آزاد میڈیا کی طاقت پرواز کو بھی بڑھائے گا۔
غذائی قلت
غذائی قیمتوں میں عالمی سطح پر غیر معمولی اضافے اور قحط کی وجہ سے ہونے والی ناکافی فصل نے افغانستان میں شدید غذائی قلت پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے 45لاکھ سے زائد افغانی انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور افغان حکومت نے جولائی 2008میں امداد کے لیے درخواست کی تھی تاکہ اس بحران کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن اس کے جواب میں مناسب مقدار میں عالمی امداد حاصل نہیں ہوسکی۔
برطانیہ کی کارروائی
2009-10انتخابات۔۔ ووٹ دینے کے حق کی حفاظت
ہم افغانستان میں ہونے والے انتخابات کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم پہلے ہی ساٹھ لاکھ پاؤنڈ مالیت کی ابتدائی امداد فراہم کرچکے ہیں تاکہ ووٹ رجسٹریشن کا عمل بہتر انداز میں مکمل ہوسکے جو 6اکتوبر کو شروع ہوا اور توقع ہے کہ فروری 2009میں ختم ہوجائے گا۔ ہم دوسرے ملکوں سے مسلسل رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابات کے لیے مالی امداد فراہم کریں۔ انتخابات میں افغان حکومت کی طرف سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ہم آئیساف کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔
عورتوں کے حقوق
عورتوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ہم تین طرح سے کام کرتے ہیں: افغان حکومت کے ساتھ پالیسی کی سطح پر کام کرتے ہوئے، عورتوں کے لیے فائدہ مند قومی سروسز اور پروگرامز کی حمایت کرکے، اور باہمی مفاد کے پروگرامز پر کام کر کے۔ہم افغان حکومت، این جی اوز اور اراکین پارلیمنٹ سے عورتوں کے حقوق سے متعلق امور پر بات کرتے ہیں۔
ہم معاونت فراہم کرنے کے لیے افغان حکومت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں کیوں کہ صنفی عدم مساوات ایک بہت پھیلا ہوا اور قدیم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے مخصوص حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہم افغان حکومت کے ساتھ کام کرتے ہیں یہ یقینی بنانے کے لیے کہ صنفی مساوات کو افغانستان نیشنل ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی (جسے جون میں جاری کیا گیا) کا حصہ بنایا جائے اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں عورتوں کی نمائندگی ہو۔ ہم نے افغان حکومت کے کم مالیتی مالیاتی امداد کے پروگرام کے لیے تین کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ فراہم کیے ہیں تاکہ عورتوں کو مالی امداد کے حصول میں آسانی پیدا ہو۔
ہم نے عورتوں کی این جی او ’وومن کائنڈ‘ کے تحت جاری ہونے والے عورتوں کی بہبود کے منصوبے کے لیے پانچ لاکھ پاؤنڈ مالیت کی امداد فراہم کی ہے۔ یہ منصوبہ 2005سے 2010تک جاری رہے گا۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ گورننس میں عورتوں کی مساوی بنیادوں پر شمولیت میں اضافہ کیا جائے، سول سوسائٹی اور پالیسی سازوں میں عورتوں کے حقوق سے متعلق آگاہی کو بڑھایا جائے، اور دہشت گردی اور تنازعے سے متاثرہ عورتوں کے لیے تعلیمی، طبی، سماجی اور نفسیاتی امداد فراہم کی جائے۔
افغانستان انڈیپینڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے ہلمند صوبے میں موجود ہیں جہاں وہ اگست 2008میں لشکر گاہ میں قائم ہونے والے وومن اینڈ چلڈرن جسٹس گروپ کی معاونت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کی معزز عورتیں اس گروپ کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ گروپ عورتوں اور بچوں کے حقوق اور انصاف سے متعلق امور کی حمایت کے لیے عملی منصوبے تیار اور نافذ کرتا ہے۔
سزائے موت
ہمیں اس بات پر بہت تشویش ہے کہ افغان حکومت نے 7نومبر 2008کو سزائے موت کو پھر سے بحال کردیا۔ اس حوالے سے ہم نے یورپین یونین کے ساتھ مل کر اپنے خدشات کا افغان حکومت سے اور وزارتی سطح پر بھی اظہار کیا ہے۔
اظہار رائے کی آزادی
ہم نے ان انفرادی کیسوں میں مداخلت کی ہے جو صحافیوں کو دھمکیاں دینے سے متعلق ہیں۔ ہم بی بی سی ورلڈ سروس اور بی بی سی ورلڈ سروس ٹرسٹ (ورلڈ سروس کے فلاحی ادارے)کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جن کا مقصد صحافیوں کے اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ ہے۔
غذائی قلت
افغانستان میں (قحط اور عالمی سطح پر غذائی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے) پیدا ہونے والے غذائی بحران کو ختم کرنے کے لیے ہم نے فوری اقدامات کیے اور جولائی میں اقوام متحدہ اور افغان حکومت کی طرف سے کی جانے والی اپیل کے جواب میں غذائی تحفظ کی مد میں اسّی لاکھ پاؤنڈ مالیت کی امداد کا اعلان کیا۔ یہ ان 55لاکھ پاؤنڈ مالیت کی امدادکے علاوہ ہے جو اپیل کے جواب میں زرعی پیداوار کی بحالی کے لیے فراہم کی گئی۔ جب کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی جنوری 2008کی اپیل کے جواب میں دیئے گئے تیس لاکھ پاؤنڈز بھی اس کے علاوہ ہیں۔ ہم نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو انسانی بنیادوں پر چالیس لاکھ پاؤنڈ فراہم کیے تھے۔ یوں موجودہ بحران کو ختم کرنے کے لیے ہم نے جتنی امداد کی ہے اس کی مالیت مجموعی طور پر دو کروڑ پانچ لاکھ پاؤنڈ ہوچکی ہے۔ برطانیہ عالمی برادری کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا کہ وہ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ اور افغان حکومت کی اپیل کے جواب میں امداد کا سلسلہ جاری رکھے۔
