ایڈوانس تلاش
image
Last updated at 9:17 (UK time) 18 Mar 2010

انسانی حقوق رپورٹ: پاکستان سمیت 22 ملکوں میں صورتحال تشویشناک

18 March 2010

194 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں جن 22 ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ان میں پاکستان، افغانستان، ایران، سعودی عرب،عراق، اسرائیل اور فلسطینی مقبوضہ علاقے،صومالیہ،روس،چین شامل ہیں
Veiled Pakistani women hold placards as they march at a rally on the eve of International Women's Day in Lahore on March 7, 2010. Photo by Arif Ali/AFP/Getty Images.

 

ڈیوڈ ملی بینڈ نے لنکاسٹر ہاوس لندن میں انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ 2009 ءکے اجرا کے موقع پر ایک تعارفی تقریر کی۔

این جی اوز اور انسانی حقوق کے اسٹیک ہولڈروں کے تقریبا 150 نمائندوں کے اجتماع میں انسانی حقوق کی وزیربیرونس گلینیز کنک بھی موجود تھیں۔

فارن سکریٹری نے انسانی حقوق کے باب میں گزشتہ سال وزارت خارجہ کے چند تکمیل شدہ منصوبوں اور انسانی حقوق پر عملدرآمد میں درپیش چیلنجزپر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا

"ہمیں شہری حقوق کی جدوجہد میں تعاون کرنا چاہئیے۔جب جراتمند مظاہرین جیسا کہ ایران کی سڑکوں پر آنے والے لوگ، جمہوریت ، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوں اور جب ان کی حکومتیں اسے بے رحمی سے کچل دیں تو ہمیں واضح طور یہ بتادینا چاہئیے کہ ہم عوام کے ساتھ ہیں۔

دوسرے ہمیں ملکوں کی مخصوص ضروریات کے لئے عملی امداد فرام کرنا چاہئیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے مقامات پر مثلا ویت نام اور پاکستان میں، شہری معاشرے کو تقویت دینے کے لئے ہمیں منصوبوں کی مالی معاونت کرنا چاہئیے۔بیرونس کنک کی اس نئی ذمے داری کے لحاظ سے ہمیں سعودی عرب اور افغانستان میں عورتوں کو اختیارات حاصل کرنے میں مدد پر توجہ دینا ہوگی۔روس میں صحافیوں،  بیلارس میں انسانی حقوق کے لئے مہم چلانے والوں، شام میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں، کولمبیا میں ٹریڈ یوننیسٹوں اور یوگنڈا، برونڈی اور ملاوی میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لئے لڑنے والے افرادپرجبرکی مذمت کرنا ہوگی۔یہ تمام چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں لیکن ہر ایک اپنی جگہ اہم ہے۔

تیسرے ہمیں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا جو مطلق العنانی کے سامنے خود کو منظم کرنے کی انفرادی اہلیت میں تبدیلی لارہی ہے۔ہمیں اس ٹیکنالوجی کے پھیلاومیں اور روایتی میڈیا جیسے کہ بی بی سی ورلڈ سروس اور اس کی عربی و فارسی نشریات سے تعاون میں اضافہ کرنا چاہئیے جو کہ ان کمیونٹیز کو ایک آواز دینے کی کوشش کر رہی ہیں جوویسے اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے محروم ہیں"

آخر میں فارن سکریٹری نے کہا

" چیلنجز کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آرہا ہے کہ اگلا سال گزشتہ برس سے آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ہم طویل جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔

بارا سال پہلے جب وزارت خارجہ نے پہلی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ شائع کی تھی تو ہمارے پاس کوئی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نہیں تھا، انسانی حقوق کے کوئی ایسے معیار نہیں تھے جو ہتھیاروں کی فروخت کے باب میں ہمارے نقطہ نظر کو کوئی سمت دیتے، 30 ممالک میں سزائے موت رائج تھی جو اب نہیں ہے،اور یہ تصورجڑ نہیں پکڑ پایا تھا کہ حکومتوں پرخود اپنے عوام کو بدترین سلوک سے محفوظ رکھنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔لہذا ہمیں ابھی ایک ساتھ کافی طویل راستہ طے کرنا ہے اور اس میں تحمل، عزم اور کوشش ہی ہمیں آگے لے جائے گی"۔   

مکمل رپورٹ انگریزی میں ملاحظہ کیجئیے


نیوز آر کائیو میں تلاش کیجیئے