Advanced search
image
   
Last updated at 10:08 (UK time) 22 Mar 2010

ایران جوہری مسئلہ اور نوروز

فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے ایران کے جوہری پروگرام اور نوروزکےحوالے سے بی بی سی ریڈیو 4 پر ایک انٹرویو دیا ہے
Iranians gather in Azadi Square, Tehran to listen to a speech by President Mahmoud Ahmadinejad, February 11, 2010. Photo: ATTA KENARE/AFP/Getty Images

 جان ہمفری

آپ نے ایرانیوں کو نوروز کا تہنیتی پیغام دیتے ہوئے انہیں اپنے مستقبل کے عزائم کے بارے میں کھل کر بات کرنے کے لئے کہا ہے ۔اکثر لوگ اسے بغاوت نہیں تو آپ کی اس خواہش کا اظہار قرار دے رہے ہیں کہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

نہیں، میرے پیغام میں ایسی کوئی بات نہیں۔میں نے یہ کہا ہے کہ ایرانی عوام کو کسی تشدد یا نظر بندی یا سڑکوں پر گولی کا نشانہ بنائے جانے یا نمائشی مقدموں میں سزا دئیے جانےکے خوف کے بغیر آزادانہ اپنی رائےکے اظہار کا موقع حاصل ہونا چاہئیے۔برطانوی حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ  ایرانی حکومت کا انتخاب کرے یہ ایرانی عوام کا معاملہ ہے۔لیکن عالمی تشویش کا ایک پہلو میرے خیال میں یہ ضرور ہے کہ ایرانی عوام کوفی الوقت اپنے بنیادی انسانی حقوق منوانے کا حق حاصل نہیں ہے۔بلکہ انہیں عالمی میڈیا سننے یا دیکھنے کی اجازت بھی نہیں۔جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ وہاں بی بی سی اور ڈوئچے ویلے ریڈیو کی نشریات پر بھی پابندی ہے۔لہذا یہ ایرانی حکومت اپنے مستقبل کے بارے میں نروس بلکہ اعصابی خوف کا شکار ہے اور وہ اپنے ہی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے گریزاں ہے لہذا میرے خیال میں ہمارا اس پر بات کرنا صحیح ہے۔

جان ہمفری

تو یہ حکومت ہمیں پسند نہیں۔

ڈیوڈ ملی بینڈ

ہمیں اس کی پالیسیاں پسند نہیں ہیں۔ایرانی صورتحال کے بارے میں سچ یہ ہے کہ وہاں کم از کم تین انتہائی اہم نکات صورتحال کو پیچیدہ بنارہے ہیں۔پہلا یہ کہ ایرانی عوام  گزشتہ انتخابات کے بعد سڑکوں پر نکل آئےکیونکہ اکثر لوگوں کے نزدیک نتائج میں سنگین دھاندلی کی گئی تھی۔دوسرا معیشت، وہ ملک جو اس خطے کا امیر ترین ملک ہونا چاہئیے، پیچھے جارہا ہے کیونکہ حکومت خود معاشی بد انتظامی کا شکار ہے۔اور تیسرا یہ کہ ایران عالمی تنہائی کا شکار ہے اور اس کا سبب اس کا یورینیم کی افزودگی پروگرام کا طریقہ کار ہے جسے عالمی جوہری توانائی ایجنسی پرامن پروگرام قرار دینے سے قاصر ہے۔اور اسی لئے عالمی برادری اس پر خدشات کا اظہار کرتی ہے۔

جان ہمفری

اور اس کی وجہ سے ہم ایران میں کسی اور حکومت کے حق میں ہیں کیونکہ ہم موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں کرتے؟

ڈیوڈ ملی بینڈ

یقینا اس حکومت پر عالمی برادری کو اس کے جوہری پروگرام کے پر امن ہونے کے حوالے سےبہت کم اعتماد ہے۔گزشتہ موسم خزاں میں ایک خفیہ سائٹ کا انکشاف ہوا، اس قسم کی باتوں سے عالمی اعتماد مجروح ہوا ہے۔لیکن ہمارے لئے یہ اہم نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کس قسم کے فیصلے کئے جارہے ہیں خواہ وہ جوہری پروگرام کے بارے میں ہوں یا اپنے عوام کے حقوق کے بارے میں۔ ایران نے حالیہ عالمی پیشکش کو مسترد کردیا ہے جو کم گریڈ یورینیم کی افزائش کے بارے میں تھی جسے طبی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے، لہذا ہمارے پاس دباؤ کو بڑھانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ البتہ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دباؤ بڑھانے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران سے رابطہ ختم کردیں، بلکہ رابطہ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کی وجہ سے میں نہ صرف ایرانی عوام پر دباؤ بلکہ ایران میں عالمی میڈیا پر پابندی کی مذمت کرتا ہوں

ایران: ملکی جائزہ


Search the news archive