تحفظ میں اضافہ
آئیساف کو معاونت فراہم کرنے والے ملکوں میں برطانیہ کا درجہ دوسرا ہے۔ہماری معاونت میں سات آپریشنل نگراں اور رابطہ کاری کرنے والی ٹیمیں شامل ہیں جو افغان فوج کی تربیت میں مدد کریں گی۔ برطانیہ قانون کے نفاذ کو مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔ برطانیہ کا ارادہ ہے کہ وہ 9-2008کے مالی سال میں امتناعات اور قوانین کے نفاذ کی کوششوں پر تین کروڑ دس لاکھ پاؤنڈ صرف کرے۔ کابل اور ہلمند میں یورپین یونین پولیسنگ مشن کی معاونت کرنے والے اہم ملکوں میں ہمارا شمار ہوتا ہے۔ ہم امریکی پولیس کی اصلاح کے پروگرام میں معاونت کے لیے پولیس افسر مہیا کرتے ہیں اور انسداد منشیات پولیس اور ہلمند میں پولیس کی مدد کے لیے باہمی مفاد کے منصوبے جاری کرتے ہیں۔ ہم جیل کی سہولتوں کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے افغانستان کے جیل افسروں کی تربیت کرتے اور نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میں بھی مدد کرتے ہیں۔
ہم کرمنل جسٹس ٹاسک فورس کی بھی معاونت کرتے ہیں۔ یہ فورس منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں کی تفتیش کرتی اور انھیں سزا دیتی ہے۔ ہم افغان حکومت سے بھی رابطے کرتے ہیں تاکہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کیے جائیں اور بین الاقوامی پارٹنرز سے بھی رابطے کرتے ہیں تاکہ وہ قانون کے نفاذ کی کوششوں میں افغان حکومت کی معاونت کو بڑھائیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افغان اداروں کی مدد
ہم افغانستان انڈیپنڈنٹ ہیومن رائٹس کمیشن (اے آئی ایچ آر سی) کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کےعلاوہ ہم نے 10-2009کے ایکشن پلان کی معاونت کے لیے اس مالی سال کے دوران دو لاکھ پاؤنڈ مالیت کی امداد فراہم کی ہے۔افغانستان بھر میں شمال میں بدخشاں سے لے کر جنوب میں ہلمند تک، اے آئی ایچ آر سی کا پانچ سو سے زائدا سٹاف موجود ہے۔ یہا سٹاف عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق اور قید میں رکھے گئے بے گناہ افراد کے حوالے سے کام کرتا ہے۔ ہماری مدد نے اے آئی ایچ آر سی کو اس قابل بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ وہ ماضی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اعداد و شمار محفوظ رکھے، انصاف سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرے اور اس حوالے سے عملی کارروائی کے لیے افغان حکومت سے رابطے کرے۔ اے آئی ایچ آر سی اور دوسری چھوٹی افغان این جی اوز کی معاونت کے ساتھ ساتھ ہم اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور دوسرے عالمی پارٹنرز کے ساتھ مل کر افغانی وزارت انصاف میں ایک ’ہیومن رائٹس سپورٹ یونٹ‘ کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ یونٹ انسانی حقوق کی حفاظت اور ان کے فروغ کے لیے افغان حکومت سے تعاون کرے گا۔
آئیساف کی فورسز اب اس قابل ہیں کہ وہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ریزولیوشنز کے تحت گرفتاری بھی عمل لاتی ہیں۔ برطانیہ کی فورسز افغانستان جانے سے پہلے انسانی حقوق سے متعلق تربیت حاصل کرتی ہیں اوراگر ضروری ہو تو انہیں قیدیوں کی دیکھ ریکھ سے متعلق بھی تربیت دی جاتی ہے۔ آئیساف کی رہنما ہدایات اور برطانیہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کی شرائط کی رُو سے، برطانوی فورسز افغان انتظامیہ کو 96گھنٹوں کے اندر اندر کوئی بھی قیدی منتقل کردیتی ہیں۔ میمورنڈم میں یہ بھی شامل ہے کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور برطانوی افسران اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں جیسے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو قیدیوں سے ملنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ رائل ملٹری پولیس تب تک جیل کے دورے جاری رکھتی ہے جب تک کہ وہ قیدی رہا نہ کردیا جائے یا اسے عدالت سزا نہ سنا دے۔
ہم افغانستان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے لیے مالی امداد کر رہے ہیں۔ 8-2007کے دوران ہم
نے پانچ کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ اس فنڈ کی مد میں دیئے۔ اس سے ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔ اور یوں ہم افغان بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کی بحالی کے لیے مدد کر سکیں گے۔ ان وسائل کی وجہ سے اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔ یہ تعداد 2002میں بیس لاکھ کے قریب تھی جو آج ساٹھ لاکھ کے قریب ہوچکی ہے۔
آئندہ کے لیے امید
برطانیہ اور عالمی برادری ایک ساتھ کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تاکہ ایک محفوظ، مستحکم اور خوش حال افغانستان قائم کرنے میں افغانیوں کی مدد کی جاسکے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے کہ افغانیوں کے حقوق اور نقطہ نظر کی قدر کی جائے اور انہیں ایسے مواقع ملیں کہ وہ اپنے ملک کا انتظام چلانے اور اس کی حفاظت کرنے میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